دلت مسلم و عیسائی کوٹہ:کیا 7 دہائیوں کی نا انصافیوں کا ازالہ ہوپائے گا؟

سابق چیف جسٹس آف انڈیا کے جی بالاکرشنن کی قیادت میں دلت مسلم اور عیسائیوں کی سماجی صورتحال کے جائزہ کےلیے کمیشن کا قیام

نور اللہ جاوید، کولکاتا

کیا کمیشن واجبی سفارشات کرے گا یا محض معاملہ ٹالنے کی پالیسی میں مددگار ثابت ہو گا؟
5 اکتوبر کو عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور دلی حکومت میں وزیر راجندر پال گوتم کی موجودگی امبیڈکر بھون دلی میں دلت ہندوؤں کی بابا صاحب امبیڈکر کے 22 پرتیگیاوں کے حلف کی تقریب نے قومی دارالحکومت میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ ’’ہندوؤں کے خلاف سازش‘‘ کے پرانے راگ الاپے جانے لگے۔ شور و ہنگامہ اس قدر برپا تھا کہ اگلے دو دنوں میں راجندر پال گوتم کو کیجریوال کی کابینہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ عام آدمی پارٹی نے راجندر پال کی حمایت کرنے کی بجائے گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابات کی خاطر اس پورے معاملے میں خاموشی اختیار کر کے یہ واضح کر دیا کہ سماجی اور معاشرتی مسائل کے مقابلے میں اسے سیاسی مفاد زیادہ عزیز ہے۔ عام آدمی پارٹی بھی بی جے پی کی طرح اکثریت نواز سیاست کی حامی ہے۔ اسی لیے اسے سماجی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کے بجائے عام خاموشی اختیار کرلینے میں ہی عافیت نظر آئی۔ اسی ہنگامہ کے درمیان دلی بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ پریش صاحب سنگھ ورما مسلمانوں کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے نظر آئے۔ دوسری طرف بی جے پی کے ممبر اسمبلی نند کشور گوجر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے رہے۔ وشو ہندو پریشد کے پروگرام میں انہوں نے فروری 2020ء میں پیش آنے والے شمالی دلی فسادات میں اپنے رول کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہی ڈیڑھ لاکھ ہندوؤں کو دلی لا کر انہیں (مسلمانوں) سبق سکھایا اور ہم ان جہادیوں کو آئندہ بھی ماریں گے‘‘۔ بی جے پی لیڈروں کے نفرت اگلتے ہوئے بیان کا نوٹس لینے کے بجائے دلی پولیس عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی و سابق وزیر راجندر گوتم پال سے پوچھ تاچھ کر کے ہزاروں ہندوؤں کے بابا صاحب کے 22 پرتیگیاوں کے پیچھے سازش کا پتہ لگا رہی تھی۔ گوتم پال کو دس گھنٹے پولیس اسٹیشن میں بٹھا کر پوچھ تاچھ کی گئی۔ان پر ہندوؤں کے خلاف سازش کرنے کا اعتراف کرنے کے لیے دباو ڈالا گیا۔مگر ان دونوں نفرت پھیلانے والے لیڈروں کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا۔ دراصل یہ ملک میں بھید بھاو، تعصب اور نسلی امتیازات کا بدترین نمونہ ہے۔ راجندر گوتم کا تعلق نچلی ذات سے ہے اس لیے ان کے خلاف فوری کارروائی شروع کر دی گئی۔ قتل عام کی عام دھمکی اور مسلمانوں کے بائیکاٹ کرنے والوں کا تعلق نام نہاد اعلی ذات سے تھا اس لیے انہیں نوٹس دینا بھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔
سماجی نا انصافی، تعصب اور بھید بھاو کے خاتمے، مساوات اور برابری کا احساس دلانے اور یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے ہی ملک میں ریزرویشن کا نفاذ کیا گیا تھا مگر 75 برس گزر جانے کے باوجود آج بھی ملک میں دلت طبقے کے خلاف ظلم و زیادتی کاسلسلہ جاری ہے۔ صدر جمہوریہ کے منصب جلیلہ تک پہنچنے کے باوجود ایک دلت صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ملک کے باوقار عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود جب انہیں سماجی انصاف نہیں مل رہا ہے تو عام لوگوں کا کیا حال ہو گا؟ چنانچہ آج بھی بہار، یو پی، راجستھان، گجرات اور دیگر ریاستوں میں دلتوں کو گھوڑے پر بارات لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ دلتوں کے لیے مونچھ رکھنا جرم ہے۔ یہ اونچی ذات کے ہندوؤں کا شیوہ ہے۔ راجندر پال گوتم کو درد و کرب کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ’’وہ ہمیں نہ ہندو سمجھتے ہیں اور نہ ہی انسان، اگر ہمیں انسان سمجھا جاتا تو ہمیں مندر میں جانے کی اجازت ہوتی، مونچھ رکھنے پر ہمارے نوجوانوں کے ساتھ مار پیٹ نہیں ہوتی۔ ہمارے بچوں کو اسکولوں سے نہیں نکال دیا جاتا ‘‘۔آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے اسی ہفتے’’ہندو سماج میں ذات پات ، بھید بھاو اور چھوت چھات کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنے بزرگوں کی غلطیوں کا اعتراف کر کے ’’ورنا‘‘ کا نظام ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہو گا‘‘۔ بھاگوت کے اس بیان نے قومی میڈیا میں خوب سرخیاں بٹوریں اور اس کو ایک نئی شروعات سے تعبیر کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی آر ایس ایس ’’ورنا‘‘ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے؟ بھاگوت سے قبل آر ایس ایس کے ایک اور سرسنچالک بالا صاحب دیورس نے بھی ذات پات کے نظام کو ختم کرنے کی بات کہی تھی۔ ایم ایس گولوالکر نے اپنی کتاب ’پنچ آف تھاٹ‘ میں بھی ذات پات کی تفریق کے خاتمے کی بات کہی تھی مگر ان بیانات کا کیا حاصل ہوا۔ کیا سماجی نا ہمواری اور ظلم و زیادتی کا سلسلہ رک گیا۔ ظاہر ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوا۔
سماجی بھید بھاو اور ذات پات کی تفریق اور نسلی منافرت کا خاتمہ کرنے والے اسی ساورکر کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں جس نے ذات پات کی تفریق کی وکالت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ بھید بھاو اور چھوت چھات کا نظام نہیں ہوتا تو آج مسلم اور عیسائیوں کا ہم مقابلہ کر پاتے۔ آج بھی منوسمرتی (مذہبی کتاب) ان کے لیے مقدس ہے جس میں سماجی تفریق اور طبقاتی نظام اور بھید بھاو کی تعلیم دی گئی ہے۔ آر ایس ایس کے قول و عمل میں تضاد کا اندازہ لگانے کے لیے 13 سال کی عمر میں 1987ء میں آر ایس ایس کی ’رام جنم بھومی‘ تحریک میں شامل ہونے والے راجستھان کے ایک دلت خاندان کے فرد بھنور میگھونشی کی خود نوشت کتاب ’’I Could Not Be Hindu‘‘ (میں ہندو نہیں ہو سکتا) کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ بھنور میگھونشی بتاتے ہیں کہ وہ رام مندر کی تعمیر اور ہندو راشٹر کے قیام کے لیے 13 سال کی عمر میں ہی آر ایس ایس میں شامل ہو گئے تھے۔آر ایس ایس میں وہ تیزی سے ترقی کر رہے تھے اور کم عمر میں ہی ضلع انچارج بھی بنا دیے گئے مگر ان کے گھر کے کھانے کو نام نہاد اعلیٰ ذات کے سیوک سنگھ جو رات دن ان کے ساتھ مل کر ہندو راشٹر کے قیام کی بات کرتے تھے اس لیے پھینک دیتے تھے کہ یہ کھانا ایک دلت کے گھر تھا۔ اس واقعے نے بھنور میگھونشی کو اس قدر دل برداشتہ کر دیا کہ وہ آر ایس ایس سے دور ہوتے چلے گئے اور آج وہ امبیڈکر وادی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
