مرکز نے میڈیا کونسل کے قیام کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کو مسترد کر دیا

نئی دہلی، مارچ 24: مرکزی حکومت نے آج کہا کہ وہ پرنٹ، ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا میں بے ضابطگیوں کی جانچ کے لیے ایک کونسل بنانے کے لیے پارلیمانی پینل کی سفارش کو نافذ کرنے پر غور نہیں کر رہی ہے۔

میڈیا کونسل بنانے کی سفارش 2 دسمبر کو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کی قیادت میں مواصلات اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے کی تھی۔

پی ٹی آئی کے مطابق راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ حکومت کو فی الحال کونسل قائم کرنا ضروری نہیں لگا۔

ٹھاکر نے کہا ’’حکومت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باقاعدگی سے مشاورت کرتی ہے اور پالیسی کی تشکیل، تعمیراتی حکمت عملی وغیرہ کے لیے مختلف ذرائع سے دستیاب ڈیٹا/معلومات کا استعمال کرتی ہے۔ میڈیا کمیشن کا قیام فی الحال ضروری نہیں سمجھا جاتا۔‘‘

اپنی سفارش میں تھرور کی زیرقیادت کمیٹی نے مشاہدہ کیا تھا کہ میڈیا، جو کبھی ’’شہریوں کے ہاتھوں میں سب سے زیادہ بھروسہ مند ہتھیار‘‘ تھا، اپنی سالمیت اور ساکھ کھو رہا ہے۔

کمیٹی نے کہا تھا کہ موجودہ ریگولیٹری تنظیموں جیسے پریس کونسل آف انڈیا اور نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈ اتھارٹی کی افادیت محدود ہے۔

پارلیمانی پینل نے کہا کہ ’’وزارت اطلاعات و نشریات کو ایک وسیع میڈیا کونسل کے قیام کے امکانات پر غور کرنا چاہیے جس میں نہ صرف پرنٹ میڈیا بلکہ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا بھی شامل ہو اور جہاں ضرورت ہو اپنے احکامات کو نافذ کرنے کے لیے اسے قانونی اختیارات سے آراستہ کیا جائے‘‘

پینل نے مزید کہا تھا کہ قانونی اختیارات کے ساتھ مجوزہ میڈیا کونسل ’’بے ضابطگیوں کی جانچ، آزادی اظہار اور پیشہ ورانہ مہارت کو یقینی بنانے اور اعلیٰ ترین اخلاقی معیارات اور ساکھ کو برقرار رکھنے‘‘ کے لیے اقدامات کر سکے گی۔

کمیٹی نے حکومت کو میڈیا کونسل کے قیام کے معاملے پر مشاورت کے لیے ماہرین کی سربراہی میں میڈیا کمیشن بنانے کی بھی سفارش کی تھی۔