’’نوح میں وی ایچ پی کے جلوس پر حملہ بڑی سازش کا حصہ لگتا ہے‘‘، ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کا بیان

نئی دہلی، اگست 1: ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے منگل کو کہا کہ نوح میں وی ایچ پی کے جلوس پر حملہ ایک بڑی سازش کا حصہ لگتا ہے اور زور دے کر کہا کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

پیر کو شروع ہونے والے تشدد میں اب تک پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ نوح میں دو ہوم گارڈز سمیت چار افراد کی موت ہو گئی ہے اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ وہیں گروگرام کی ایک مسجد کو نذر آتش کر دیا گیا ہے اور اس کے نائب امام کو ہجوم نے قتل کردیا ہے۔

کھٹر کا یہ تبصرہ ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد آیا ہے کہ جو لوگ ریاست میں امن کو خراب کرنا چاہتے تھے، انھوں نے ہی نوح میں تشدد کو ہوا دی ہے۔

منگل کو حکام نے گذشتہ روز کے تشدد کے بعد ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

کھٹر نے منگل کی سہ پہر میں نے یہاں وِج اور چیف سکریٹری سمیت سینئر عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی، تاکہ صورت حال کا جائزہ لیا جاسکے۔ ڈی جی پی سمیت سینئر پولیس افسران نے عملی طور پر اس میٹنگ میں شرکت کی۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق کھٹر نے کہا کہ ہر سال ’برج منڈل جل ابھیشیک یاترا‘ نکالی جاتی تھی۔ اس سال بھی یہ یاترا نکالی جا رہی تھی جب یہ واقعات پیر کی دوپہر دو بجے کے قریب پیش آئے۔

کھٹر نے کہا کہ کچھ لوگوں نے سازش کی اور جلوس پر حملہ کیا۔

کھٹر نے کہا ’’یقینی طور پر یہ ایک بڑی سازش کا حصہ لگتا ہے۔‘‘

اب تک 44 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 70 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تحقیقات کے بعد تشدد میں ملوث پائے جانے والے تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

سی ایم نے کہا کہ مرکزی فورسز کی سولہ کمپنیاں اور ہریانہ پولیس کی 30 کمپنیاں بھی نوح پہنچ گئی ہیں اور ضلع میں حالات معمول پر آ گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پڑوسی علاقوں بشمول گروگرام، پلوال اور فرید آباد میں تشدد کے کچھ واقعات رپورٹ ہوئے تھے، لیکن اب امن قائم ہو گیا ہے۔

کھٹر نے کہا کہ احتیاطی اقدام کے طور پر نوح میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور کچھ ملحقہ اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