گردش میں ہے تقدیر بھنور میں ہے سفینہ

دعوتی مشن سےپہلوتہی کے تباہ کن نتائج۔ماضی کی غفلتوں کا ازالہ ضروری

پروفیسر محسن عثمانی ندوی ،حیدرآباد

 

معلوم نہیں مسلمانوں کے باشعور طبقہ کو بھی اس بات کا احساس ہے یانہیں کہ سرزمین ہندمیں ان کے خیموں کی طنابیں آہستہ آہستہ اکھڑتی جارہی ہیں۔مسلمانوں کا سب سے بڑا خیمہ جسے قلعہ کہنا چاہیے دینی مدارس تھے اب ان کے بند ہونے کی خبریں آرہی ہیں یہ اسلامی قلعے آہستہ آہستہ زمیں بوس ہورہے ہیں ۔ مسلمانوں کا ایک بڑا خیمہ مسلم پرسنل لابورڈ تھا کئی سال سے نہ اس کا سالانہ جلسہ ہوا ہے نہ کوئی نیا انتخاب نہ اس کی کار گزاری نہ کوئی نقل وحرکت، نہ کوئی بیان نہ کوئی اعلان کچھ اپنی غلطیوں کچھ حکومت کی دشمنی کی وجہ سے چاروں خانے چت۔حالات کا دباؤ اتنا سخت ہے کہ نہ کہیں فکر امروز ہے نہ اندیشہ فردا کا سراغ ہے ۔ تبلیغی جماعت مسلمانوں کی سب سے بڑی اصلاحی اور تربیتی جماعت تھی اب نظام الدین میں اس کا دروازہ مقفل اور کام معطل ہو چکا ہے وہاں سے اب نہ کوئی جماعت جاتی ہے نہ وہاں آتی ہے، جو جماعتیں آئی تھیں ان پر عدالتوں میں مقدمات درج ہیں،حکومت نے جو چارج شیٹ داخل کی ہے اورتبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد سے حکومت نے جو سوالات کیے ہیں ویسے سوالات آج تک کسی تنظیم سے نہیں کیے گئے ان سوالات کا جواب آسان نہیں یعنی اب برسوں تک جماعت کے ذمہ دار کو الجھا کر رکھنا ہے اور تبلیغی سرگرمیوں کولامحدود مدت تک بند رکھنا ہے۔ نظام الدین کی تبلیغی جماعت کی جو متوازی تبلیغی تنظیم ہے جسے شوری گروپ کہا جاتا ہے اس نے بھی خود کوحالات کی وجہ سے تقریباً لاک ڈاؤن کرلیا ہے۔دار المصنفین بہت اہم علمی اور تصنیفی ادارہ ہے اس کا سفینہ گرداب میں ہے،ندوہ اور دیوبند کے بارے میں نہ جانے کب کیا خبر آجائے،مسلمانوں کے سارے ادارے موت اور زیست کی کشمکش سے دوچار ہیں،خوف کا یہ عالم ہے کہ محض اظہار وفاداری کے لیے ایک شہر کے ایک مدرسہ میں مسٹر مودی کے ابروئے خم کودیکھ کراور نگاہ خشمگیں سے ڈر کر اور خاطر داری و خوشنودی کی خاطر تھالیاں بجائی گئیں اور دیپ جلائے گئے اور حکومت کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے کے لیے جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ اب امت کا سفینہ موج حوادث کی زد میں ہے۔ خزاں نے مسلمانوں کے ایک ایک چمن پر چھاپہ مارا ہے خوف ہے کہ مسلمانوں کے دینی تعلیمی ادارے یادگار رونق محفل بن کر رہ جائیں گے جن کاذکرآئندہ تاریخ کی کتابوں میں ہوگا اور مسلمانوں کے تہذیبی آثار کو دیکھ کر غم وحسرت کے ساتھ کوئی شخص اقبال کا یہ شعر پڑھے گا؎
آگ بجھی ہوئی ادھر ٹوٹی ہوئی طناب ادھر
نہ جانے اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ۔۔۔ مسلمانوں میں نہ کوئی مفکر ہے نہ دانشور، نہ کوئی منصوبہ سازقائد، نہ حالات کا تجزیہ نگار مبصر، اور نہ قرآن وحدیث اور تاریخ کی روشنی میں رہنمائی کرنے والا کوئی عالم دین۔ البتہ اب بھی کچھ لوگ ہیں جو اپنی قامت کی درازی ثابت کرنے کے لیے اپنے نام کے ساتھ القاب کا طرہ پرپیچ وخم لگاتے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ دہلی میں سڑکوں کا نام تک بدلا جارہا ہے شہروں کے نام جن سے اسلامیت کی خو اور بو آتی تھی منسوخ کیے جارہے ہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ اورمسلم یونیورسیٹی علی گڑھ کا تاریخی اور اسلامی کردار بھی اب اس دھوپ کی طرح ہے جو آفتاب کے ساتھ جاتی ہے ۔