دلت اور پسماندہ ذات برادری کے ساتھ نا انصافی، بھید بھاو کی تاریخ ملک میں کئی سو سال پرانی ہے۔ بابا صاحب امبیڈکر کہتے ہیں کہ ’’ذات پات کی تفریق کے بغیر ہندو سماج زندہ ہی نہیں رہ سکتا ہے۔ چنانچہ کئی سالوں تک ذات پات کی تفریق کے خاتمے کے لیے تحریک چلانے کے بعد امبیڈکر اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ ہندو رہ کر اس تفریق کا خاتمہ نہیں کر سکتے ہیں لہٰذا انہوں نے 14 اکتوبر 1956ء کو ناگپور میں ساڑھے تین لاکھ ہندوؤں کی موجودگی میں بدھ مذہب اختیار کر لیا۔ بھارت میں اجتماعی تبدیلی مذہب کا یہ سب سے بڑا واقعہ تھا۔ نام نہاد اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے مظالم و زیادتی سے تنگ آکر ملک کی آزادی سے قبل بھی اور بعد میں بھی بڑے پیمانے پر دلت، عیسائی اسلام اور بدھسٹ مذہب اختیار کرتے رہے ہیں۔ مگر تبدیلی مذہب کے واقعات کے اسباب کو جاننے اور انہیں ختم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرنے کے بجائے انہیں سیاسی پروپیگنڈے اور مواقع کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مشہور صحافی سعید نقوی اپنی خود نوشت ”Being The Other:The Muslim in India” میں فروری 1981ء میں تمل ناڈو کے میناکشی پورم میں 558 دلت ہندوؤں کے اجتماعی طور پر مسلمان ہونے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تبدیلی مذہب کے ہر واقعے کے بعد ہندو لیڈر سر پر آسمان اٹھا لیتے ہیں مگر اس کے سماجی اسباب اور وجوہات کا جائزہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ آج بھی ذات پات، چھوت چھات اور بھید بھاو جیسی سماجی لعنت عفریت بن کر ملکی سماج کو برباد کر رہی ہے۔ یہ مسئلہ آج بھی زندہ ہے۔
2007ء میں اسٹالن کی ہدایت کاری میں بننے والی دستاویزی فلم ’’انڈیا انٹچڈ‘‘ ملک میں ذات پات پر مبنی تعصبات کا احاطہ کرتی ہے۔ اس دستاویزی فلم کے ایک دہائی سے زائد کا عرصہ بیت جانے کے بعداسٹالن کے کہتے ہیں ’’ذات پات کی بنیاد پر امتیاز آج بھی بھارت میں عام ہے۔ گجرات، کیرالا اور تمل ناڈو میں دلت اور غیر دلت عیسائیوں کے لیے الگ الگ چرچ موجود ہیں اور الگ الگ قبرستان بھی۔ گجرات میں، ونکر، والمیکی اور دیگر دلت برادریوں سے عیسائیت اختیار کرنے والے عیسائیوں کو پٹیل اکثریتی علاقے میں مکان حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیرالا میں عیسائیت کی پیروی بائبل سے کم اور ذات پات کے شعور سے زیادہ ہے۔ پلایا عیسائیوں اور پرایا عیسائیوں کے لیے مختلف چرچ ہیں۔ دلت مسلمان ملک کے تمام حصوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ دستاویزی فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلمان بھی ذات پات کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔ خان، شیخ، سید، اور پٹھان برادری سے تعلق رکھنے والے ناٹ، پمادیہ، ہلالکھور، بھنگی، بھٹ اور دھوبی مسلم برادریوں سے خود کو الگ تسلیم کرتے ہیں اور اشراف و اراذل کے طور پر تقسیم کرتے ہیں۔ یعنی دلت برادری کو دوسرے مذہب میں تبدیل ہونے کے بعد بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا ہے۔ فرسٹ بیک ورڈ کلاس کمیشن، جسے کاکا کالیلکر کی سربراہی میں کالیلکر کمیشن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے 1955ء میں سفارش کی تھی کہ ’’ذات کی بیماری کے ختم ہونے سے پہلے اس کے بارے میں تمام معلومات کو طبی ریکارڈ کی طرح سائنسی انداز میں ریکارڈ اور درجہ بندی کرنا ضروری ہے‘‘ ۔1969ء میں پہلی پارلیمانی کمیٹی برائے اچھوت اقتصادی اور تعلیمی ترقی برائے درج فہرست ذات نے طے کیا کہ ’’تمام درج فہرست ذاتیں جو ہندو مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کو قبول کرتی ہیں انہیں درج فہرست ذاتوں کو دستیاب تمام رعایتیں دی جانی چاہئیں‘‘۔
