چند قدیم تفاسیر:مختصر تعارف

اپنے زمانے کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر دور میں علماء نے اپنے اپنے اندازسے تفسیریں لکھیں

ابوالاعلی سید سبحانی،نئی دہلی

قرآن مجید کا نزول خالص عربی زبان میں ہوا، ایک ایسی سرزمین میں جہاں کے افراد اپنی زبان دانی اور فراست کے اعتبار سے معروف تھے، قرآن مجید نازل ہوا تو ان کے لیے اسے سمجھنا اور اس سے رہنمائی حاصل کرنا آسان تھا، آسانی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ان کے درمیان قرآن مجید کی عملی تصویر موجود تھی، جہاں کہیں کسی کو کوئی پریشانی محسوس ہوتی وہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتا اور اس کی تمام الجھنیں دور ہوجاتیں۔ اس کتاب کی تاثیر خود اس کتاب کی اشاعت کے لیے کافی تھی، کفار قریش نے اسی حقیقت کے پیش نظر اس کتاب کو جادو اور کہانت سے تعبیر کیا، تاکہ اس طرح لوگوں کو اس کتاب سے دور رکھا جائے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر کسی کے کان میں اس کی آواز پڑگئی تو وہ اس پر فریفتہ ہوکر رہ جائے گا۔ نہ جانے کتنے واقعات کتب تاریخ میں موجود ہیں کہ محض قرآن مجید سن کر لوگ مشرف بہ اسلام ہوگئے، خود حضرت عمرؓ کا واقعہ اس سلسلہ میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔
آپﷺ قرآن مجید کے پہلے معلم تھے، آپ کو اللہ رب العزت کی جانب سے اس منصب پر مأمورکیا گیا تھا، فرمان الٰہی ہے:
وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُون۔ (النحل:۴۴)، ( اور ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا تاکہ آپ اسے لوگوں کے لیے واضح کردیں، اور شائد کہ لوگ غوروفکر سے کام لیں)۔
آپﷺ نے محض قرآن کی تعلیم اور ترویج واشاعت ہی کا کام انجام نہیں دیا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قرآن کے اساتذہ اور معلمین کی پوری ایک ٹیم بھی تیارکی، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علی ؓاللہ کے رسولﷺ کے سچے جانشین اور قرآن مجید کے زبردست علماتھے۔ عبداللہ بن مسعودؓ، عبداللہ بن عباسؓ، ابی بن کعبؓ کا نام عہد صحابہ کے جلیل القدر معلمین قرآن میں شمار ہوتا ہے۔ عہد صحابہ ؓکے بعد عہد تابعین میں بھی تفسیرقرآن کے اہم اساتذہ اور ائمہ کا ذکر ملتا ہے، تاہم عہد صحابہ اور عہد تابعین کی تفاسیر مدون اور مستندشکل میںہم تک نہیں پہنچ سکیں، اس کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما تھے، جن کے ذکر کا یہاں موقع نہیں، لیکن عہد تابعین کے بعد تفسیر کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے، جس کو عصر تدوین کہا جاتا ہے، اس زمانے میں تفسیر کی باقاعدہ تدوین اور ترتیب کا آغاز ہوا، اس زمانے کی بہت سی تفاسیر آج بھی موجود ہیں۔
ذیل میں ان قدیم عربی تفاسیر اور مفسرین کا مختصراََ تعارف کرایا جائے گا جن کی حیثیت تفاسیر کے درمیان مراجع کی ہے:
(۱) امام ابن جریر طبریؒ: جامع البیان فی تفسیر القرآن
(۲) امام زمخشریؒ : الکشاف
(۳) امام رازیؒ: مفاتیح الغیب
(۴)امام ابن کثیرؒ: تفسیر القرآن العظیم
ان میں سے ابتدائی تین تفاسیر سے متعلق مولانا امین احسن اصلاحیؒ تدبرقرآن کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
’’یوں تو یہ تفسیریں میرے فکرومطالعہ کی زندگی کے آغاز ہی سے میرے پیش نظر رہی ہیں، لیکن لکھتے وقت خاص طور پر میں نے ایک نظر ضرور ڈال لی ہے‘‘(تدبرقرآن: ۱؍۳۲)۔