بابری مسجد، جس پر اب دیدہ خونابہ بار کے آنسو کبھی نہیں رکیں گے، تاریخ کے اوراق کے حوالہ ہے۔ وہ ہندوستان جس کے چپہ چپہ پر مسلمانوں کی تہذیب وتمدن کی نشانیاں ہیں اس کو ہندو استھان بنایا جارہا ہے۔ جب مسلمانوں کی شوکت وعظمت کی تمام نشانیاں اس ملک میں مٹادی جائیں گی اور صرف کھنڈرات باقی رہ جائیں گے تومستقبل کے سیاحوں کے لیے جو گائیڈ ہوگا وہ تاریخ کا حوالہ دے کر کہے گا
چمن کے تخت پر جس دم شہ گل کا تجمل تھا
ہزاروں بلبلوں کی فوج تھی اک شور تھا غل تھا
جب آئے دن خزاں کچھ نہ تھا جز خار گلشن میں
بتاتا باغباں رورو یہاں غنچہ یہاں گل تھا
ان حالات کو بدلنے کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی ضروری ہے لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو سمجھیں، اگر ہم اپنی غلطیوں کونہیں جانیں گے توصحیح منصوبہ بندی نہیں کرسکیں گے۔ غلطی کو چند لفظوں میں بیان کریں تو ہم کہیں گے کہ اسلام جو ایک دعوتی مشن تھا اس کی گاڑی پٹری سے اترگئی ہے یہاں کوئی شخص پوچھ سکتا ہے گزشتہ صدیوں میں جو اسلامی خدمات انجام دی گئیں وہ آخرکیا تھیں۔ ذیل کی چند سطروں میں علماء دین کی ان خدمات کا ذکر کیا جارہا ہے جو ہماری تاریخ کا جلی عنوان ہیں ۔
بلا شبہ ہندوستان مسلمانوں کی دعوتی تجدیدی اور اصلاحی کوششوں کا مرکز رہاہے ہندوستان کی اسلامی تایخ کے ابتدائی دور میں کاروان اہل دل نے اسلام کی اشاعت کا کام کیا اور ہزاروں اورلاکھوں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ مسلم سلاطین کی سرپرستی میں یہ ملک مسلمانوں کے لیے گلشن بے خار بن گیا ۔یہ داستان فصل گل راقم سطور نے اپنی کتاب ’’ دعوت اسلام، اقوام عالم اور برادران وطن کے درمیان ‘‘ میں بڑی خوش دلی اور فرحت وانبساط کے ساتھ بیان کی ہے۔ہندوستان میں مشائخ روحانی اور علماء ربانی کے ذریعہ اور ان سے پہلے مسلمان تاجروں کے ذریعہ یہ کام انجام پایا۔ایک عرصہ کے بعد علماء دین نے محسوس کیا کہ ہندوستان کے قدیم مذاہب اور تہذیبوں کے خیالات وعادات بھی مسلمانوں پر اثر انداز ہور ہے ہیں اس لیے دعوتی اور تبلیغی کام کا رخ حفاظت دین اور تطہیر عقائد، ردبدعات واصلاح رسوم کی طرف مڑ گیا۔یعنی اب دفاعی نوعیت کے کام کی طرف مسلمان علماء متوجہ ہوگئے۔دعوتی کام یا اقدامی نوعیت کا کام پس پشت چلا گیا۔اس وقت سے لے کر اب تک بحیثت مجموعی مسلم علماء اور قائدین کے کام کا رخ یہی رہا ہے،بعد میں سیاسی تحریکیں بھی مسلمانوں میں اٹھیں لیکن برادران وطن کے درمیان دعوتی فکر کا زمانہ واپس ہی نہیں آیا۔ صورت بایں جا رسید کہ دیوی دیوتاؤں کی کثرت اور ان کی عبادت اور شرک کے طوفان کو دیکھ کر بھی اہل اسلام میں وہ بے چینی پیدا نہیں ہوئی جو ہونی چاہیے اور جو پیغمبروں کو ہوتی تھی اور جس کا ذکر بار بارقرآن میں آیا ہے کہ کیا آپ ان ( مشرکوں ) کے ایمان نہ لانے سے خود کو ہلاک کرڈالیں گے۔ انسان فوراًعملی اقدام نہ کرسکے یہ بات قابل معافی ہے لیکن شرک کی گرم بازاری کو دیکھ کر دل کی بے چینی کا نہ ہونااور صرف مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام پر مطمئن ہوجانا ایمان کے کمزورہوجانے کی علامت ہے، دل کی بےچینی اگر ہوگی تو انسان سوچے گا اور کام کا منصوبہ بنائے گا لیکن شرک کے طوفان اور کفر کے سیلاب کو دیکھ کوئی پریشانی دل کونہ ہو یہ ایمان کی صحت مندی کی علامت نہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کا ابتدائی دور دعوت وتبلیغ کا دور رہا ہے اس کے بعد مسلمانوں کی تاریخ کے سارے ابواب یا تو سیاست وحکومت کے ابواب ہیں یا علماء کی جانب سے حفاظت دین کے ابواب ہیں، حفاظت دین کے ابواب میں علم حدیث کی ترویج واشاعت اور ان کی تدریس کا کام بھی ہے اور طریقت کو شریعت پر ترجیح دینے کے فلسفہ اور وحدۃ الوجوداور وصول الی اللہ کے غیر اسلامی طریقوں کے خلاف جہاد بھی ہے جس کی نمائندگی امام ربانی اور مجدد الف ثانی کرتے ہیں حفاظت دین کے ابواب میں قرآن وحدیث کی تعلیمات کی اشاعت اور قرآن وسنت سے براہ راست واقفیت کی تحریک بھی ہے اوراس باب کا معروف نام اور جلی عنوان حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اور ان کا خانوادہ ہے جنہوں نے قرآن مجید کے ترجمے کیے،صحاح ستہ کے درس کو رواج دیا ۔حفاظت دین کے ابواب میں مشرکانہ عقائد وتہذیب اور بدعات ورسوم کے مقابلہ کی تحریک بھی ہے جس کی نمائندگی سید احمد شہید اور حضرت اسماعیل شہید کرتے ہیں۔ حفاظت دین کے ابواب میں مدارس دینیۃ کا قیام اور علوم دینیہ کی اشاعت کا کام بھی ہے جس کا دور دارالعلوم دیوبند سے شروع ہوتا ہے جس کے بانی مولانا قاسم نانوتوی تھے۔ حفاظت دین کے ابواب میں مسلمان عوام وخواص تک اور شہر ودیہات تک دین کی بنیادی باتیں پہونچانے کی تحریک بھی ہے جس کے قائد مولانا الیاس کا ندھلوی تھے،حفاظت دین کے ابواب میں مسلمانوں میں روحانیت پیدا کرنے اور عشق الٰہی کی چنگاری کو شعلہ بنا دینے کا کام بھی ہے جو خانقاہوں نے انجام دیا۔حفاظت دین کے ابواب میں مغربی تہذیب، کمیونزم اور الحاد سے مقابلے اور مسلمانوں کو احساس کمتری سے بچانے کی تحریک بھی ہے جس کی قیادت علامہ اقبالؒ اور مولانا ابو الاعلی مودودیؒ نے کی۔ حفاظت دین کے ابواب میں اردوزبان میں اعلیٰ درجہ کے اسلامی لٹریچر کی اشاعت کا کام بھی ہے جس کی سربراہی علامہ شبلی اور ان کے شاگردوں نے کی ہے۔ حفاظت دین کے ابواب میں سائنس اور مذہب کی کشمکش میں مذہب کی طاقتور حمایت کا کام بھی ہے یہ کام ڈاکٹر رفیع الدین، مولانا عبد الباری ندوی اور مولانا وحید الدین خان نے بہتر طور پر انجام دیا۔ مسلمانوں کی حفاظت کے ابواب میں مسلمانوں کو عصری تعلیم سے آراستہ کرنے کا کام بھی ہے جسے سرسید احمد خاں اور ان کے رفقاء نے انجام دیا۔ یہ سب ہندوستان کی تاریخ میں ہمارے کاموں کا مختصر منظرنامہ ہے۔ یہ سارے کام مسلمانوں میں دین کی اشاعت کے کام بھی تھے اور دفاعی نوعیت کے کام بھی انہیں کہا جاسکتا ہے۔ لیکن اس پوری تاریخ میں برادران وطن تک دین توحیدکی اشاعت کے کام کا خلا ہے۔ بہت مختصر طور بات کہی جائے تو اس طرح کہی جاسکتی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ بحیثیت مجموعی مشرکین کو دعوت الی اللہ دینے کے بجائے پشتینی مسلمانوں کو رجوع الی اللہ کی دعوت دینے کی تاریخ ہے یا مسلمانوں کو فکری اورنظریاتی حملوں سے بچانے کی تاریخ ہے۔ ابتداء میں مسلمان تاجروں خاص طور پر چشتی سلسلے کے بزرگان دین نے دعوت دین کا جو شاداب درخت لگایا تھا جو برگ وبار لایا تھا وہ بعد میں خزاں رسیدہ بن گیا اور مسلمانوں کو آج جن حالات سے سابقہ پڑ رہا ہے وہ دعوت کے اسی بنیادی کام کے چھوٹ جانے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ دعوت کے بنیادی کام سے مراد وہ کام ہے جو پیغمبروں کی کوششوں کا محور رہا ہے۔ حالات کے رخ کو اگر اپنے فائدے اور غلبہ کی طرف موڑنا ہے اور پیغمبروں کے اسوہ پر عمل کرنا ہے توہمیں دعوت کا نیامحاذ اس ملک میں قائم کرنا ہوگاکہ یہی انبیاء کا اصل محاذ ہے، اس ضروری اور بنیادی کام کی طرف، جو تمام انبیاء کرام کا اور پیغمبر آخر الزماں ﷺکا اصل کام رہاہے، سب سے زیادہ توجہ اس دور میں جماعت اسلامی نے کیا ہے کہ اس نے ہندوستان کی تمام زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع کیے اور اسلامی لٹریچر تیار کیا۔غیر مسلموں میں کام کے اس خلا کی طرف علماء کو متوجہ کرنا مشکل اس لیے ہے کہ علماء حقیقت پسندی سے زیادہ عقیدت مندی کا مزاج رکھتے ہیں۔ ہر مسئلہ میں وہ اس طرح سوچتے ہیں کہ واقعی یہ کام ضروری ہے تو ہمارے بزرگوں نے کیوں نہیں کیا۔ ہندوستان کے علماء میں اس کام کی ضرورت کا سب سے زیادہ احساس مولانا ابو الحسن علی ندوی کو تھا کہ سیرت کا مطالعہ ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا تھا انہیں برادران وطن کے درمیان کام کے خلا کاشدت کے ساتھ احساس تھا اور یہ احساس ہر اس شخص کو ہونا چاہیے جس نے انبیاء کرام کا اورسیرت نبوی کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہو، انبیاء کرام پر ان کی کتاب النبوۃ والانبیاء فی ضوء القرآن ہے اورسیرت نبویؐ پر ان کی ایک نہیں متعدد کتابیں عربی اور اردو دونوں زبانوں میں ہیں، اللہ تعالی نے انہیں حکمت نبوی کا خوشہ چیں بھی بنایا تھا انہیں محسوس ہوا کہ قرن اول میں صحابہ کرام اور مشرکین مکہ کے درمیان روابط اور تعلقات موجودتھے رشتہ داریاں بھی تھیں اور لسان قوم بھی ایک ہی تھی، سب ایک دوسرے کے شناسا تھے،اس لیے دعوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن ہندوستان میں تعلقات کا یہ سارا پلیٹ فارم جس پر دعوت کی بنیاد رکھنی تھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے اس لیے پہلے اہل وطن کو مانوس کرنے اور اسلام اور مسلمانوں سے ان کی اجنبیت دور کرنے کی ضرورت ہے اس لیے سوچ سمجھ کر انہوں نے پیام انسانیت کے نام سے تحریک شروع کی اور پورے ہندوستان میں شہر بہ شہر جلسے کیے، مولانا عبد الکریم پاریکھ ان کے رفیق اور معاون خاص تھے ۔تصنیف وتالیف کے علاوہ مولانا علی میاں کا میدان کار عرب وعجم دونوں تھے ان سب کے ساتھ ہندوستان میں برادران وطن سے مسلسل خطاب تھا۔
برادران وطن کو اسلام اور مسلمانوں سے مانوس کرنے کا کام اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا کام جو دعوت اسلام کا پہلا زینہ ہے فوراً شروع کرنے کی ضرورت ہے یہ کام صرف کسی ایک ادارہ اور تنظیم کے کرنے کا نہیں ہے اورنہ اس کی کوئی ایک متعین شکل ہے اس کے بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں ’’ہر گل را رنگ وبوئے دیگرست‘‘جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین سے استدعا ہے کہ وہ اپنے کو عقل کل سمجھنا چھوڑ دیں اور ہم جیسے فقیر راہ نشیں اور غم فردا سے رنجور وحزیں شخص کی بات بھی سن لیا کریں۔ اس وقت برادران وطن کے سماج میں فجاسوا خلال الدیار کے انداز میں ہر دروازہ پر دستک دینے کی ضرورت ہے ہر شخص کو متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا علی میاں نے اگرپیام انسانیت کے نام سے تحریک شروع کی تھی تو خدمت خلق کے عنوان سے دوسری جگہ دوسری تحریک شروع ہوسکتی ہے۔ مقصد ایک ہے برادران وطن کو اسلام اور مسلمانوں سے مانوس کرنا اور روابط کے استحکام کے بعد دین توحید کوان کے دلوں تک پہونچانا۔ یہ کام مسلم دور حکومت میں آسان تھا اور اب ہندو احیائی تحریکوں کے عروج کے زمانہ میں مشکل ہوگیا ہے ظاہر ہے اس کام کا اجر بھی اب زیادہ ہوگیا ہے لیکن اب بھی تعلقات اور مراسم استوار کیے بغیر یہ کام نہیں انجام پاسکتا ہے کوششوں کا اتنا فائدہ تو ضرور حاصل ہوگا کہ نفرتیں کم ہوں گی اور اگر روابط مضبوط ہوجائیں گے تو جانے کتنے کیمیاگرداعی ہوں گے جن کی کوششیں رنگ لائیں گی اور جو کسی یار مہرباں کے بارے میں کہیں گے ؎
لائے اس بت کو التجا کر کے
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
سب سے پہلے اس دعوتی کام کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔یہ شعور اگر عام ہو جائے گا تو ہر جماعت، قومی سطح کی ہو یا ریاستی سطح کی، ایک شعبہ برادران وطن سے انسانی اور شریفانہ تعلقات کے لیے قائم کرے گی اور اپنے حسن اخلاق اور کردار سے دعوت کی راہ ہموار کرے گی اور کہے گی؎
راہ پر ان کو لگا لائیں تو ہیں باتوں میں
اور کھل جائیں گے دوچار ملاقاتوں میں
ضروری ہے کہ یہ دعوتی شعور عام ہو اور مسلمانوں کا ہر مدرسہ چھوٹا ہو یا بڑا لسان قوم میں مہارت والے علماء تیار کرنے کی کوشش کرے اور غیر مسلموں سے مکالمہ اور ان کے درمیان لسان قوم میں تقریروں کی مشق طلبہ کو کرائے۔ برادران وطن کی تہذیب اورمذہب کے مطالعہ کو کورس میں داخل کرے ۔اور صرف ایسے ہی مدارس کو اہل شعور کا اور بالغ نظر علماء کا مدرسہ سمجھاجائے۔صحاح ستہ پڑھانے والے علماء اور شیوخ الحدیث کو بھی یہ بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اصل حدیثی خصوصیت وہ پیغمبرانہ دعوتی کردار ہے جو آنحضرت ﷺ کی مکی اور مدنی زندگی میں نظر آتا ہے ۔لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔ ان کوطلبہ اور اساتذہ میں عوام وخواص میں تحریر وتقریر میں یہ بات ببانگ دہل کہنی چاہیے۔
علماء کرام اور غیر علماء کرام کے حد سے بڑھے ہوئے عقیدت مندانہ مزاج کی وجہ سے بعض لوگ میری تحریروں پر سوء ادب کا الزام لگاتے ہیں۔ کوئی نہیں بتاتا کہ ہمارا تجزیہ اوریہ نظریہ غلط ہے کہ برادران وطن کے مرض کفر وشرک کودور کرنے کے لیے اسلام کے داروئے شفا کو پہونچانے میں کوتاہی ہوئی ہے۔کوئی تو کہے کہ یہ میرا الزام ہے بہتان ہے جھوٹ ہے کذب وافتراء ہے۔سوء ادب کاالزام لگانے والوں کو دل بیتاب اور چشم پرآب کی داستان کیسے سنائی جائے ؎
ابھی کمسن ہیں وہ کیا عشق کی باتیں جانیں
عرض حال دل بیتاب کو شکوہ سمجھے
***

انسان فوراًعملی اقدام نہ کرسکے یہ بات قابل معافی ہے لیکن شرک کی گرم بازاری کو دیکھ کر دل کی بے چینی کا نہ ہونااور صرف مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام پر مطمئن ہوجانا ایمان کے کمزورہو جانے کی علامت ہے، دل کی بےچینی اگر ہوگی تو انسان سوچے گا اور کام کا منصوبہ بنائے گا لیکن شرک کے طوفان اور کفر کے سیلاب کو دیکھ کوئی پریشانی دل کونہ ہو یہ ایمان کی صحت مندی کی علامت نہیں۔