بھارتی آئین کا آرٹیکل 341صدر جمہوریہ کو مختلف ذاتوں اور قبائل کے ناموں کو خصوصی فہرست ذات (شیڈول کاسٹ) میں شامل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ 1950ء میں اس وقت کے صدر نے ایک آرڈیننس کے ذریعے ایک شیڈول جاری کیا تھا جس میں شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والوں کو ہندو مذہب سے جوڑ دیا گیا یعنی مذہب ترک کر دینے والے دلت شیڈول کاسٹ کی فہرست سے نکل جائیں گے۔ اس آرٹیکل میں دو اہم دفعات ہیں، پہلی شق میں کہا گیا ہے کہ صدر عوامی نوٹیفکیشن کے ذریعے ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی کسی بھی ذات کو درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل میں شامل کر سکتے ہیں۔جبکہ اس کی دوسری شق میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ صدر کے عام اعلامیہ کے ذریعے درج فہرست ذاتوں یا قبائل میں شامل کسی بھی ذات یا برادری کو اس فہرست سے خارج کر سکتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس وقت امبیڈکر زندہ تھے لیکن انہوں نے اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا۔ اس سے متعلق واضح اشارے ماضی کی تواریخ میں نہیں ملتے ہیں۔ تاہم بعد میں سکھ برادری کے مطالبات پر 1956ء میں ایس سی کوٹہ سے فائدہ اٹھانے والوں میں دلت نسل کے سکھ کو شامل کر دیا گیا۔ 1990ء میں بودھوں کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے دلت بودھوں کو بھی درج فہرست ذاتوں میں شامل کر دیا گیا۔ اب شیڈول کاسٹ ہندو، سکھ اور بدھ مت کے پیرووں کو بھی ریزرویشن کا فائدہ مل رہا ہے۔
1950ء میں صدر جمہوریہ کا یہ آرڈی نینس بھارت کے آئین کی روح کے خلاف ہے۔ بھارتی آئین مذہبی بنیادوں پر تفریق کا حامی نہیں ہے، نہ ہی مذہبی بنیاد پر وہ ریزرویشن کی سفارش کرتا ہے۔ اس کے باوجود 1950ء میں شیڈول کاسٹ میں شامل ہونے والے ذات اور برادری کے تعین کرتے وقت مذہبی تفریق کو پیش نظر رکھا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ سراسر آئین مخالف قدم تھا۔ اس کے پیچھے یہ دلیل دی جاتی رہی کہ اسلام یا عیسائیت اختیار کرنے کی وجہ سے دلتوں کی سماجی، معاشرتی صورت حال تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ چھوت چھات اور بھید بھاو سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ مگر ماہرین بتاتے ہیں کہ اسلام اور عیسائیت کو اس میں شامل نہ کرنے کی اصل وجہ تبدیلی مذہب کو روکنا تھا۔ کم سے کم ریزرویشن کے بہانے کوئی بھی دلت اسلام یا عیسائیت کو اختیار نہیں کرے گا۔ 1950ء کے صدر جمہوریہ کے آرڈی نینس کو 72 سال گزر چکے ہیں۔ گزشتہ 72 سالوں میں شیڈول کاسٹ میں شامل ہونے کے لیے مسلم دلت اور عیسائیوں کی تنظیمیں قانونی اور جمہوری کوششیں کر رہی ہیں۔ جسٹس سچر کمیٹی اور جسٹس رنگا ناتھ مشرا کمیشن نے مسلم دلت اور دلت عیسائیوں کے لیے ریزرویشن کی سفارشات کیں۔ ان دونوں کمیشنوں کی رپورٹ کے عام ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں مختلف تنظیموں اور افراد نے ریزرویشن کو مذہبی غیر جانبدار بنانے کے لیے عرضیاں دائر کیں۔ جنوری 2020ء میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے جسٹس سنجے کشن کول، اے ایس اوکا اور وکرم ناتھ کی بنچ نے کہا کہ وہ دن آ گیا ہے کہ ریزرویشن کو مذہبی غیر جانب دار بنایا جائے۔ اس کے لیے ان عرضیوں پر غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔30 اگست 2022ء کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو تین ہفتے میں اس معاملے میں موقف پیش کرنے کی ہدایت دی۔ 11 اکتوبر کو اس معاملے کی سماعت ہونی تھی مگر 6 اکتوبر کو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن کی قیادت میں تین رکنی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔اس کمیٹی میں سابق آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر رویندر کمار جین اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی رکن پروفیسر سشما یادو شامل ہیں۔ سماجی انصاف اور اختیارات کی مرکزی وزارت نے کہا کہ کمیشن ایک دلت شخص کے عیسائیت یا اسلام قبول کرنے کے بعد ہونے والی تبدیلیوں اور انہیں شیڈول کاسٹ کے زمرے میں شامل کرنے کے وسیع اثرات کا جائزہ لے گا۔