اداریــــہ

’بہنوں‘ کے بیچ گینگ وار

 

یوں تو بہنوں کے درمیان محبت و ایثار کا جذبہ غالب عنصر کے طور پر موجود رہتاہے لیکن آج کل ریاستی بہنوں کے بیچ ٹھن گئی ہے۔ شمال مشرقی خطے کی آٹھ ریاستوں میں آسام، میگھالیہ، تریپورہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم، اروناچل پردیش اور سکم شامل ہیں جن کو دولت کی ایک ہندو دیوی کے نام پر ’اَشٹ لکشمی‘ کہا جانے لگا ہے۔ اس سے قبل اس خطے کو ’سات بہنیں‘ کہا جاتا تھا جس میں سِکّم کو ’برادر ریاست‘ کا درجہ حاصل تھا۔ مرکزی وزیر داخلہ شاہ نے اپنے دورہ میں صرف دو ہی دن قبل کہا تھا کہ ’’مجھے بھروسہ ہے کہ آسام اور پورا شمال مشرق سنہ ۲۰۲۴ سے پہلے احتجاج اور دہشت گردی کے راستے سے نکل کر ترقی کے راستے پر چل پڑے گا اور بہت آگے جائے گا۔‘‘ اس دوران امیت شاہ کی قیادت میں شمال مشرقی وزرائے اعلیٰ کے اجلاس بھی ہوئے جن میں چیف سکریٹری اور سربراہانِ پولیس سے بین الریاستی سرحدی تنازعات پر بند کمرے میں تبادلہ خیال کیاگیاتھا۔ لیکن شاہ جی کے وہاں سے واپس ہوتے ہی اس خطے میں جس پیمانے کی خوں ریزی اور حالات کی سنگینی دیکھی گئی وہ ناقابل یقین ہے۔ پارلیمنٹ اور انتخابی ریلیوں میں دہاڑنے والے وزیر داخلہ نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے پیٹھ پھیرتے ہی ان کے وزرائے اعلی یوں آپس میں گینگ وار کرنے لگیں گے۔ شمال مشرق کی آبادی ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق تقریباً ساڑھے چار کروڑ تھی جو ہندوستان کی کل آبادی کا تین اعشاریہ سات فیصد ہے۔ جس میں ۶۸ اعشاریہ ۳۷ فی صد لوگ صرف آسام میں بستے ہیں۔ بعض وجوہات کی بنا پر آزادی کے بعد اس خطے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا سکی۔ سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے دور ۱۹۹۲ میں ’مشرق دیکھو’ پالیسی اختیار کی گئی۔ پلان بجٹ کا دس فی صد اس پس ماندہ خطے کے لیے مختص کیا جانے لگا۔ اب این ڈی اے حکومت نے اس خطے کو ملک سے جوڑنے کے لیے ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے متعدد ترقیاتی راستے اپنائے ہیں۔ لیکن پھر بھی آسام کے مقابلے میں عیسائی غلبے والی ریاستیں ہی تعلیم، صحت اور دیگر میدانوں میں آگے ہیں۔ نتیجتاً سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے آسام کے سرحدی گاؤں سے باشندے میزورم جاتے ہیں۔ ادھر میزورم کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعض علاقے آسام کی سرحد میں شامل ہیں چنانچہ اس نے ایک پولیس چوکی قائم کر دی جس پر آسام نے اعتراض کیا۔ آسام کا یہ ردعمل ’غیر متناسب‘ ہی کہا جائے گا۔ آسام کے پُر جوش لیڈر ہیمنت بسوا سرما کو وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر براجمان کرنے کے پس پشت ان کی یہی قابلیت رہی کہ انہوں نے اسمبلی انتخابات کے دوران ایک نہایت متعصبانہ ایجنڈے پر تشہیری مہم چلائی جس کے پیچھے محض یہ بات رہی کہ کسی طرح مولانا بدر الدین اجمل کی اے آئی یو ڈی ایف اور کانگریس کے اتحاد کو حکومت بنانے سے روکا جائے جس کے لیے بہتان تراشی تک سے کام لیا گیا اور بی جے پی کو کامیاب بنایا گیا۔ سربانند سونووال کے مقابلے میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے سیاسی مینجمنٹ اور دباؤ کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے گدی حاصل کی ہے جس کا اظہار اس بات سے ہو چکا کہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ایک ہفتے تک بی جے پی اپنے وزیر اعلیٰ کے نام کو قطعیت نہیں دے سکی تھی، بالآخر سربانند سونووال کو ہٹا کر ہیمنت بسوا سرما کے نام کا اعلان کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ جب وہ پارٹی کی مرکزی قیادت کو جھکا سکتے ہیں تو ’بڑے بھائی‘ کے کردار میں اپنے خطے کی ’بہن ریاستوں‘ کے ساتھ وہ کچھ بھی کریں ان کو کسی مزاحمت کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔ لیکن میزورم نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی ہمت کی اور آسام کے پانچ پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جنہوں نے میزورم کی ایک پولیس چوکی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب پانی سر سے اونچا ہونے لگا تو دونوں پڑوسی وزرائے اعلیٰ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے لگے بلکہ دھمکیاں بھی دینے لگے جو کہ ملک کی تاریخ میں عدیم المثال ہے۔ اس سے یہ سوال بھی ابھر کر آ رہا ہے کہ کیا مسائل کو حل کرنے کے طور طریقے ملک میں بدلنے لگے ہیں؟ اور کیا مرکزی قیادت اب اتنی بے بس و لاچار ہوچکی ہے کہ ان کو خود ان کے وزرائے اعلی بھی خاطر میں نہیں لا رہے ہیں؟ اس سے قبل راجستھان کی وسندھرا راجے، اتر پردیش کے اجئے بششٹ عرف یوگی آدتیہ ناتھ اور مدھیہ پردیش کے شیوراج چوہان وغیرہم کے پر کترنے کی کوششوں میں مودی اور شاہ کی ناقابل تسخیر تصور کیے جانے والی قیادت بھی مسلسل ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ کرناٹک کے بی ایس یدیورپا نے بھلے کرسی خالی کر دی ہو لیکن آر ایس ایس اور بی جے پی دونوں کی مرضی کی پروا کیے بغیر سیکولر پس منظر رکھنے والے اپنی پسند کے ایک فرد بسوراج بومئی کو اپنا جانشین بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اتراکھنڈ میں تین تین وزرائے اعلیٰ کو بدلنے کی مجبوری جیسے تمام معاملات یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ حکمرانی کے اس ماڈل کو کاری ضرب خود اندرسے لگ رہی ہے جس کے تحت مودی اور شاہ ملک کی زمام کار کو اپنے ہاتھوں میں سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں اور اب تک وہ ملک کے کمزور اور اقلیتی سماجوں کی آڑ لیتے رہے ہیں، لیکن اب جن مسائل کا ان کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان میں ان کا کوئی بہانہ کام نہیں آئے گا۔ بی جے پی نے غالباً سب سے زیادہ مجرمانہ ریکارڈ اور پس منظر والے عوامی نمائندے قانون ساز ایوانوں میں بھیجے ہیں۔ ایسے میں ان کے قائدین کی اشتعال انگیزی کی عادت نے ان کو خود ایک دوسرے سے بھڑا دیا ہے۔ مرکز باہر سے خود کو جتنا مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اندر سے وہ اتنا ہی کمزور ہوتا نظر آ رہا ہے۔ لکشدیپ پر اپنا کنٹرول رکھنے کی نا دیدہ جرات نے وہاں کے عوام کو دلی سے دور کردیا اور ترقی کے ایک بھونڈے اور ماحولیات، نیز عوام دشمن ماڈل کو دیکھ کر وہاں احتجاج کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس سے قبل ہمالیائی ریاست جموں وکشمیر میں شہریوں کو اعتماد میں لیے بغیر بی جے پی نے پی ڈی پی محبوبہ مفتی حکومت میں شمولیت اختیار کر کے آر ایس ایس کے ایجنڈے کے لیے راہیں ہموار کرنا شروع کی تو وہاں بے چینی پیدا ہونے لگی۔ اس پر مستزاد مقامی باشندوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مانند آئین کی شق ۳۷۰ کے اثرات کو یکسر زائل کردیا گیا۔ تمل ناڈو میں دراویڈ تہذیب کے خلاف بیان بازی نیز ہندی زبان تھوپنے کی کوشش اور کیرالا میں سبری مالا مندر کی آڑ میں خود مرکز کے وزیر داخلہ نے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کے لیے عقیدت مندوں کو اکسایا۔ اس طرح ریاستوں کےوفاق کو غیر دانشمندانہ فیصلوں سے متزلزل کرنا مہنگا ثابت ہو رہا ہے چاہے وہ ترقی یا کسی اور نام پر کیوں نہ ہو!
ملک کے عوام کو ترقی اور فلاح وبہبود کے اقدامات کی ضرورت یقیناً ہے لیکن اس سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ آپس میں شیر وشکر ہو کر برادرانہ اعتماد کی فضا میں سانس لے سکیں۔ ملک کے کرتا دھرتا جب تک اس حقیقت کو نظر انداز کرتے رہیں گےتب تک وہ تمام تر مادی ترقیوں کے باوجود دلوں کو جوڑنے میں ناکام رہیں گے اور ٹوٹے ہوئے دل خوابیدہ بھارت کو کبھی بھی ’وِشوَ گرو‘ کے مقام پر نہیں لے جا سکتے۔ چین، میانمار، نیپال، بنگلہ دیش اوربھوٹان سے منسلک بین الاقوامی سرحدوں کے ساتھ اگر ملک کی یہ ساتوں بہنیں شانتی کے ساتھ نباہ نہیں کر سکتیں تو ملک خانہ جنگی کی راہ پر نکل پڑے گا جس کے بعد ملک کی سالمیت پر اٹھنے والے سوالات کا جواب بھی ہمیں تیار رکھنا ہوگا۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 8 اگست تا 14  اگست 2021