مذکورہ بالا تفاسیر اپنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ممتاز تفاسیر ہیں، کسی کے اندر روایات، اقوال صحابہ اور عقلی دلائل خوب ملیں گے، کسی کے اندروجوہ اعجاز، بلاغت اور ادبی پہلو غالب نظر آئے گا، کسی کے اندر فلسفیانہ مباحث اور علم کلام کے مسائل سے متعلق بحثیں ملیں گی، تاہم ایک حقیقت سب میں نمایاں نظر آئے گی، وہ ہے حقیقت کی تلاش۔ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہدایت کا سامان۔ حکمت اور دانش کی باتیں۔
(۱) امام ابن جریر طبریؒ اور جامع البیان فی تفسیر القرآن:
امام ابن جریر: امام ابن جریرؒتیسری صدی ہجری کے معروف امام تھے، ۲۲۴ھ میں طبرستان میں پیدا ہوئے۔ بارہ سال کی عمر تھی کہ طلب علم کے لیے گھرسے نکل کھڑے ہوئے۔ مختلف ممالک کا سفر کیا۔ مصر وشام اور عراق کے علماء کرام سے استفادہ کیا اور بالآخربغداد میں آکر مقیم ہوگئے،اور تاحیات وہیں مقیم رہے، آپ کے علم کا شہرہ تھا، طلب علم کے لیے دنیا بھر سے لوگ بغداد آکر آپ کے درس میں شریک ہونے لگے، آپ ایک عظیم اور بلند پایہ مفسر کے ساتھ ساتھ محدث اور فقیہ بھی تھے، علامہ خطیب بغدادی آپ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ابن جریر علم وفضل میں یکتائے روزگار تھے۔ آپ کے معاصرین میں کوئی شخص آپ کا ہمسر نہ تھا۔ آپ قرآن کریم کے حافظ ومفسر، احکام قرآن کے ماہر، عظیم محدث، صحیح وسقیم اور ناسخ ومنسوخ سے پوری طرح واقف، صحابہ وتابعین کے اقوال وآثار سے باخبر، مسائل حرام وحلال اور تاریخی اخباروروایات کے زبردست عالم تھے۔‘‘
آپ کی اہم تصانیف میں تفسیر کے علاوہ تاریخ الامم والملوک، کتاب القرأت، کتاب العدد والتنزیل، اختلاف العلماء وتاریخ الرجال، احکام شرائع الاسلام، التبصر فی اصول الدین بیان کی جاتی ہیں، تاہم فی الحال ان کی تفسیر اور تاریخ کے علاوہ دیگر کتابیں معدوم ہوچکی ہیں۔
تفسیر: تفسیر قرآن کے سلسلہ میں دو اہم مکاتب فکر کا تذکرہ کیا جاتا ہے، ایک مکتب فکر تفسیر بالمأثور کا ہے اور دوسرا تفسیر بالرأی کا۔ تفسیر بالمأثور اس تفسیر کو کہتے ہیں جس میں اصل اعتماد روایات اور اقوال سلف پر کیا جاتا ہے، جب کہ تفسیر بالرأی میں روایات اور اقوال سلف کے ساتھ ساتھ ذہن وفکر اور عقلی دلائل کا بھی بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔
امام طبری کی تفسیر پہلے مکتب فکر کی نمائندہ اور اس کے اولین مصدر ومأخذکی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے سلسلہ میں ابن تیمیہؒ کاقول بیان کیا جاتا ہے کہ’’لوگوں میں جو کتب تفسیر متداول ہیں ان میں ابن جریر کی تفسیر صحیح تر ہے‘‘۔ اس تفسیر میں صحابہ کرام کے اقوال وآثار خوب بیان کیے گئے ہیں۔ مختلف مقامات پر اقوال صحابہ وتابعین سے استشہاد کرتے ہیں۔ نحوی بحثیں، کلام عرب کا حوالہ، مختلف قرأتوں کا ذکراور روایات کا مع اسناد ذکر تفسیر طبری کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ لغت اور کلام عرب سے استشہاد کے علاوہ اس کتاب میں فقہی مسائل کا ذکر بھی خوب ملتا ہے، فقہاء کے اقوال کا ذکر کردینے کے بعد اپنی ذاتی رائے بھی ذکر کرتے ہیں، دیگر قدیم تفاسیر کی طرح امام طبری بھی مختلف فرقوں کے اعتقادات اور افکار کا جائزہ لیتے ہیں اور ان کی جم کر تردید کرتے ہیں، معتزلہ کے خیالات اور افکار سے متعلق کافی بحثیں اس تفسیر میں موجود ہیں۔
