حضرت محمد ﷺ ایک عظیم فاتح

جانی دشمنوں سے رحمدلانہ برتاوکی ایک بے نظیر تاریخ

جاویدہ بیگم ورنگلی

جنگ و جدل کی کہانی کوئی نئی نہیں ہے۔ جب سے دنیا وجود میں آئی انسانوں کا انسانوں سے کسی نہ کسی بات پر ٹکراؤ ہوتا رہا ہے۔ اس ٹکراؤ میں کوئی جیت جاتا ہے تو کوئی ہار جاتا ہے۔ جو جیت جاتا ہے اس کے سرپر بڑائی کا گھمنڈ سوار ہوجاتا ہے۔ یہ بڑائی کا گھمنڈ اس کو مفتوح کے ساتھ بربریت کا سلوک کراتا ہے اور وہ مفتوح کو کچل کر رکھنے میں ہی بڑائی سمجھتا ہے۔ اس بڑائی کا جنوں اس کے سرپر اس طرح سوار رہتا ہے کہ اپنے ہی جیسے انسانوں کے سرکاٹ کر کٹے ہوئے سروں کا مینار بناکر خوش ہوتا ہے تو کوئی انسانوں کا خون بہا کر خوش ہوتا ہے تو کوئی مفتوح قوم کے سروں کو اپنے سامنے عاجزی سے جھکا ہوا دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اس طرح ہر فاتح اپنی انا کی تسکین کا سامان کرتا رہا ہے۔ فاتحین کے ظلم و بربریت کے واقعات سے تاریخ بھری ہوئی ہے جو انسانیت کا درد رکھنے والوں کے ہوش اڑادینے والی ہے کیونکہ اب انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس جیسا انسان اتنا درندہ صفت کیسے بن سکتا ہے؟ یہ فتح و کامرانی ایک ایسا نشہ ہے جو انسان کو انسانیت کے سطح سے گرا کر درندہ صفت بنادیتا ہے۔ صحیح عقیدہ میں وہ قوت ہے جو انسان کو انسانیت کے سطح سے گرنے نہیں دیتی۔ صحیح عقیدہ رکھنے والا فتح و کامرانی کو اپنی کوششوں کا نتیجہ نہیں سمجھتا بلکہ اللہ کا فضل سمجھ کر اپناسر اللہ کے سامنے احساس شکر سے عاجزی سے کے ساتھ جھکا دیتا اور وہ شکست سے مایوسی کا شکار نہیں ہوتا بلکہ نئے عزم سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اپنی ناکامیوں کا جائزہ لیتا ہے۔ شکست کے اسباب کو تلاش کرتا ہے۔ اپنی ان خامیوں کو دور کرتا ہے جو شکست کا باعث بنیں۔ اس طرح زندگی کے ہر معاملہ میں توازن رکھتا ہےنہ شکست سے مایوس ہوتا ہے نہ فتح کی خوشی میں آپ ے سے باہر ہوجاتا ہے اور نہ اس کے سر میں فتح کا گھمنڈ پیدا ہوتا ہے بلکہ فتح کو اللہ کا فضل سمجھ کر اس کا سر نہایت عاجزی سے اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے۔
دنیا نے پہلی بار ایک ایسے فاتح کو دیکھا جس کا سر عاجزی سے اس طرح جھکا ہوا تھا کہ بار بار اونٹ کی کوہان سے لگ رہا تھا۔ حضرت محمد ؐایک فاتح کی حیثیت سے اس شہر میں داخل ہورہے تھے جس کے باشندوں نے آپ ؐسے دشمنی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔ آپؐ ایک فاتح کی حیثیت سے جب مکہ میں داخل ہورہے تھے تو اہل لشکر کو ہدایت کردی کہ صرف اس شخص پر ہاتھ اٹھائیں جو ان پر ہاتھ اٹھائے۔ جب سعد بن عبادہؓ جو انصار کے ایک دستے کے سربراہ تھے ابو سفیان ( جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے) کو جب اپنے سامنے سے گزرتے دیکھا تو وہ کہنے لگے آج گھمسان کا دن ہے اور خونریزی کا دن ہے آج کعبہ میں سب جائز ہوگا، جب یہ بات نبیؐ کو معلوم ہوئی تو اس کو نا پسند فرمایا اور کہا کہ آج تو رحم و معافی کا دن ہے آج اللہ تعالیٰ قریش کو عزت عطا کرے گا اور کعبہ کی عزت بڑھائے گا۔ پھر آپؐ نے حضرت سعدؓ کو بلا بھیجا اور اسلامی پرچم ان سے لے کر ان کے صاحبزادے قیسؓ کے حوالے کیا۔
نبی ؐ نے فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوتے وقت فوج کو خصوصی یہ ہدایات دیں۔
