خبرو نظر

پرواز رحمانی

ایک جسٹس کی رائے
جسٹس سدھانشو دھولیا نے حجاب سے متعلق اپنے فیصلے میں آئین ہند کے بارے میں کئی اہم اور ٹھوس باتیں کہی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ’’ہمارا آئین باہمی اعتماد کی ایک دستاویز بھی ہے جس کے تحت اقلیت نے اکثریت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے‘‘۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اکثریتی فرقہ جملہ امور میں اقلیت کو اعتماد میں رکھے گا۔ اپنی اکثریت کے زعم میں وہ کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے اقلیت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے۔ اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی اس کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا، حکومت بھی اگر اقلیت کے خلاف غلط اور نازیبا فیصلے کرے تو اس کی اصلاح کے لیے اکثریت اقلیت کا ساتھ دے گی۔ جسٹس دھولیا نے یہ باتیں حجاب سے متعلق اس فیصلے میں کہیں جو کرناٹک ہائی کورٹ نے سنایا تھا جسے چیلنج کیا گیا تو مقدمہ سپریم کورٹ جا پہنچا۔ سپریم کورٹ نے اس کی سماعت کے لیے دو ججوں پر مشتمل ایک بنچ مقرر کی تھی۔ ایک جج سدھانشو دھولیا اور دوسرے ہیمنت گپتا ہیں۔ بنچ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ فیصلے کا سب کو انتظار تھا۔ بالآخر 13 اکتوبر کو فیصلہ سنایا گیا، مگر دونوں ججوں نے یکسر مختلف رائے دی۔ جسٹس دھولیا نے حجاب کے حق میں رائے دی جبکہ جسٹس گپتا نے کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
اب عدالت عظمیٰ کی باری ہے
کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے میں اسکولوں اور کالجوں میں حجاب کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی تھی اور یونیفارم کو لازمی قرار دیا تھا۔ جسٹس دھولیا نے اس پر کہا ہے کہ طالبات کو حجاب اتارنے پر مجبور کرنا ان کی عزت و وقار پر حملہ ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ اور ریاستی حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ اب سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ اس پورے معاملے پر غور کر کے اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس میں معلوم نہیں کتنا وقت لگے گا۔ جسٹس دھولیا نے سوال کیا کہ امن عامہ، صحت عامہ اخلاقی اقدار اور شائستگی کے خلاف حجاب یا پردہ کیوں کر ہو سکتا ہے، کیا حجاب سے یہ اقدار متاثر ہو جاتی ہیں؟ جسٹس دھولیا نے کہا کہ کرناٹک میں حجاب پر عائد پابندی ختم کی جائے یعنی طالبات کو حجاب پہننے یا نہ پہننے کی آزادی بحال کی جائے۔ تمام مسلمانوں اور ان کی جماعتوں، مسلم پرسنل لا بورڈ، جمیعۃ علما، جماعت اسلامی ہند، ملی کونسل اور بیشتر شہریوں نے جسٹس دھولیا کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ مسلم طالبات کے علاوہ کئی غیر مسلم طالبات نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ اب مسلم قیادت کی کوشش ہے کہ مزید دلائل کے ساتھ جسٹس دھولیا کی بحث کو اور مضبوط بنایا جائے۔ مسلم علما اور دانشور بھی اپنے دلائل پیش کریں۔
سول سوسائٹی کہاں ہے
بتانے کی ضرورت نہیں کہ ملک میں یہ نا خوشگوار صورت حال حکمراں گروہ کے شر پسندوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ویسے تو اس گروہ کے اقتدار حاصل کر لینے کے بعد اس کی شر انگیزیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے اقتدار کی تاریخ جو محض آٹھ سال ہے، شر انگیزیوں اور فتنہ و فساد سے بھری ہوئی ہے۔ موجودہ نوپور معاملہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ وہ تو مسلمان ضبط و تحمل سے کام لیتے ہیں، ان کی شرارتوں کا نوٹس نہیں لیتے ورنہ پوے ملک کی سرزمین جھگڑے فساد سے بھر جائے۔ ان شرپسندوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ مسلمان منفی رد عمل ظاہر کریں اور لڑائی میں مقابلے پر آئیں تاکہ ملک میں فسادات بھڑکیں اور انہیں سیاسی فائدہ ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ آخر سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ کیا ملک میں ایسا کوئی گروپ ایسا موجود نہیں ہے جو ان لوگوں کو سمجھا سکے کہ فتنہ و فساد سے یہ ملک تباہ ہو جائے گا، نتیجے میں ان لوگوں کو بھی کچھ نہیں ملے گا جو وقتی سیاسی فائدے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔ مخالف سیاسی پارٹیوں میں بھی کوئی دم خم نہیں رہ گیا ہے۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ یہ ملک انارکی اور مطلق العنانیت کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سول سوسائٹی کہیں نظر نہیں آتی۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 23 اکتوبر تا 29 اکتوبر 2022