تیس جلدوں پر مشتمل تفسیر، گزشتہ دنوں عرب دنیا کے معروف محقق احمد محمدشاکر نے اس کی تحقیق کا کام انجام دیا ہے، اسانید کی تحقیق کی ہے اور اس کی بہترین اشاعت کا انتظام کیا ہے۔ طالبان علم کے لیے یہ ایک اہم علمی سرمایہ ہے، تاہم اس کے اوپر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، دیگر تفاسیر کی طرح اس میں بھی ضعیف اور اسرائیلی روایات کثرت سے پائی جاتی ہیں، لہٰذا اس کا مطالعہ کرنے کے لیے انتہائی دقت نظری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
(۲) امام زمخشریؒ اور الکشاف:
امام زمخشری: امام الزمخشری خوارزم کے علاقہ میں زمخشر نامی ایک گاؤں میں ۴۶۷ھ میں پیدا ہوئے، آپ کا نام محمود بن عمر اور کنیت ابوالقاسم تھی، آپ نے اپنا تفسیری کام مکہ مکرمہ میں ایک طویل سکونت کے دوران انجام دیا تھا، اس لیے آپ کو جاراللہ یعنی اللہ کا پڑوسی کہا جاتا ہے۔ آپ نے بغداد کے اکابرعلماء سے کسب فیض کیا۔ آپ کے علم وفضل کا نتیجہ تھا کہ جہاں بھی جاتے لوگ جوق درجوق آپ کے گرد جمع ہوجاتے اور درس وتدریس کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ آپ کا زمانہ مناظروں کا زمانہ تھا، آپ بھی اس میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ تفسیروحدیث اور نحو ولغت اور ادب کے بلندپایہ امام تھے، حنفی تھے، اعتزال کی جانب مائل بلکہ اس پر فخر بھی کرتے تھے، اور اپنا تعارف محمود المعتزلی کے طور پر کراتے تھے۔ آپ کی اہم تصانیف میں تفسیر الکشاف کے علاوہ الحاجۃ فی المسائل النحویہ، المفرد والمرکب فی العربیۃ، الفائق فی تفسیر الحدیث، اساس البلاغۃ، رؤوس المسائل فی الفقہ کا شمار ہوتا ہے۔۵۳۸ھ میں جرجانیہ خوارزم میں آپ کی وفات ہوئی۔
تفسیر:کشاف کا شمار دوسرے مکتب فکر یعنی تفسیر بالرأی کی نمائندہ تفاسیر میں ہوتا ہے۔معتزلی نظریات رکھنے کے باوجود آپ کی تفسیر کو جو مقبولیت اور جو مقام حاصل ہوا، وہ مقام بمشکل ہی کسی دوسری تفسیر کو حاصل ہوسکا ہے، الزمخشری کے بعد جو بھی تفاسیر لکھی گئیں، ان میں کشاف سے استفادہ صاف نظر آتا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ اس تفسیر کے بعد کوئی مفسر اس سے بے نیاز نہیں ہوسکا، اردو کی تفاسیر ہوں یا پھر عربی کی تفاسیر عموما تمام ہی تفاسیر میں اس تفسیر کے کثرت کے ساتھ حوالے ملتے ہیں۔ قرآن مجید کے وجوہ اعجاز اور قرآنی بلاغت اور عربی زبان کے سلسلہ میں یہ ایک منفرد تفسیر ہے۔ وہ محض ایک مفسر قرآن نہیں تھے بلکہ عربی زبان اور اس سے متعلق دیگر علوم میں بھی خوب مہارت رکھتے تھے۔ عربی زبان میں شاعری بھی کرتے تھے۔ علوم بلاغت میں ان کا ثانی نہیں تھا۔ ان تمام امور کا اثر ان کی تفسیر میں خوب نظر آتا ہے۔ اس تفسیر کو انہوں نے مکہ مکرمہ میں رہ کر مکمل کیا تھا، مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ تفسیر شروع کی تو اندازہ تھا کہ تیس سال لگ جائیں گے تاہم خانہ کعبہ کی برکت سے محض دوسال تین ماہ کے عرصہ میںاس کی تکمیل ہوگئی۔
تفسیر کشاف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ایک معتزلی عالم تھے، اپنے اعتزال کا اعلان کرتے پھرتے تھے، دیگر علماء سے مختلف امور میں اختلاف رکھتے تھے، وہ اس بات کے شدید منکر تھے کہ اللہ کے رسولﷺ پر سحر کا اثر ہوا تھا جیسا کہ مفسرین معوذتین کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں، تاہم ان کے زمانے میں بھی ان کے مخالف وموافق تمام ہی علماء کرام نے اور بعد کے زمانے میں بھی علماء کرام نے بلاتفریق مسلک ومکتب فکراس تفسیر سے خوب استفادہ کیا اور اس کا اپنی کتابوں میں حوالہ بھی دیا۔ دیگر کتب تفسیر کے برخلاف الکشاف کے اندر اسرائیلی روایات کافی کم نظر آتی ہیں، اسی طرح موضوع اور ضعیف روایات کا ذکر بھی کم ملتا ہے، تاہم سورتوں کے فضائل کے سلسلہ میں موضوع روایات کا ذکر خوب کرتے ہیں۔ اس تفسیرکی منفرد اور ممتاز خصوصیات تو کئی ایک ہیں لیکن اس میں سب سے نمایاںخصوصیت اس تفسیر کے اندر موجود وجوہ اعجاز، قرآنی بلاغت اور دقیق لغوی بحثیں ہیں۔اس طرح یہ تفسیر اہل علم کے لیے ایک گرانقدر علمی تحفہ ہے۔
