مرکز نے آدھار کی فوٹو کاپی شیئر نہ کرنے کے لیے جاری کی گئی ایڈوائزری کو واپس لیا

نئی دہلی، مئی 29: انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت نے اتوار کے روز اپنے دفاتر میں سے ایک کے ذریعہ جاری کردہ اس ایڈوائزری کو واپس لے لیا جس میں شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے آدھار کارڈ کی فوٹو کاپیاں غیر لائسنس یافتہ نجی اداروں کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

جمعہ کو یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا کے بنگلورو کے علاقائی دفتر نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ دستاویز کی فوٹو کاپیوں کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جمعہ کی پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ شہریوں کو اس کے بجائے ماسکڈ آدھار کا استعمال کرنا چاہیے جو منفرد شناختی نمبر کے صرف آخری چار ہندسوں کو دکھاتا ہے۔ ایسے آدھار کو ہندوستان کی منفرد شناختی اتھارٹی کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اتوار کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے پریس ریلیز کی ’’غلط تشریح کے امکان کے پیش نظر‘‘ اس ایڈوائزری کو منسوخ کر دیا۔ یہ اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا صارفین نے نشان دہی کی کہ حکومت نے آدھار کے غلط استعمال کے بارے میں رازداری کے حقوق کے کارکنوں کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کو بار بار مسترد کیا ہے۔

جمعہ کو یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا نے کہا تھا کہ آدھار ایکٹ 2016 کے تحت نجی سہولیات جیسے ہوٹلوں اور فلم ہالز کے لیے آدھار کارڈ کی کاپیاں جمع کرنا جرم ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ ’’صرف وہی تنظیمیں جنھوں نے UIDAI سے صارف کا لائسنس حاصل کیا ہے، کسی شخص کی شناخت قائم کرنے کے لیے آدھار کا استعمال کر سکتی ہیں۔‘‘

حکومت نے یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ ای- آدھار کے لیے انٹرنیٹ کیفے یا پبلک کمپیوٹر کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔

تاہم اتوار کو حکومت نے کہا کہ شہریوں کو آدھار کی تفصیلات کے استعمال اور اشتراک کے لیے ’’صرف عام احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔‘‘

حکومت نے کہا کہ جمعہ کو جاری کی گئی ایڈوائزری ’’فوٹو شاپ شدہ آدھار کارڈ کے غلط استعمال کی کوشش کے تناظر میں‘‘ جاری کی گئی تھی۔