مسلمانوں کو مذہب نہیں  پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن ملنا چاہئیے

وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ مسلمانوں کے ریزر ویشن کے خلاف بیان کے درمیان بہار میں راشٹریہ جنتا دل کے سپریم لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ لالو یادو کا بڑابیان

نئی دہلی ،07مئی :۔

لوک سبھا انتخابات کے تیسرے مرحلے  کی ووٹنگ آج مکمل ہو گئی۔آئندہ چوتھے مرحلے کے لئے پارٹی لیڈران سر گرم ہو گئے ہیں ۔انتخابی تشہیر کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ کانگریس پر حملہ کرنے کے بہانے مسلمانوں کے ریزر ویشن پر تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے۔وزیر اعظم مسلسل اپنی تقریر میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور خاص طور پر ریزرویشن کے تعلق سے پوری انتخابی تشہیر ہندو مسلمان میں تبدیل کر دیا ہے۔ دریں اثنا بہار کے راشٹریہ جنتا دل کے سپریم لیڈر لال پرساد یادو نے مسلمانوں کے ریزر ویشن کے تعلق سے ایک بڑا بیان دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق منگل کو آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن ملنا چاہئے۔ لالو یادو نے بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ وہ آئین اور جمہوریت کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے لالو یادو نے کہا کہ اس الیکشن میں ووٹ ہماری طرف جا رہے ہیں۔ بی جے پی والے اس سے خوفزدہ ہیں اور وہ صرف لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں۔ بی جے پی والے آئین اور جمہوریت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ عوام یہ سمجھ چکی ہے۔ مسلمانوں کو ریزرویشن کے سوال پر انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ریزرویشن ملنا چاہئے۔

لالو یاد وکے اس بیان پر ہنگامہ کھڑا ہونا لازمی  تھا ۔ دریں اثنا انہوں ن اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے ایکس پر لکھا ہے کہ مسلمانوں کو مذہب نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن ملنا چاہئے۔لالو نے منگل کی دوپہر ایک بار پھر ریزرویشن پر اپنے خیالات کا اظہار سوشل میڈیا ایکس پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کیا ہے اور ایکس پر اس بارے میں لکھا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ ریزرویشن کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ سماجی پسماندگی ہے۔ پی ایم کو اتنی بھی سمجھ نہیں ہے۔ ہم نے منڈل کمیشن کو نافذ کیا ہے۔

لالو یادو نے سوال اٹھایا کہ کیا نریندر مودی نے منڈل کمیشن اور اس کی سفارشات کو کبھی پڑھا ہے؟ منڈل کمیشن میں 𝟑𝟓𝟎𝟎 سے زیادہ کو ریزرویشن ملتا ہے، جس میں دیگر مذاہب کی سینکڑوں ذاتوں کو بھی ریزرویشن ملتا ہے۔

 

Rashtriya Janata Dal (RJD) Chief Lalu Prasad Yadav. File.