وزارت کی جانب سے جاری ریلیز کے مطابق ’’یہ مسئلہ بنیادی اور تاریخی طور پر پیچیدہ ہے، سماجی اور آئین کو متاثر کرنے اور عوامی اہمیت کا ایک یقینی معاملہ ہے‘‘۔دلتوں نے جو صدیوں سے چھوت چھات کے شکار رہے ہیں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران عیسائیت اور اسلام کو قبول کیا ہے۔ کمیٹی کو دو سالوں میں رپورٹ پیش کرنے کا وقت دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اب اگلے دو سالوں کے لیے اس مسئلے پر عدالت میں کوئی سماعت نہیں ہو گی۔شیڈول کاسٹ کی فہرست میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو شامل کرنے کی شدید مخالفت کرنے والی بی جے پی حکومت جس نے رنگا ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کو رد کردیا تھا اور 2019ء میں حلف نامہ داخل کر کے کہا تھا کہ مسلم اور عیسائی دلتوں کو شیڈول کاسٹ کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ان دونوں مذاہب میں سماجی تفریق اور چھوت چھات نہیں ہے لیکن سابقہ موقف کے برخلاف اب مسلم اور عیسائیوں کی سماجی و معاشرتی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اس کی طرف سے کمیشن کے قیام کا فیصلہ حیرت انگیز ہے۔ اس کو بی جے پی کی بدلتی سوچ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ حیدرآباد میں پارٹی کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم مودی کے ذریعہ پارٹی لیڈروں کو پسماندہ مسلمانوں کی طرف دیکھنے کی اپیل کو عملی شکل کے طور پر بھی اسے دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم کچھ سیاسی تجزیہ نگار اور جہد کار کمیشن کے قیام کو انتخابی حربے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ شیڈول کاسٹ کی فہرست میں مسلم اور عیسائی دلتوں کو شامل کرنے کی کوئی بھی کوشش دلت ہندو، سکھ اور بودھوں کو نظر انداز کر سکتی ہے، کیوں کہ اس قدم سے ان کی حصہ داری کم ہو سکتی ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ حکومتوں کی روزگار پیدا کرنے کی صلاحیتیں محدود ہو رہی ہیں، یہ مسئلہ مزید پیچیدہ بن جاتا ہے۔ چنانچہ کمیشن کی رپورٹ ایسے وقت میں آئے گی جب 2024ء میں لوک سبھا کے انتخابات مکمل ہو چکے ہوں گے اور لبرل جج کے طور پر شہرت حاصل کر چکے اگلے چیف جسٹس چندر چوڑ ریٹائرڈ ہو کر گھر جا چکے ہوں گے۔جسٹس چندر چوڑ نے ہی مرکز کو پینل قائم کرنے کا حکم دیا تھا جو اپنے آپ میں ایک کارنامہ ہے۔ لیکن یہ اگلی حکومت اور چندر چوڑ کے جانشین پر منحصر ہے کہ وہ اس پیچیدہ اور الجھے ہوئے مسئلہ کو کس طرح حل کرتے ہیں۔ حکومت کی نیت پر اس لیے بھی سوالات کھڑے ہو رہے ہیں کہ سچر کمیٹی اور رنگا ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات اور دیگر کمیٹیوں کی رپورٹوں وسفارشات کے باوجود حکومت کا یہ دلیل دینا کہ دلت مسلم اور عیسائیوں کے جائزہ پر مبنی کوئی حتمی رپورٹ نہیں ہے۔
دلت مسلم اور عیسائیوں کی سماجی صورت حال
اسلام اور عیسائیت میں ذات پات کی تفریق، چھوت چھات اور بھید بھاو کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ تاہم بھارتی سماج کے اکثریتی طبقے میں ذات پات، چھوت چھات اور بھید بھاو کی تفریق جزو لاینفک ہے۔اکثریتی طبقے کی تہذیب و کلچر اور روایات کے اثرات سے اقلیتی طبقات بھی متاثر ہوتے ہیں اور اس کے رسم و رواج کسی نہ کسی صورت میں اقلیتی طبقات میں در کر جاتے ہیں۔ چنانچہ رنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اسلام اور عیسائیت کے قبول کرنے کے باوجود ان دلتوں کی سماجی اور معاشرتی صورت حال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ ریزرویشن سے محروم رہنے کی وجہ سے صورت حال میں ابتری ہی آئی ہے۔ 