2021:معاشی محاذ پر کیسا رہا سال؟

ملک، بے روزگاری سے کراہ رہا ہے۔ سرمایہ کاری میں سست روی باعث تشویش

پروفیسر ظفیر احمد، کولکاتا

2020تک ہماری معیشت کسی حد تک مضبوط اور مستحکم حالت میں تھی مگر کورونا کے قہر کے بعد حالت بالکل ہی تبدیل ہوکر رہ گئی جس سے لوگوں کے درمیان سماجی اور طبعی دوریاں کافی بڑھیں۔ کئی شعبوں میں ملازمین کی عدم موجودگی کا خمیازہ صنعتوں کو بھگتنا پڑا۔ نتیجتاً آزادی کے بعدپہلی بار 2020-21میں مجموعی گھریلو پیداور (جی ڈی پی) میں منفی 7.3فیصد کی تنزلی د یکھی گئی جس کی وجہ سے موجودہ کمزوریوں کو درست کرنے کے لیے مالی سال 2021میں ایک مضبوط اور معتدل بجٹ کو زمین پر اتارنا پڑا۔ حکومت نے اولاً معیشت کی بہتری کے لیے بڑی کوششیں کی ۔ سخت لاک ڈاون کی پابندیوں کا خمیازہ بھگت رہی معیشت کو قوت فراہم کرنے کی کوششوں کا کچھ اچھا نتیجہ بھی سامنے آیا۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ستمبر تا نومبر 2021میں 22ہائی فریکونسی انڈیکٹیرس (HF1) میں سے 19 نے 2019کی اسی مدت میں ماقبل کورونا کی سطح کو پالیا۔ اس میں دو عوامل نے اپنا رول ادا کیا نیز ٹیکہ کاری مہم اور تیوہاروں کے موسم میں خریداروں کے جوش میں آئے اچھال کی وجہ سے معیشت میں اچھی تیزی دکھائی دی۔ ساتھ ہی ایک جامع بجٹ منصوبے نے بھارتی معیشت کی دوبارہ بحالی میں مدد کی۔ واضح رہے کہ بنیادی ڈھانچہ (انفراسٹرکچر) ایک اہم شعبہ ہے جو بجٹ کے ایک بڑے حصہ کی تعمیر کرتا ہے۔ اس لیے اس کے خرچ میں اضافہ 35فیصد کا کیا گیا جو تقریباً 5.5لاکھ کروڑ ہوتا ہے۔ اس شعبہ میں مزید کئی ذیلی شعبے ہوتے ہیں جس میں بجلی، ریلوے ، بندرگاہیں، سڑکیں اور ٹی وی وغیرہ ہیں جس سے توقع تھی کہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے صنعتیں زیادہ ہی روزگار فراہم کریں گی۔ اسی طرح بینکنگ کے شعبہ میں حسب وعدہ ان کے دباو کو کم کرنے کے لیے بجٹ میں غیر پیداواری اثاثے (NPA) سے نمٹنا اور خراب قرضوں (Bad Loan) کو سنبھالنا بھی پڑا جس کے باعث پھنسے ہوئے قرضوں کا منفی اثر نہیں ہوا۔ ویسے جاریہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں نامزد بینکوں کے مجموعی اصل منافع میں سالانہ بنیاد پر 61فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ پبلک سیکٹر بینکوں کا مجموعی اصل منافع 140 فیصد تک بڑھا اور نجی شعبوں کے بینکوں کا منافع 28فیصد بڑھا۔ حالیہ مالی استحکام رپورٹ کے مطابق نجی سرمایہ کاری کا حجم ماقبل کورونا تک نہیں پہنچ پایا کیونکہ اس سال روزگار جانے سے پہلے لوگوں کی آمدنی بہت کم ہوگئی۔ اس لیے لوگ اپنے ضروری اخراجات کو بہت حد تک کم کرنے پر مجبور ہوئے۔ دوسری طرف مہنگائی سے جیب پر بہت برا اثر پڑا۔ جس پر قابو پانے کے لیے طلب اور کھپت کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ ساتھ ہی مہنگائی میں اچھال کی بڑی وجہ 2021میں بد انتظامی بھی رہی۔ 2021میں برآمدات کے درآمدات سے کم ہونے سے جاریہ مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں چالو کھاتے کا خسارہ 9.3ارب ڈالر ہوگیا جو جی ڈی پی کا 1.3فیصد ہوتا ہے جبکہ پہلی سہ ماہی میں یہ 6.6ارب ڈالر تھا۔ آر بی آئی کے مطابق کرنٹ اکاونٹ (چالو کھاتے) کا خسارہ مالی سال 202122کی تیسری سہ ماہی میں 25ارب ڈالر سے اوپر رہنے کی توقع ہے جبکہ مالی سال 2021-22 میں کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ 40سے 45ارب ڈالر رہ سکتا ہے۔ تجارتی خسارہ اور چالو کھاتے کے خسارہ میں اضافہ سے معیشت پر کافی دباو بڑھا ہے جس کی وجہ سے حکومت ضروری مدات پر حسب ضرورت خرچ کرنے سے قاصر رہی۔ جس سے طلب میں اضافہ نہیں ہوپایا چونکہ طلب میں اضافہ سے ہی معاشی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے اس لیے اس کے اثر سے معیشت میں اصلاح کی رفتار کافی سست ہے۔ معیشت پر دباو بڑھنے سے عام آدمی اور کاروباری کو آمدنی میں کمی واقع ہوئی جس سے لوگ اپنا قرض اور سود چکانے سے قاصر رہے۔
اگر ہم 2021کے مثبت پہلو پر نظر دوڑائیں تو سب سے اہم خبر یہ ہے کہ ترقی کی شرح نمو پٹری پر واپس لوٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ 2022میں شرح نمو تقریباً 9.2فیصد رہنے کی توقع ہے مگر کورونا کی تیسری لہر کی نومبر۔ دسمبر میں دستک سے لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہوا۔ جس کا اثر معیشت پر بھی پڑا۔ اب تک بہت ساری ریاستوں میں پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں حکومت معاشی اصولوں کے نفاذ میں زیادہ ہی اقدامی رہی۔ جبکہ اس کا اثر معیشت پر مثبت ہوگا۔ 2021میں ایئر انڈیا کی فروخت مونیٹائزیشن کا پہلا قسط ہے اس سال کارپوریٹس نے کافی منافع کھایا اور ارب پتیوں کی کافی وارے نیارے ہوگئے۔ مگر افراط زر قابل تشویش رہی کیونکہ حکومت اس معاملہ میں کچھ بھی کرنے سے قاصر رہی۔ درآمدات کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے غذائی قیمتیں خاص طور پر کھانے کے تیل کی قیمت لوگوں کی پہنچ سے باہر رہیں۔ باقی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔ حکومت کے ذریعہ اکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی کے باوجود ڈیزل اور پٹرول بدستور مہنگے رہے۔ پورے سال ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے تفریح، سفر، سیر وسیاحت ، ٹیلی کام اور ہاسپٹلیٹی جیسے شعبوں کی قیمتیں بڑھانی پڑیں۔ لاگت میں اضافہ کے ساتھ پیداواری لاگت اور الکٹرانکس بھی مہنگے ہوگئے ۔ اب حکومت ایل آئی سی کو فروخت کرنے بات کررہی ہے، اس کی بولی لگی اورنہ ہی خریداری کے لیے کوئی آگے بڑھا۔ اضافی طلب کے مطابق 3لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچہ سے سرکاری خزانہ پر دباو بڑھے گا۔ یہ امکان بھی موجود نہیں ہے کہ آئندہ تین ماہ میں زیادہ ٹیکس وصولی ہوجائے گی۔ کہیں سے سرمایہ بھی نہیں آیا ۔ ریاستوں کی طرف سے محدود سرمایہ کاری ہورہی ہے کیونکہ وہ اپنے مالیاتی خسارہ کے تعلق سے زیادہ چوکنا ہیں۔ اس لیے خرچ پر لگام لگارہے ہیں 2021میں سرمایہ کاری کو مہمیز دینے والے نجی شعبے سست حال میں ہیں توقع ہے کہ پی ایل آئی سے آگے کچھ بات بنے گی۔ سرمایہ کاری میں تیزی کا نہ ہونا قابل تشویش ہے۔ کورونا کے قبل سرمایہ نہیں آرہا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ پورے سال روزگار ناپید ہی رہا۔ کیونکہ بے روزگاری کے اعداد و شمار میں کافی اتار چڑھاو ہے۔ نہ اس پر ڈاٹا دستیاب ہے۔ آج بے روزگاری کی وجہ سے سارا ملک کراہ رہا ہے۔ بالخصوص خواتین کے لیے روزگار کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔ ہمارے یہاں خواتین کی 16فیصد حصہ داری دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے کم ہے۔ زیادہ تر محنت کشوں نے روزگار کے فقدان کی وجہ سے مایوس ہوکر گھر بیٹھ گے ہیں۔ 2021کے شروع میں اسے لوگوں کی تعداد دو کروڑ 74لاکھ سے زیادہ ہی رہی تھی۔ روزگار پر امیکرون کا اثر گہرا ہورہا ہے۔ اعداد و شمار سے واضح ہوا ہے کہ دسمبر 2021میں شہری بے روزگاری بڑھ کر 9.3فیصد ہوگئی جبکہ دیہی بے روزگاری 7.3فیصد رہی۔
***

 

***

 زیادہ تر محنت کشوں نے روزگار کے فقدان کی وجہ سے مایوس ہوکر گھر بیٹھ گے ہیں۔ 2021کے شروع میں اسے لوگوں کی تعداد دو کروڑ 74لاکھ سے زیادہ ہی رہی تھی۔ روزگار پر امیکرون کا اثر گہرا ہورہا ہے۔ کے اعداد و شمار سے واضح ہوا ہے کہ دسمبر 2021میں شہری بے روزگاری بڑھ کر 9.3فیصد ہوگئی جبکہ دیہی بے روزگاری 7.3فیصد رہی۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  23 جنوری تا 29جنوری 2022