(۳) امام رازیؒ اور مفاتیح الغیب:
امام رازی:امام رازیؒ چھٹی صدی ہجری کے بلند پایہ عالم تھے، محمد بن عمر نام تھا، فخرالدین اور ابن الخطیب الشافعی آپ کا لقب تھا، طبرستان میں ۵۴۴ھ میں پیدا ہوئے، امام رازی کا شمار ان علماء کرام میں ہوتا ہے جن کی خدمات کا دائرہ کافی وسیع ہے، آپ تفسیر کے علاوہ فقہ واصول فقہ اور علوم کلام وعلوم عقلیہ میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ بے مثال واعظ اور خطیب تھے،ان کے بارے میں منقول ہے کہ جب وعظ کہتے تھے تو عجیب سی رقت طاری ہوجاتی تھی، رونے لگتے تھے۔ عربی کے علاوہ فارسی میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ آپ کی اہم تصانیف میں تفسیر’مفاتیح الغیب‘ کے علاوہ اصول فقہ کی معروف کتاب’المحصول فی اصول الفقہ‘ ہے، علم فلسفہ کی کتاب’الملخص‘ ہے، علم الکلام کی’المطالب العالیہ‘ ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کی متعدد تصانیف آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ آپ کی وفات ۶۰۶ھ میں مقام ’رے‘ میں ہوئی۔ سبب وفات بیان کیا جاتا ہے کہ کرامیہ نامی فرقے اور آپ کے درمیان کافی نزاع اور جدال برپا تھا، آپ ان کی تکفیر کرتے تھے اور وہ آپ کی توہین کرتے تھے، چنانچہ موقع ہاتھ آتے ہی انہوں نے آپ کو زہر دے دیا۔
تفسیر:امام رازی کی تفسیر اپنی ضخامت اور جامعیت کے اعتبار سے ایک منفرد تفسیر ہے۔ امام رازی اس تفسیر کو مکمل نہیں کرسکے تھے،تاہم آپ کی وفات کے بعد آپ کے ایک شاگرد نجم الدین احمد نے اس کی تکمیل کی، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ قاری پوری تفسیر کا مطالعہ کرجاتا ہے اور اس کو اس بات کا کچھ بھی اندازہ نہیں ہوپاتا کہ اس تفسیر میں دوالگ الگ افراد کا قلم استعمال ہوا ہے۔ اہل علم کے درمیان اس تفسیر کو خوب مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی تفسیر میں مختلف علوم وفنون سے متعلق علمی مباحث جمع کردیے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کتاب میں تفسیر کے علاوہ سب کچھ ہے۔
امام رازی آیات اور سورتوں کی مناسبت اور باہم ربط وتعلق کا ذکر اپنی تفسیر میںخوب کرتے ہیں۔ ان کے یہاں ریاضی، علوم طبیعی اور اس زمانے کے دیگر علوم کا بھی ذکرملتا ہے۔ علم فلکی کا ذکر خوب کرتے ہیں۔ فلاسفہ کے اقوال ذکر کرتے ہیں اور پھر ان پر خوب جم کر تنقید کرتے ہیں۔ معتزلہ کے افکارونظریات پر بھی جرح کرتے ہیں۔ احکام سے متعلق آیات کے ذیل میں فقہاء کے مذاہب بھی بیان کرتے ہیں۔ علم الاصول، نحو وبلاغت سے متعلق بھی کافی اہم مباحث ان کے یہاں پائے جاتے ہیں۔
(۴)امام ابن کثیر ؒاور تفسیر القرآن العظیم
