کرناٹک: ذات پات کی سیاست کے سامنے بی جے پی بے بس

ہندوتوا چہرہ پیش کرنے کی کوشش ناکام!

رؤوف احمد، بنگلورو

 

کیاقیادت میں تبدیلی کے بعد آگے کا راستہ آسان ہوگا؟
کرناٹک میں آخرکار بی جے پی حکومت کی قیادت میں تبدیلی عمل میں آئی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ یڈی یورپا کے قریبی، لنگایت طبقے سے تعلق رکھنے والے بسوراج بومئی ریاست کرناٹک میں بی جے پی حکومت کے نئے وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے ہیں۔
ویسے تو سال 2006سے ( پہلی مرتبہ جے ڈی ایس کے ساتھ) بھارتیہ جنتا پارٹی کو جنوبی ہند کی اس ریاست میں مختلف مواقع پر اقتدار حاصل ہوتا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈسپلن، جمہوری نظم وضبط، مضبوط تنظیمی امور کا ہمیشہ دعوٰی کرنے والی اس زعفرانی پارٹی نے اب تک ریاست میں smooth حکمرانی فراہم نہیں کی ہے۔ بی جے پی کیلیے یہاں حکمرانی کرنا جوش وجشن سے زیادہ دشوار کن اور مایوس کن ہی ثابت ہوا ہے۔ اس بار بھی کچھ ایسا ہی معاملہ اس ہندوتوا نظریاتی پارٹی کے ساتھ پیش آیا ہے۔
26 جولائی 2021 درحقیقت بی جے پی کیلیے جشن کا دن ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس دن بی جے پی نے بی ایس یڈی یورپا کی قیادت میں اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کر لیے تھے۔ لیکن جشن کا یہ موقع اچانک سیاسی بھونچال میں بدل گیا۔ دو سال تک حکمرانی والے یڈی یورپا نے اپنے اقتدار کی دوسری سالگرہ پر نم آنکھوں کے ساتھ وزارت اعلیٰ کے عہدے سے استعفی کا اعلان کردیا۔
ویسے تو بی جے پی حکومت کی قیادت میں تبدیلی کی خبریں گزشتہ کئی دنوں سے گردش کررہی تھیں۔ پارٹی میں ہی موجود یڈی یورپا کا مخالف گروہ آستین کا سانپ نظر آرہا تھا، یڈی یورپا نے بھی یہ بھانپ لیا تھا کہ ان کے لیے کرسی کا بچا پانا اب مشکل ہے۔ اس لیے وہ استعفیٰ دینے سے پہلے بار بار یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ پارٹی اعلیٰ کمان کا جو بھی حکم ہوگا اس پر وہ سر تسلیم خم کریں گے۔
قیادت میں تبدیلی کا آپریشن کیسے انجام پایا
جیسے ہی یڈی یورپا نے بحیثیت وزیر اعلیٰ اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کر لیے بی جے پی اعلیٰ کمان نے منصوبہ بند طریقے سے، ہوشیاری کے ساتھ قیادت میں تبدیلی کی کارروائی انجام دی۔ ایک چوٹی کے لیڈر کو چیف منسٹر کی کرسی سے اتارنے کی منصوبہ بندی بظاہر ماضی کے تلخ تجربہ اور مستقبل کے حالات کو دھیان میں رکھتے ہوئے انجام دی گئی۔ 26 جولائی 2021 کو بی ایس یڈی یورپا نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ کا اعلان کیا اور ریاست کے نئے گورنر تھاور چند گہلوت کو اپنا استعفی سونپا۔ اگلے ہی دن یعنی 27 جولائی 2021 کو بی جے پی لیجسلیچرس پارٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں بی جے پی اعلی کمان کی جانب سے بھیجے گئے دو آبزرور دھرمیندر پردھان، کشن ریڈی اور بی جے پی کرناٹک کے انچارج ارون سنگھ کی موجودگی میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلیے نئے امیدوار کا انتخاب عمل میں آیا۔ بسوراج بومئی بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر اور وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ بلاتاخیر اگلے ہی دن یعنی 28 جولائی 2021 صبح گیارہ بجے نئے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا۔ اس طرح ریاست میں بی جے پی حکومت کی قیادت میں تبدیلی کا عمل چند گھنٹوں میں پائے تکمیل کو پہنچا۔ قابل غور بات یہ رہی کہ بی جے پی اعلیٰ کمان نے یڈی یورپا کو مکمل طور پر اعتماد میں لیتے ہوئے اس پوری کارروائی کو انجام دیا۔
ہندوتو چہرہ یا لنگایت چہرہ؟
قیادت میں تبدیلی کی خبریں جب سے گرم تھیں تب سے بی جے پی میں کئی امیدوار وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلیے دوڑ دھوپ کرتے ہوئے دکھائی دیے ۔ اس دوران ایک اہم سوال یہ ابھر کر سامنے آیا تھا کہ کیا بی جے پی وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلیے ہندوتوا لیڈر کی شبیہ رکھنے والے کسی نمائندے کا انتخاب کرے گی یا پھر خاموش طریقے سے برہمن سماج سے تعلق رکھنے والے کسی لیڈر کو سامنے لائے گی، یا پھر آر ایس ایس تنظیم سے کسی نمائندہ کو چن لے گی یا اب تک جاری لنگایت لیڈرشپ میں حکومت کو آگے بڑھایا جائے گا؟ اس طرح کئی قیاس لگائے جارہے تھے اور سب کی نظریں اس بات پر جمی ہوئی تھیں کہ بی جے پی اپنی حکومت کیلیے ہندوتوا کا چہرہ پیش کرے گی یا لنگایت کا چہرہ۔۔
ذات پات کی سیاست کا غلبہ
ریاست کرناٹک میں ہمیشہ مذہب سے کہیں زیادہ ذات پات کی سیاست حاوی رہی ہے۔ لہٰذا ذات پات کی اس سیاست کے سامنے ایک بار پھر بی جے پی بے بس اور لاچار نظر آئی۔ اپنی حکومت کو قائم رکھنے کیلیے بی جے پی کو ہندوتوا کے خطوط پر نہیں بلکہ ذات پات کی سیاست پر ہی قائم رہنا پڑا۔
لنگایت مٹھوں کے سوامیوں اور لیڈروں نے بی جے پی کو خبردار کیا
بی جے پی حکومت میں یڈی یورپا کو جب وزیر اعلیٰ کی کرسی سے اتارنے کی بات سامنے آئی تو ریاست میں موجود لنگایت طبقہ جس میں کئی ذیلی ذاتیں موجود ہیں فوری طور پر متحد ومتحرک ہو کر سامنے آئیں۔ لنگایت مٹھوں کے تمام بڑے اور چھوٹے سوامی بی جے پی کے خلاف آگ بگولا ہوئے۔ نہ صرف بی جے پی میں موجود لنگایت ایم ایل ایز بلکہ کانگریس میںموجود لنگایت کے بڑے لیڈر جن میں ایم بی پاٹل، شامنور شیو شنکرپا شامل ہیں کھل کر یڈی یورپا کی حمایت میں اتر آئے۔ لنگایت سماج نے ہر جانب سے ایسا دباؤ ڈالا کہ یڈی یورپا کو اگر کرسی سے اتارا گیا تو بی جے پی کی خیر نہیں۔ اس دباؤ کے سامنے بی جے پی، آر ایس ایس نے بھانپ لیا کہ ہندوتوا یا ہندوتوا کی آڑ میں برہمن سماج کے کسی لیڈر کو وزیر اعلیٰ بنایا جانا سب سے بڑی سیاسی غلطی ہوگی، لنگایت ووٹ بینک سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور پھر اقتدار سے محرومی کی نوبت سامنے آئے گی۔
لہٰذا بی جے پی کی اعلیٰ کمان نے پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے ایسا راستہ تلاش کیا کہ پارٹی میں بغاوت نہ ہونے پائے، یڈی یورپا کے مقام کو ٹھیس بھی نہ پہنچے اور لنگایت طبقہ بھی خفا نہ ہونے پائے لہٰذا یڈی یورپا کے ہی قریبی، لنگایت طبقہ سے ہی تعلق رکھنے والے بسوراج بومئی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلیے منتخب کیا گیا۔ بظاہر یڈی یورپا اور لنگایت طبقہ کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے، سنگھ پریوار کا پس منظر نہ رکھنے والے بسوراج بومئی کو بی جے پی نے حکومت کی کمان سونپی ہے۔
بسوراج بومئی کون ہیں؟
نئے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی ایس آر بومئی کے فرزند ہیں۔ ایس آر بومئی 1988 میں مختصر وقفے کیلیے (صرف 8 ماہ) جنتا دل پارٹی سے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ ایس آر بومئی کے فرزند بسوراج بومئی نے میکینکل انجنئیرنگ (بی ای) کی تعلیم حاصل کی۔ جنتا دل پارٹی سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1998 اور 2004 میں جنتا دل سے ایم ایل سی منتخب ہوئے۔ 2008 میں انہوں نے جنتا دل یونایٹیڈ کو خیرباد کہا اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ بی جے پی کے ذریعہ شمالی کرناٹک کے ضلع ہاویری کے شگاوں اسمبلی حلقہ سے مسلسل تین مرتبہ ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ بی جے پی کی سابقہ اور موجودہ حکومت میں بطور کابینی وزیر انہوں نے کئی اہم قلمدان سنبھالے ہیں ۔ یڈی یورپا کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں بسوراج بومئی ریاست کے وزیر داخلہ رہے۔
آخر یڈی یورپا کو وزیر اعلیٰ کی کرسی سے کیوں اتارا گیا
یڈی یورپا کرناٹک کے ضدی سیاسی لیڈر کے طور پر مشہور رہے ہیں۔ شاید ان کے مزاج میں شامل ضدی پن نے انہیں ایک بڑا عوامی لیڈر بنا کر ابھارا ہے۔ یعنی یڈیورپا جو ٹھان لیتے ہیں وہ ثابت کرکے رہتے ہیں۔ سنگھ پریوار کی شبیہ سے کہیں زیادہ ان کی پہچان کسان اور مزدور لیڈر، ریاست کی اہم ذاتیں لنگایت۔ ویر شیوا کے لیڈر کے طور پر رہی ہے۔
یڈی یورپا کی قیادت میں ہی بی جے پی کو اب تک ریاست میں اقتدار حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے اثر ورسوخ سے یہ ثابت بھی کردیا کہ وہ بی جے پی کو اقتدار تک پہنچا سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اقتدار سے بے دخل بھی کرسکتے ہیں۔ درمیان میں مختصر وقفے کیلیے انہوں نے اپنی ہی الگ پارٹی KJP قائم کرتے ہوئے بی جے پی کو اقتدار سے درکنار کردیا تھا۔ لیکن یڈی یورپا کی سیاسی زندگی کا تاریک پہلو یہ ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ بدعنوانی کے الزامات میں انہیں اس سے قبل بھی وزیر اعلیٰ کی کرسی سے اتارا گیا اور انہیں جیل تک کی سزا کاٹنی پڑی تھی ۔ ابھی بھی ان کے خلاف بدعنوانی کے چند معاملات عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔
یڈی یورپا کو وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹائے جانے کی وجہ
یڈی یورپا نے اپنا استعفیٰ دینے کے بعد کہا کہ وہ اپنی مرضی سے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درازی عمر کے باوجود دو سال تک وزیر اعلیٰ بنائے جانے پر وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی اعلیٰ کمان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ درازی عمر اور صحت بظاہر ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ لیکن اصل وجہ بدعنوانی کے معاملات اور یڈی یورپا کے خاندان کی انتظامی امور میں مداخلت ہے۔ بالخصوص یڈی یورپا کے دوسرے فرزند وجئیندرا کا تیزی کے ساتھ بڑھتا ہوا اثر ورسوخ یڈی یورپا کیلیے وزیر اعلیٰ کی کرسی سے محرومی کا سبب سمجھا جارہا ہے۔ یڈی یورپا کے فرزند وجئیندرا نے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سرا اسمبلی حلقہ کے ضمنی الیکشن جہاں پہلی مرتبہ بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی تھی اس کے روح رواں وجئیندرا تھے۔ سیاسی گلیاروں میں یہاں تک یہ بات کہی جانے لگی تھی کہ وجئیندرا اب Super سی ایم بن چکے ہیں۔
بہرحال بدعنوانی کے سنگین الزامات، ایک طرفہ فیصلوں، یڈی یورپا کے خاندان کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت سے پارٹی میں موجود کئی سینئر لیڈر ناراض چل رہے تھے۔ اس طرز سیاست سے کہیں نہ کہیں آر ایس ایس بھی پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ ان تمام اسباب کے باعث بی جے پی میں ہی یڈی یورپا مخالف گروہ قائم ہوا جو پارٹی اعلیٰ کمان پر قیادت میں تبدیلی کیلیے مسلسل دباؤ ڈالتا رہا۔ بی جے پی نے بظاہر یڈی یورپا کی درازی عمر کو وجہ بتا کر قیادت میں تبدیلی کا آپریشن بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا ہے ۔ اس پورے معاملے پر کانگریس کے خیمے سے آیا ایک طنز کافی دلچسپ ہے کہ بی جے پی نے کیرالا میں 88 سالہ ای سریدھرن کو وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنایا جبکہ کرناٹک میں 78 سالہ یڈی یورپا پر کیوں اعتراض کیا جارہا ہے۔ حزب اختلاف کانگریس کے لیڈروں نے بار بار یہ بات کہی ہے کہ یڈی یورپا نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ بی جے پی نے زبردستی سے انہیں وزیر اعلیٰ کی کرسی سے اتارا ہے۔
