مرکز نے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ پر غور کرنے کے لیے پینل تشکیل دیا، اپوزیشن نے اسے یک طرفہ فیصلہ قرار دیا

نئی دہلی، ستمبر 2: پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے جمعہ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ مرکز نے ’’ایک ملک، ایک انتخاب‘‘ (ون نیشن، ون الیکشن) کی تجویز پر عمل درآمد کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

جوشی نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں اٹھایا جائے گا، جو 18 ستمبر سے 22 ستمبر تک ہونے والا ہے۔

وزیر نے صحافیوں کو بتایا ’’کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئے گی، جس پر بحث کی جائے گی۔ پارلیمنٹ میں اس پر بات چیت ہوگی… گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

2014 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے سب سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے منشور میں ’’ایک ملک، ایک انتخاب‘‘ کا منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں ایک ہی وقت میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کا انعقاد شامل ہے۔ بی جے پی کا خیال ہے کہ ایک ساتھ ہونے والے انتخابات سے پیسہ بچانے میں مدد ملے گی اور حکومت کو ترقیاتی کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملے گا۔

قبل ازیں جمعہ کو بی جے پی کے سربراہ جے پی نڈا نے رام ناتھ کووند سے اس وقت ملاقات کی، جب خبریں سامنے آئیں کہ سابق صدر کو اس اقدام کو لاگو کرنے کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت نے کووند کی تقرری کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا ہے۔

دریں اثنا حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس اقدام پر تنقید کی اور اس طرح کا فیصلہ لینے کے حکومت کے اختیار پر سوال اٹھایا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا کہ دوسری پارٹیوں اور پارلیمنٹ سے مشورہ نہ کرکے حکومت نے یک طرفہ فیصلہ کیا ہے۔

شیو سینا (ادھو ٹھاکرے دھڑے) کے رہنما سنجے راوت نے کہا کہ حکومت منصفانہ انتخابات کرانے کے مطالبات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

کانگریس لیڈر راجیش ٹھاکر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس طرح کی حرکتیں اس لیے کر رہے ہیں کیوں کہ وہ اقتدار کھونے سے خوف زدہ ہیں۔

عام آدمی پارٹی کی لیڈر پرینکا ککڑ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ بی جے پی کے اس اقدام سے وفاقیت کو خطرہ ہے۔

معلوم ہو کہ 2019 میں مودی نے دوسری میعاد جیتنے کے بعد ’’ایک ملک، ایک انتخاب‘‘ پر غور و خوض کرنے کے لیے ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی تھی۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے یہ کہتے ہوئے اس میٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا کہ یہ خیال وفاقیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

2020 میں بہار میں بی جے پی کے اسمبلی انتخابات جیتنے اور مغربی بنگال میں انتخابات ہارنے کے بعد مودی نے ایک بار پھر یہ کہا تھا کہ ملک کو ’’ایک ملک، ایک انتخاب‘‘ پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

گذشتہ سال الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ اس معاملے پر فیصلہ کرنا اس کے دائرۂ کار میں نہیں آتا اور ایسا کرنا مقننہ پر منحصر ہے۔