2008ء میں قومی اقلیتی کمیشن نے ماہر عمرانیات اور دلی یونیورسٹی میں پروفیسر ستیش دیش پانڈے اور گیتیکا بپن کو دلت مسلم اور عیسائیوں کی سماجی صورت حال کا جائز لینے کی ذمہ داری دی گئی۔ان دونوں نے ’’دلت مسلم اور عیسائی کمیونٹیز: موجودہ سماجی سائنسی علوم کی روشنی‘‘ کے عنوان سے مشترکہ طور پر رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسلم طبقے میں ’دلت مسلم کی تعداد 8 فیصد کے قریب ہے۔ عیسائیوں میں دلت عیسائیوں کی تعداد 23.5 فیصد کے قریب ہے۔ دیہی بھارتمیں 39.6 فیصد دلت مسلمان خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ شہری علاقوں میں 46.8 فیصد دلت مسلمان خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ دلت عیسائی بالترتیب دیہی اور شہری علاقے میں 30.1 فیصد اور 32.3 فیصد زندگی گزارتے ہیں۔ دیہی بھارت میں 29.2 فیصد مسلمان اور شہری علاقوں میں 41.4 فیصد مسلمان بی پی ایل ہیں۔ جب کہ عیسائی دیہی علاقوں میں 16.2 فیصد بی پی ایل زمرے میں ہیں جب کہ شہری علاقوں میں 12.5 عیسائی بی پی ایل زمرے میں ہیں۔ سچر کمیشن کی رپورٹ نے 2006ء میں مشاہدہ کیا کہ تبدیلی مذہب کے بعد بھی دلت مسلمانوں اور دلت عیسائیوں کی سماجی اور معاشی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ 2007 میں جسٹس رنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر 1950ء میں نظرثانی کی جائے تاکہ ایس سی کی حیثیت کو مذہب سے آزاد کر دیا جائے اور تمام دلتوں اور درج فہرست قبائل کو مذہب سے غیر جانب دارانہ درجہ دیا جائے۔ اس نے 27 فیصد کے او بی سی کوٹہ کے اندر اقلیتوں کے لیے 8.4 فیصد کا ذیلی کوٹہ اور 15 فیصد کے درج فہرست ذات کے کوٹہ کے اندر دلت اقلیتوں کے لیے ریزرویشن کا بھی مشورہ دیا۔ مشرا کمیشن کی رپورٹ اور اقلیتوں کے قومی کمیشن کی رپورٹ دسمبر 2009ء میں پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔ دونوں رپورٹوں میں دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کو آئینی تحفظ اور تحفظات دینے کی سفارش کی گئی تھی لیکن حکومتوں نے ان سفارشات پر عمل نہیں کیا۔ مرکزی حکومت نے دلیل دی کہ دلت مسلم اور عیسائیوں سے متعلق مختلف اعداد و شمار کی کمی ہے۔ دوسری جانب منڈل کمیشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے 20 ریاستوں نے او بی سی زمرے کے تحت مسلمانوں اور عیسائیوں کو فوائد فراہم کیے ہیں۔ صرف مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کے فوائد سے مسلم اور عیسائی دلتوں کو ریزرویشن سے محروم کرنا ملک کے آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 16 کے برابری کے دفعات کی خلاف ورزی ہے۔ ریزرویشن، آئین کے مطابق، سماجی حیثیت، کمیونٹی میں کھڑے ہونے، پسماندگی، امتیازی سلوک، تشدد اور سماجی ناہمواری جیسے معیار پر انحصار کرتا ہے۔
گزشتہ 16 سالوں سے دلت عیسائیوں کو آئینی حقوق کے لیے جدو جہد کرنے والے عیسائی وکیل فرینکلن سیزر تھامس ہفت روزہ دعوت سے کہتے ہیں کہ ’گزشتہ 70 سالوں سے ہمیں اپنے آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ عیسائی مذہب ذات پات کی تبلیغ نہیں کرتا لیکن یہ عیسائی ہیں جو اب بھی ذات پات پر عمل کرتے ہیں اور دلت برادریوں کے لوگوں پر ظلم کرتے رہتے ہیں۔ تمل ناڈو میں پرایار کمیونٹی میں ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہونے والے مسٹر تھامس کا کہنا ہے کہ ان کے دادا ایک قصاب تھے جو چمڑے کی تجارت کرتے تھے اور ساتھی گاؤں والوں کی طرف سے روزانہ امتیازی سلوک کا سامنا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے اپنا گریجویشن مکمل کیا تھا اور اپنی والدہ کے آبائی علاقے میں ایک گروسری کی دکان پر گیا تھا تو چیٹیار دکان کے مالک نے میرے پیسے صرف اس لیے پھینک دیے تھے کہ میں نے اس کا ہاتھ چھو لیا تھا۔انجینئرنگ سے فارغ التحصیل ہونے کے باوجود انہوں نے ناانصافی سے لڑنے کے لیے قانون کی تعلیم حاصل کی اور اب وہ قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تھامس کہتے ہیں کہ کمیشن کی تشکیل کے پیچھے حکومت بد نیتی شامل ہیں کیوں کہ متعدد مطالعات اور کمیشنوں بشمول منڈل، سچر کمیٹی اور مشرا کمیشن کی سفارشات موجود ہیں جن میں دلت برادریوں سے تعلق رکھنے والے عیسائیوں اور مسلمانوں کو ایس سی کا درجہ دینے کی سفارش کی گئی ہے کیونکہ وہ بدستور امتیازی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایس سی کی حیثیت کے ساتھ وہ تعلیم، سرکاری ملازمتوں، پارلیمانی اور پنچایتی انتخابات کے لیے کوٹہ کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام ایکٹ) 1989ء کے تحت تحفظ حاصل کرنے کے قابل ہوں گے۔ تھامس کہتے ہیں بھارت میں تقریباً 70 فیصد عیسائی آبادی کا تعلق شیڈول کاسٹ پس منظر سے ہے۔
دلی یونیورسٹی کے ماہر عمرانیات ستیش دیش پانڈے نے جو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے ذات پات اور طبقاتی عدم مساوات کا مطالعہ کر رہے ہیں اور تین کتابوں کے ایڈیٹر کے طور پر کام کر چکے ہیں، 2008ء میں قومی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے زمروں کی ذیلی درجہ بندی کی جانی چاہیے تاکہ ان میں سے زیادہ پسماندہ گروہ فوائد حاصل کر سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کے لیے ریزرویشن ’’آئینی تحفظ‘‘ فراہم کرتا ہے۔صرف تبدیلی مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن سے محروم کر دیے جانے سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ 2008ء کی رپورٹ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دلت مسلم اور دلت عیسائیوں کو درپیش امتیازی سلوک کے بارے میں کافی سماجی و سائنسی ثبوت موجود ہیں۔ معاشی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی برادریوں کے دوسرے طبقات سے بدتر ہیں۔ وہ غریب یا پسماندہ لوگوں میں زیادہ نمائندگی کرتے ہیں اور غربت یا پسماندگی کے تمام روایتی اقدامات کے ذریعہ مراعات یافتہ افراد میں کم نمائندگی کرتے ہیں۔
انہیں ریزرویشن سے محروم کردینے کا موجودہ موقف متضاد اور غیر منصفانہ ہے۔ اگر بدھ مت اور سکھوں کے لیے غیر ہندو مذاہب کے طور پر تسلیم کیے جانے کے باوجود ریزرویشن حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے تو پھر عیسائیوں اور مسلمانوں کو ریزرویشن سے کیوں محروم کیا گیا ہے۔ کیا صرف اس لیے کہ یہ دونوں مذاہب غیر ہندی ہیں؟ جبکہ ان دونوں مذاہب کی جڑیں بھارت میں گہری ہیں۔ شمالی بھارت میں مذہب تبدیل کرنے والے زیادہ تر نچلی ذات کے لوگ ہیں۔ اونچی ذاتوں میں سے شاید ہی کوئی مذہب بدلنے والا ہو۔ جنوب میں مذہب تبدیل کرنے والوں کی ایک بڑی آبادی دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی ہے تاہم ایک خاصی تعداد اعلیٰ ذات سے بھی ہے۔
دلت مسلم اور عیسائیوں کو ایس سی میں شامل کرنے کی قانونی جدو جہد
