آپ دیکھ رہے ہیں زمرہ

نقطہ نظر

بابری مسجدکے ملزمین کیوں بری ہوئے؟

350سے زیادہ گواہوں اور 600دستاویزی ثبوتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد عدالت نے 2800صفحات کے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ملزمان کے خلاف پیش کیے گئے ثبوت ناکافی ہیں اس لیے سبھی 32ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔ سی بی آئی نے جب یہ مقدمہ قائم کیا تھا تو اس وقت ملزمان کی تعداد 49تھی لیکن ان میں سے 17کی موت ہو چکی ہے اور 32ہی زندہ ہیں۔ جب تک اس معاملے کو ہائی کورٹ یا…
مزید پڑھیں...

خبر و نظر

عرب حکمرانوں کے دلوں میں اسرائیل کے لیے نرم گوشہ صرف اپنی ذاتی اور خاندانی سلطنتیں بچانے کے لیے ہے۔ سفارتی تعلقات تو اب جا کر ظاہر ہو رہے ہیں ورنہ پوشیدہ تعلقات بہت پہلے سے استوار ہیں۔ امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگ کے زمانے میں اگر کوئی…

گاندھی اور مودی کے رام راج کا فرق

یوگی کو جمہوریت کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کے رہنماوں کو ہاتھرس جانے سے روکنا مہنگا پڑا ہے اس لیے کہ خود نریندر مودی نربھیا کے گھر جاچکے ہیں لیکن ان پر سیاست کا الزام لگا کر کسی نے نہیں روکا تھا۔ اومابھارتی نے بھی یوگی کے…

’’محنت کش بلی کا بکرا‘‘۔حکومت کو صنعت کاروں اور کارپوریٹس کا مفاد عزیز

بھارت میں روزگار کا فقدان اور سب سے اونچی سطح پر بے روزگاری مودی حکومت کے لیے سردرد بن گئی ہے۔ وزیراعظم کے یوم پیدائش کو بے روزگار نوجوانوں نے ’’یوم قومی بے روزگاری‘‘ کے طور پر منایا جو کہ سارے ملک میں خوب وائرل بھی ہوا۔ اعداد و شمار ہی…

انٹرویو: "حالیہ فیصلوں سے عدالتوں پر عوام کا اعتماد مجروح”

1991میں ایک سنٹرل ایکٹ (Central Act) پاس ہوا تھا جس کے تحت آزادی کے وقت سے جو عبادت گاہیں جس شکل میں تھیں انہیں اسی طرح مانا جائے گا اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ان لوگوں کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اس Act کو ختم کر دیا جائے۔…

بابری مسجدکی تعمیرو مسماری کا پس منظر

بابری مسجد جس دن شہید کی گئی اس دن ہندوستان کی تاریخ کاسیاہ دن تھالیکن جس دن بابری مسجد کےانہدام میں پیش پیش رہنے والوں کوباعزت بری کردیا گیا اس دن کوسیاہ ترین دن ماناجائے توغلط نہ ہوگا۔ پہلے ہی سپریم کورٹ کےفیصلےنےمسلمانوں…

کورونا وائرس اور مین اسٹریم میڈیا کی فرقہ ورانہ نفرت انگیزی

افروز عالم ساحل ان دنوں جبکہ ساری دنیا کورونا کے قہر سے پریشان ہے اور دن رات اس وبا سے چھٹکارے کی دعاؤں اور کوششوں میں مصروف ہے، وہیں ہندوستان کی نام نہاد مین اسٹریم میڈیا  ایک دوسری قسم کی وبا کی شکار ہے اور وہ وبا ہے فرقہ واریت کی۔ اس…

تمام دستاویزات کے باوجود اجاڑ دیئے گئے لوگ کیمپوں میں رہنے پر مجبور

افروز عالم ساحل 45 برس کے محمد ابراہیم علی کی آنکھیں بہت نم ہیں۔ وہ بار بار اپنے ٹوٹے ہوئے مکان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ آنکھوں کے آنسو پونچھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں یہاں تیج پور سے ایک مسجد میں نماز پڑھانے کےلئے بطور امام آیا تھا اور…

مابعد آزادی تحریکات جنہوں نے پرامن طریقے سے بھارت کی تصویر بدل دی

شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ حکومت عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کررہی ہے۔ کئی مقامات پراحتجاج کے دوران تشدد ہوا ہے۔ اسے قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے بھی طاقت کا استعمال کیا ہے۔ آپ کے ذہن میں بھی یہ…

مجھے دلاسا نہیں چاہیے چچا صاحب!

سفیرؔ صدیقی ایک غیر انسانی قانون کی مخالفت کرتی ہوئی بلا تشدد نعرے لگاتے ہوئی، ایک ’نادان‘بھیڑ کا حصہ میں بھی تھا۔ ہم جیسے دل سے کام لینے والےدیوانے، عقل کے مارے، مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔…