’’اقبال کا تصورِ موت و حیات‘‘

اقبال کا تصورِ موت کوئی زندانِ نظریا ت نہیں بلکہ اعلان برأت ہے

نعیم جاوید، دمام ،سعودی عرب

 

علامہ اقبال کے’’تصوّر حیات و موت ‘‘کے عنوان کے تمام جزئیات کو سمجھنے سے پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ’’حیات‘‘کاعالم گیر تصور کیا ہے جو یہ کہتا کہ’’حیات‘‘ آزادی عطاکرتی ہے، لذت اٹھانے کا اختیاردیتی ہے۔ زندگی کی دولت بانٹتی ہےاور مسرتیں نچھاور کرتی ہے اور’’موت‘‘کودنیا ،زوالِ زندگی یا اختتامِ زندگی سمجھتی ہے ۔ اسی سبب سے ہمارے تصورمیں یہ خوف چھایا رہتا ہے کہ موت کے بعد ہم لذائذِ دنیا اور کوائفِ زندگی سے یک لخت محروم ہوجائیں گے اور موت ہماری ساری آرزوؤں ، تمناؤں کا خاتمہ کردے گی ۔پھر ہمیں ٹھیراو، جمود اور تعطل نصیب ہوگا۔ ہر لذت چھین لی جائے گی اور آخرش غم و اندوہ میں ہم گھرجائیں گے۔اقبال کے تصور حیات کو اس مقام پر پل بھر کے لیے دیکھتے چلیں کہ زندگی کا کیا تصور ہے۔

برتر از اندیشۂ سُود و زِیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
تو اسے پیمانۂ اِمروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں پیہم رواں ہر دم جواں ہے زندگی

برج نارائن چکبست کی رائے کے علی الرغم جو انہوں نے کہا تھا؎

زندگی کیا ہے ، عناصر کا ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے ، انہی اجزا کا پریشاں ہونا

اقبال معنوی موت کو زندگی کی ہر منزل میں دیکھتے ہیں۔

حیات و موت نہیں التفات کے لائق
فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود

اب دیکھتے چلیں کہ اقبال دراصل موت کو کہاں کہاں دیکھتے ہیں۔ منصبِ قیادت کی موت دیکھیں ۔

گر صاحبِ ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب
دیں بندۂ مومن کے لیے موت ہے یا خواب

تحفظ ذات سے لے کر قوموں کی خودی ، کائنات کی خودی ، زمانوں کی خودی ، ان سب کی موت سمٹ کر آجاتی ہے۔

حیات کیا ہے خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت سے اندیشہ ہائے گوناگوں

دل کی دنیا کی آزادی کی موت یا خواب رہن رکھ کر روٹی کمانے سمجھوتے میں وجود ذات کی موت۔

دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم!

سیاسی مکر و فریب کارانِ اقتدار کا جال میں غلام کی زندگی اور حریتِ فکر کی موت

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام
مکر و فنِ خواجَگی کاش سمجھتا غلام

خود فراشی کی موت ۔انتشارِ فکری کے سبب ارتکاز نصب العین کی موت۔

بے حضوری ہے تری موت کا راز
زندہ ہو تو تو بے حضور نہیں
خودی ہے زندہ تو ہے موت اک مقامِ حیات
کہ عشق موت سے کرتا ہے امتحانِ ثبات

معاش کے محاذ پر کردار ، ذہن اور شخصیت کی موت۔

عصرِ حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکرِمعاش
دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے ، کھودیتی ہے جب ذوقِ خراش
تو ہو اگر کم عیار، میں ہوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برات، موت ہے میری برات
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتا ہی

احساس مروت کی متاع بے بہا کی موت اور زندگی پر آلات کی حکمرانی اور مشینوں کاراج سے دل کی موت۔

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

اقبال نے اپنی مشہور تصنیف’’جاوید نامہ‘‘میں کہی ہے کہ موت کو مومن کیا سمجھتا ہے۔

بندہء حق ضیغم و آہوست مرگ۔۔۔یک مقام از صد مقامِ اوست مرگ

(یعنی مومن موت کا شکار نہیں ہوتا بلکہ موت خود مومن کا شکار ہے ، بندہ مومن شیر کی مانند ہے اور موت اس کے واسطے ہرن ہے ، دوسرے مصرع میں کہتے ہیں کہ موت زندگی کی بے شمار منزلوں میں سے صرف ایک منزل ہے۔)

قرآنی فکر کے سبب اقبال مومن کی موت کو اس زاویہ سے دیکھتے ہیں۔

نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غیُور
موت کیا شے ہے ، فقط عالمِ معنی کا سفر
موت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقشِ حیات
عام یوں اُس کو نہ کر دیتا نظامِ کائنات
شہادت ہے مطلوب وہ مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
کُشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
اقبال نے ابلیس سے کہلوایا ہے کہ
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو

یعنی اگر روحِ محمدؐ ہمارے بدن کے حصار میں ہے تو پھر خوف اس کی سرحدوں سے دور ہے۔روح محمدﷺ یعنی

نظریہ اسلام کی روح جب عام مسلمانوں میں آتی ہے تب ۔۔

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں
زندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیں
ٹوٹنا جس کا مقدر ہویہ وہ گوہر نہیں
ہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیں
جس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیں
ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں
جس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگی
روحِ اُمم کی حیات کشمکش انقلاب

موت و حیات کا تصور پوری طرح روشن نہیں ہوگا جب تک کہ ہم ام سلیمؓ کے بیٹے کی موت پر ان کا مکالمہ جو تاریخ نے ریکارڈ کیا’’جان رب کی امانت ہے واپسی پر احساسِ محرومی کیسی "حضرت سعدؓ بن معاذ کے بیٹے کی موت پر آپ کے تعزیتی کلمات’’سعد! پروردگار لواحقین کی موت پر صبر کے عوض جنتوں میں ایک محل ’’بیت الحمد‘‘ ان کے نام کرتا ہے‘‘۔ جنگِ یرموک کے خوں آشام پڑاو کاوہ واقعہ جس کو اقبال نے منظوم کیا۔جہاں ایک مضطرب جاں نوجوان صف جنگاہ چیرتا ہوا امیر عساکر سے اذنِ شہادت مانگتا ہے

اے بوعبیدہ رخصتِ پیکار دے مجھے
لبریز ہوگیا مرے صبر و سکوں کا جام

امین الامت ابو عبیدہ بن جراح اس جوان کی آنکھوں میں حیات وموت کی گتھی کا حل، شہادت کی تمناکو لبریز دیکھتے ہوئے کہتے ہیں ۔ اب جب اگلے پڑاو پر جنت میں حضور سے ملاقات ہو تو ان کو ہمارا سلام کہنا اور یہ کہنا رب نے ان کی مانگی تمام دعاوں کو ہمارے لیے قبول کیا۔

اس لیے اقبالؔ نے نبی رحمت کی رحلت کی تمام گھڑیوں کو اپنے قریہ جاں میں آباد رکھا اور اسی طرز پر رب سے ملاقات کی تمنا کی ۔ کیوں کہ رسولِ اطہر نے دعا مانگی تھی ’’ ۔۔اللھمّ انّی اعوذبک من سکراتِ الموت۔ اے اللہ مجھے موت کی سکرات سے بچانا۔موت کے وقت کی بے ہوشی سے پناہ دینا‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ مجھے موت کے وقت کے خوف سے پناہ دے۔کیونکہ بے ہوش آدمی کہاں مسکراتا ہے۔ اقبال نے بھی موت کی آخری گھڑی میں بے ہوشی کا انجکشن لینے سے انکار کیا اور کہا کہ میں جاگتی آنکھوں سے موت کا استقبال کرنا چاہتا ہوں۔ اسی تمنا کا آفریدہ شعر دیکھیں۔

نشانِ مر د حق دیگر چہ گُویَم ۔۔۔۔چو مرگ آید، تبسّم بَر لَبِ اُوست

( مومن کی نشانی یہ ہے کہ جب موت آئے تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہو)

کیوں کہ اقبال کا یہ قول فیصل ہے کہ ؎

فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیر
تیرے وجود کے مرکز سے دوررہتا ہے

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 8 اگست تا 14  اگست 2021