بی جے پی حکومت اور اقلیتیں
بی جے پی کے دور اقتدار میں اقلیتی طبقہ بالخصوص مسلمان سیاسی طور پر کافی کمزور نظر آرہے ہیں۔ ریاست میں پندرہ فیصد سے زائد آبادی رہنے کے باوجود بی جے پی حکومت کی کابینہ میں کوئی بھی اقلیتی نمائندہ موجود نہیں ہے۔ بی جے پی پارٹی میں اقلیتی شعبہ قائم ہے، پارٹی میں کئی اقلیتی نمائندے بھی موجود ہیں لیکن پارٹی کی جانب سے اقلیتوں کو نہ انتخابات میں نمائندگی مل رہی ہے اور نہ ہی ایم ایل سی کے ذریعہ ایوان میں کسی اقلیتی نمائندہ کو پہنچایا گیا ہے۔ سال 2008 میں جب پہلی مرتبہ بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تھی تب اس وقت یڈی یورپا نے پروفیسر ممتاز علی خان کو اپنی کابینہ میں شامل کیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک بی جے پی نے اقلیتوں کو کابینہ میں نمائندگی دینا ضروری نہیں سمجھا۔ موجودہ حکومت میں اقلیتی محکمہ کا حال بدحال نظر آرہا ہے۔ فنڈز کی قلت کی وجہ سے اقلیتی فلاح وبہبود کی کئی اسکیمیں ٹھپ پڑی ہیں۔ بی جے پی حکومت نے اپنے دو سالہ اقتدار میں اردو اکیڈمی کو تشکیل دینا ضروری نہیں سمجھا ہے۔ کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کیلیے ممبرز رہنے کے باوجود چیرمین کا انتخاب گزشتہ کئی مہینوں سے عمل میں نہیں آیا ہے۔ اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن، ریاستی اقلیتی کمیشن جہاں چیئرمین کی تقرریاں ضرور ہوئی ہیں لیکن اراکین کے خالی عہدے اب تک پر نہیں ہوئے ہیں۔ سماجی انصاف پر ریاست کی بی جے پی سرکار کہاں تک عمل پیرا ہےاس کا اندازہ مندرجہ بالا امور سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں بی جے پی کیلیے آسان نہیں راستہ
خیر بی جے پی نے قیادت میں تبدیلی کا مسئلہ آسانی کے ساتھ حل کرلیا ہے۔ لیکن آنے والے دن بی جے پی حکومت کیلیے آسان نظر نہیں آرہے ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج کابینہ میں توسیع کا ہے، کانگریس اور جے ڈی ایس پارٹیاں ترک کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کی تائید کرنے والے ایم ایل ایز کو خوش رکھنا، لنگایت طبقے کو ترجیح دیے جانے کے بعد دیگر ذاتوں اور طبقوں کو مطمئن کرنا، یڈی یورپا اور ان کے اہل خانہ کا اثر ورسوخ، بدعنوانی کے سنگین الزامات، اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی چال بازیاں اس طرح اور بھی کئی چیلنجز کے درمیان بی جے پی حکومت اپنے اقتدار کے باقی 22 ماہ کیسے پورے کرتی ہے یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔
(مضمون نگار ریاست کرناٹک کے صحافی ہیں اور الکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہیں)
***

بی جے پی کے دور اقتدار میں اقلیتی طبقہ بالخصوص مسلمان سیاسی طور پر کافی کمزور نظر آرہے ہیں۔ ریاست میں پندرہ فیصد سے زائد آبادی رہنے کے باوجود بی جے پی حکومت کی کابینہ میں کوئی بھی اقلیتی نمائندہ موجود نہیں ہے۔ بی جے پی پارٹی میں اقلیتی شعبہ قائم ہے، پارٹی میں کئی اقلیتی نمائندے بھی موجود ہیں لیکن پارٹی کی جانب سے اقلیتوں کو نہ انتخابات میں نمائندگی مل رہی ہے اور نہ ہی ایم ایل سی کے ذریعہ ایوان میں کسی اقلیتی نمائندہ کو پہنچایا گیا ہے۔
فنڈز کی قلت کی وجہ سے اقلیتی فلاح وبہبود کی کئی اسکیمیں ٹھپ پڑی ہیں۔ بی جے پی حکومت نے اپنے دو سالہ اقتدار میں اردو اکیڈمی کو تشکیل دینا ضروری نہیں سمجھا ہے۔ کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کیلیے ممبرز رہنے کے باوجود چیرمین کا انتخاب گزشتہ کئی مہینوں سے عمل میں نہیں آیا ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 8 اگست تا 14  اگست 2021