امام ابن کثیر: امام ابن کثیرؒ آٹھویں صدی ہجری کے علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ۷۰۰ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ بصرہ کے رہنے والے تھے۔ نام عمادالدین ابوالفداء اسماعیل بن عمرو بن کثیر تھا۔ سات سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، بھائی کے ہمراہ دمشق چلے آئے اور وہیں سکونت پذیر ہوگئے۔ دمشق کے مختلف اہم علماء سے کسب فیض کیا، عرصہ تک علامہ مزی اور پھر ابن تیمیہ کی صحبت میں رہے۔ ابن تیمیہ کے ہم نوا تھے، جس کے سبب ان کے ساتھ کافی آزمائشوں اور آلام ومصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کا علمی درجہ بہت بلند تھا۔ تفسیروحدیث اور تاریخ میں آپ کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ ۷۷۴ھ میں آپ کی وفات ہوئی اور ابن تیمیہ کے پہلو میں تدفین ہوئی۔
ابن حجرعسقلانی ؒ آپ کے تعلق سے لکھتے ہیں: ’’ابن کثیر نے حدیث کے متون ورجال کا بنظرغائر مطالعہ کیا۔ تفسیر قرآن سے متعلق مواد فراہم کیا اور احکام سے متعلق تصنیف کا بیڑا اٹھایامگر اس کی تکمیل نہ کرسکے۔ تاریخ کے موضوع پر اپنی عظیم کتاب ’البدایہ والنہایہ‘ تیار فرمائی۔ طبقات الشافعیہ پر کتاب تحریر فرمائی۔ آپ نے بخاری کی شرح لکھنے کا آغاز بھی کیا تھا۔ آپ کا حافظہ نہایت قوی تھا۔ نہایت شیریں مقال تھے۔ آپ کی حیات ہی میں آپ کی تصانیف کا دنیا بھر میں چرچا ہوگیا تھا۔ ان تصانیف سے خوب استفادہ کیا گیا۔ ابن کثیر کا شمار فقہائے محدثین میں ہوتا ہے۔ آپ کی کتاب مختصر مقدمہ ابن الصلاح کافی مفید کتاب ہے‘‘۔
تفسیر:تفسیر ابن کثیرکا شمار تفسیر بالماثورمیں ہوتا ہے۔آپ کی تفسیر کافی مشہور ہوئی۔ ابن جریر کے بعد تفسیر بالماثور میں ابن کثیر کا ایک اہم مقام ہے۔ اس کتاب میں مفسر نے متقدمین کے اقوال وآثار کو یکجا کرنے کا کام کیا ہے۔ آیات کی تفسیر روایات وآثار اور متقدمین کے اقوال کی روشنی میں کرتے ہیں، تاہم ابن جریرؒ کے برخلاف صحت روایت کا کافی التزام کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابن جریرؒ دور اول سے تعلق رکھتے تھے، ان کا کام اپنی نوعیت کا منفرد کام تھا کہ انہوں نے روایات کو اسناد کے ساتھ جمع کیا۔ ابن کثیرؒ نے اس کام کو آگے بڑھایا اور جمع شدہ روایات کے سلسلہ میں اپنی محدثانہ اور فقیہانہ صلاحیت کو استعمال کیا۔ تفسیر کے سلسلہ میں ابن تیمیہؒ کے اصولوں کی کافی حد تک پیروی کرتے ہیں، تفسیر کے آغاز میں ایک طویل مقدمہ درج ہے جو زیادہ تر ابن تیمیہ سے اخذ کیا گیا ہے۔ (بحوالہ حسین الذہبی)
ابن کثیر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ صحیح روایات کے التزام کے ساتھ ساتھ اسرائیلی روایات پر بھی کافی جرح وتنقید کرتے ہیں۔ ان کی تفسیر میں احکام فقہیہ کا بھی ذکر ملتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر اپنے آسان انداز بیان، اختصار اور کافی حد تک صحیح روایات کے التزام کے سبب عام قارئین کے لیے کافی مفید اور اہم تفسیر ہے۔
مذکورہ بالا سطروں میں عربی زبان کی چار اہم اور قدیم تفاسیر کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے۔ یہ تفاسیر اور ان کے علاوہ دیگر تمام ہی تفاسیر اپنے اپنے انداز اور اپنے اپنے وقت اور حالات کی مناسبت سے تیار کی گئی ہیں۔ ضرورت ہے کہ موجودہ حالات اور زمانے کو نظر میں رکھتے ہوئے قرآن مجید پر غوروفکر کا سلسلہ جاری رکھا جائے، ہندوستانی سماج اور اس میں مطلوبہ تبدیلی کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن مجید سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی وناصر ہو۔
***

 

***

 


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 23 اکتوبر تا 29 اکتوبر 2022