دلت مسلم اور عیسائیوں کو ایس سی میں شامل کرنے کے لیے اگرچہ 1950ء سے ہی آوازیں بلند ہو رہی ہیں مگر 1990ء کے بعد اس میں تیزی آئی۔ متعدد پرائیویٹ ممبرز بل پارلیمنٹ میں لائے گئے۔ 1996ء میں آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈرز (ترمیمی) بل کے نام سے ایک سرکاری بل کا مسودہ تیار کیا گیا لیکن اختلاف رائے کے پیش نظر اس کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی سربراہی میں یو پی اے حکومت نے دو اہم پینلس قائم کیے۔ اکتوبر 2004ء میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے لیے قومی کمیشن جسے رنگاناتھ مشرا کمیشن کے نام سے جانا جاتا ہے اور مارچ 2005ء میں مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی حالت کا مطالعہ کرنے کے لیے دلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں سات رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ سچر کمیشن کی رپورٹ نے مشاہدہ کیا کہ تبدیلی مذہب کے بعد دلت مسلمانوں اور دلت عیسائیوں کی سماجی اور معاشی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ رنگاناتھ مشرا کمیشن جس نے مئی 2007ء میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی، سفارش کی کہ ایس سی کی حیثیت کو مکمل طور پر مذہب سے آزاد کر دینا چاہیے۔ مشرا کمیشن کی رپورٹ 18 دسمبر 2009ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی گئی لیکن ناکافی اعداد و شمار اور اصل زمینی صورت حال سے عدم توثیق کے پیش نظر اس کی سفارش کو قبول نہیں کیا گیا۔
2011ء میں نیشنل کمیشن فار شیڈول کاسٹ (NCSC) نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذہب تبدیل کرنے کے باوجود دلت چھوت چھات کے شکار ہیں تو انہیں ریزیرویشن دیا جانا چاہیے۔ نیشنل کمیشن فار شیڈول کاسٹ نے حلف نامہ میں تسلیم کیا کہ مذہب تبدیل کرنے والوں کی حیثیت کے بارے میں ایک آزاد مطالعہ کی کمی ہے، اور جب تک یہ مطالعہ مکمل نہیں ہو جاتا، دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کو ایس سی زمرہ میں شامل کیا جائے۔
دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کی سماجی حیثیت کے بارے میں کسی جامع مطالعہ کی کمی کا حوالہ دے کر دلت مسلم و عیسائیوں کو ایس سی کے زمرے میں شامل کرنے کے سوال کو درکنار کرنے کی تمام کوششوں کے پیش نظر یہ سوال اہم ہے کہ دو سال بعد ہی سہی کیا سابق چیف جسٹس جے بالا کرشنن کی زیر سربراہی کمیشن 75 سالہ آئینی محرومیوں کا ازالہ کر پائے گا؟ کیا وہ مذہبی تعصبات سے اوپر اٹھ کر دلت مسلم اور دلت عیسائیوں کی معاشی پسماندگی کے خاتمے کے لیے اقدامات کر سکیں گے؟ سابق چیف جسٹس کا تعلق بھی اسی طبقے سے ہے، وہ اتنی آسانی سے ملک کے باوقار عہدہ پر نہیں پہنچے ہوں گے۔ قدم قدم پر انہیں بھی بھید بھاو کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ کیا وہ اپنے دلت بھائیوں کے درد کو محسوس کر سکیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات اگلے دو سال بعد ہی ہمیں ملیں گے۔ گزشتہ 72 سالوں سے جدو جہد کرنے والوں کو اب مزید دو سال انتظار کرنا ہو گا۔
(نوراللہ جاوید صحافت سے گزشتہ 20سالوں سے وابستہ ہیں)
[email protected]
فون:8777308904
***

 

***

 درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے زمروں کی ذیلی درجہ بندی کی جانی چاہیے تاکہ ان میں سے زیادہ پسماندہ گروہ فوائد حاصل کر سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کے لیے ریزرویشن ’’آئینی تحفظ‘‘ فراہم کرتا ہے۔صرف تبدیلی مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن سے محروم کر دیے جانے سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ 2008ء کی رپورٹ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دلت مسلم اور دلت عیسائیوں کو درپیش امتیازی سلوک کے بارے میں کافی سماجی و سائنسی ثبوت موجود ہیں۔ معاشی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی برادریوں کے دوسرے طبقات سے بدتر ہیں۔‘‘
ستیش دیش پانڈے ،ماہر عمرانیات


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 23 اکتوبر تا 29 اکتوبر 2022