(۱) جو شخص ہتھیار پھینک دے اسے قتل نہ کیا جائے (۲) جو شخص خانہ کعبہ میں چلا جائے اسے قتل نہ کیا جائے (۳) جو اپنے گھر میں بیٹھ جائے اسے قتل نہ کیا جائے (۴) جو شخص ابوسفیان کے گھر چلا جائے اسے قتل نہ کیا جائے (۵) جو شخص حکیم بن حزام کے گھر چلا جائے اسے قتل نہ کیا جائے (۶) بھاگنے والوں کا تعاقب نہ کیا جائے (۷) زخمی کو قتل نہ کیا جائے (۸) اسیر کو قتل نہ کیا جائے ۔
آپ نے اس کا بھی حکم فرمایا کہ اہل مکہ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کے سلسلے میں مکمل احتیاط برتی جائے اس میں مطلق دست درازی نہ کی جائے۔
دنیا نے اس فاتح کو اپنی فوج کو قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے کی ہدایت دینے کے بجائے انسانوں کی ہمدردی ان کی خیر خواہی میں ایسی ہدایات دیتے ہوئے پہلی بار دیکھا ہوگا۔
نبی ؐ اور آپؐ کی فوج پورے امن و سکون کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئی۔ آپؐ کعبے میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے حکم دیا کہ کعبہ کے اندر سے تمام بت نکال دیے جائیں۔ آپؐ نے کعبہ کا طواف کیا پھر ایک نہایت اہم تاریخی خطبہ دیا جس کے کچھ حصے احادیث میں نقل ہوئے ہیں جو یہ ہیں
اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اس نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور تمام جتھوں کو توڑ دیا۔ ہاں سن لو۔ تمام فخر و غرور تمام پرانے قتل و خون کے بدلے اور تمام خوں بہا سب میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ صرف کعبہ کی تو لیت اور حجاج کرام کو پانی پلانا۔ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اے اہل قریش! اب خدا نے جاہلیت کا غرور اور نسب پر فخر کرنا مٹادیا ہے۔ تمام لوگ آدم کی نسل سے ہیں اور آدم مٹی کے بنے تھے۔ پھر آپؐ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۤٮِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۗ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللٰهِ اَ تْقٰٮكُمْ ۗ اِنَّ اللٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ(الجرات ۱۳)
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تمہارے قبیلے اور خاندان بنائے تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے سے پہچان لیے جاو۔ لیکن خدا کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگا ہے یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا باخبر ہے۔
یہ ہے ایک فاتح کا انداز جس کو فاتح انقلاب کہنا بالکل بجا ہوگا۔ آپؐ وہ فاتح ہیں جنہوں نے انسانوں کے زندگی میں ایک ایسا انقلاب پیدا کیا تاریخ جس کی کوئی نظیر پیش نہیں کرسکتی۔
یہ وہ فاتح ہے جس کے دل میں دشمنوں کے خلاف نہ کوئی غصہ ہے نہ نفرت۔ جو اپنے دشمنوں کو پیغام امن دیتا ہے اور کہتا ہے ’’آج تم پر کوئی الزام نہیں، جاو تم سب آزاد ہو، نبیؐ کے اس غیر معمولی رحمدلانہ برتاو کا یہ اثر ہوا کہ بڑے بڑے سرکش سردار آپؐ کے سامنے جھک گئے ۔ آپؐ ایک ایسے فاتح ہیں جو دلوں کو فتح کرتے ہیں۔ تاریخ اس باب کی گواہ ہے۔ آپؐ نے اپنے اخلاق سے دلوں کوفتح کرلیا۔
***

 

***

 دنیا نے پہلی بار ایک ایسے فاتح کو دیکھا جس کا سر عاجزی سے اس طرح جھکا ہوا تھا کہ بار بار اونٹ کی کوہان سے لگ رہا تھا۔ حضرت محمد ؐایک فاتح کی حیثیت سے اس شہر میں داخل ہورہے تھے جس کے باشندوں نے آپ ؐسے دشمنی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔ آپؐ ایک فاتح کی حیثیت سے جب مکہ میں داخل ہورہے تھے تو اہل لشکر کو ہدایت کردی کہ صرف اس شخص پر ہاتھ اٹھائیں جو ان پر ہاتھ اٹھائے۔


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 23 اکتوبر تا 29 اکتوبر 2022