ڈرنے سے ہار ہوگی، لڑنے سے جیت

ہم وطن ہندو بہنوں کے نام ایک کھلا خط

پیاری بہنو!
میں وہی آفرین ہوں جو کل کلاس میں تمہارے ساتھ بغل میں بیٹھی تھی۔ میں وہی زینب ہوں جس کے ساتھ کل ہی تم نے پانی پوری کے مزے لیے تھے۔ میں وہی فاطمہ ہوں جسے ہر سال سب سے پہلے تم ہی جنم دن کی مبارکباد دیتی رہی ہو۔ اب تو تم مجھے پہچان گئی ہوگی۔ ہاں! میں تمہاری وہی سہیلی ہوں جس سے تم چھپ چھپ کر دل ہی دل میں اور دل سے دوستی نبھاتی ہو۔ آج کچھ ایسی باتیں کرنے کا جی چاہا جو میں تم سے آمنے سامنے بیٹھ کر نہیں کر سکتی۔ لیکن آج حالات کے آگے مجبور ہوکر مجھے وہ باتیں تم سے کرنی پڑ رہی ہیں۔ ہچکچاہٹ ہے، شرم ہے، دل ڈرتا ہے۔ اس لیے اس خط کو ذریعہ بنایا ہے۔
کیا تمہارے گھر میں بھی ہم لوگوں کے بارے میں وہی سب باتیں ہوتی ہیں، جسیی سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں، بنگلہ دیشی ہیں، درانداز ہیں، دہشت گرد ہیں، ملک کے غدار ہیں۔ کہیں تم بھی تو ایسا نہیں سوچنے لگی ہو؟ کاش کہ یہ سارے سوال میرے دماغ میں کبھی آتے ہی نہیں۔ لیکن افسوس کہ کچھ اقتدار کے لالچیوں نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ مجھے یہ سب سوچنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ یہ وہی لالچی لوگ ہیں، جنہوں نے اقتدار پانے یا اقتدار پر جمے رہنے کی خاطر پیار محبت رشتے بھائی چارے سب کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ تمہارے دل تک ابھی یہ لوگ نہیں پہنچ پائے ہوں گے۔ ابھی تمہارا دل ویسا ہی زندہ ہوگا جیسا میرا دل ہے۔ تو کیوں نہ اس زندگی سے اور زندگی پیدا کی جائے۔
کیوں نہ لوگوں کو ان کی اصلیت بتائی جائے؟انہوں نے ایک مذہب کا لبادہ پہن کر لوگوں کو دوسرے مذہب سے لڑوانے اور نفرت پھیلانے کا کام کیا ہے۔ جبکہ کوئی بھی مذہب ایسا نہیں سکھاتا۔ لوگ آپس میں لڑتے رہیں اور یہ ٹھاٹ سے راج کرتے کریں، ان کی لوٹ پر لوگوں کا دھیان نہ جائے۔ ہمیں سچ بتانا ہوگا۔ ہمارے ملک کے لوگ اس دھوکے میں نہ رہ جائیں کہ کوا ان کا کان لے کر بھاگ گیا، جبکہ کان اپنی جگہ پر ہے۔
لٹیرے کوا دکھا کر ہماری جیب کاٹ رہے ہیں۔ سب کو دیکھنا ہوگا کہ ملک میں اس کے لیے کیا ہے؟ جن وعدوں اور امیدوں کے ساتھ لوگوں نے لیڈروں کے ہاتھوں میں ملک سونپا تھا، کیا وہ سب پورے ہوئے یا نہیں؟
نہ بچوں کے لیے اچھے سرکاری اسکول ہیں، نہ ہی بیماروں کے لیے اچھے سرکاری اسپتال۔ نہ پینے کے لیے صاف پانی۔ نہ رہنے کے لیے پکا مکان نہ ہی دو وقت کا کھانا۔ رسوئی گیس کے دام آسمان پر ہیں۔ ہر قدم پر رشوت ہے۔ سماج کی حالت ایسی کہ کہاں کب کس کے ساتھ کیا ہو جائے، کہا نہیں جا سکتا۔ خاص طور پر ہم بچیوں و عورتوں کے ساتھ۔ گھر سے نکلنے کے بعد بخیریت واپس آنے کی گارنٹی نہیں۔ چھیڑ چھاڑ، عصمت دری، قتل، لوٹ مار کی خبروں سے اخبار بھرا رہتا ہے۔ اب لوگوں کو یہ خبریں بھی عام لگنے لگی ہیں۔ اکثر ایسے ملزم دبنگ ہوتے ہیں، پولیس ان کو پکڑنے کے بجائے الٹا ان کی حفاظت کرتی ہے۔
سڑک کا کون سا گڑھا کس کی قبر بن جائےگا گزرنے والے کو پتہ نہیں۔ جو کسان ہمارے لیے اناج اگاتے ہیں وہ خودکشی کرنے پر کیوں مجبور ہو رہے ہیں؟ حکومت نے بڑے بڑے سرمایہ داروں کا قرض بغیر کچھ کہے معاف کردیا لیکن جب کسان اپنے قرض کی معافی کے لیے سڑک پر اترے تو ان کو گولی مار دی گئی۔ کوئی قلم اور کاغذ سے آواز اٹھاتا ہے تو اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ کیا ملک میں ہر ایک کے پاس مستقل آمدنی کا کوئی بندوبست ہے؟ نہ نوجوانوں کے پاس نوکریاں ہیں اور نہ کسی کے پاس اچھا کاروبار ہے۔ جیسے تیسے لوگوں نے کسی طرح خود کو زندہ رکھا ہوا ہے۔
امیر اور غریب کے مابین کھائی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک طرف تو وہ ارب پتی ہیں جن کے پاس اتنی دولت جمع ہو گئی ہے کہ ان کی پچاس نسلیں آرام سے گھر بیٹھ کر کھا سکتی ہیں تو دوسری وہ غریب ہیں جن کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں۔ ہر طرح کی خوشیاں انہوں نے اپنے لیے سمیٹ لی ہیں اور ہر طرح کے دکھ، پریشانیاں اور مسائل ہمارے دامن سے بندھ سی گئی ہیں۔ یہ مسائل ہمارے بچوں کی زندگی برباد کر رہی ہیں۔ انہیں نشے اور جرم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ہمیں مل کر ہی ان کا حل تلاش کرنا ہوگا۔
ہمارے ہر دکھ کا ذمہ دار یہ نظام اور رہنما ہیں۔ ہماری انگلی ان کی طرف نہ اٹھے اس لیے انہوں نے ذات پات اور مذہب کی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ انہوں نے اکثریت کو ڈرانے کے لیے ایک قوم کو دہشت گرد کہنے کا کھیل کھیلا ہے۔ اکثریت کو اقلیتوں کا ڈر دکھا کر خود اکثریت کے نام نہاد محافظ بن بیٹھے ہیں، جبکہ اکثریت کا بڑا حصہ خود ہی زندگی کے ان بنیادی مسائل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کسانوں، مزدوروں، دلتوں، پسماندہ اور مذہبی اقلیتوں کے ذہنوں میں پولیس مقدمات کا ہوا کھڑا کیا ہوا ہے۔
اگر ہم مسلمان دہشت گرد، گھس پیٹھئے، مارکاٹ کرنے والے ہوتے تو کیا اتنے سارے شہروں میں اتنی بڑی تعداد میں تسلسل کے ساتھ پر امن طریقے سے اپنی تحریک چلا رہے ہوتے؟ آج ہم فخر اور اعزاز کے ساتھ ملک کا پرچم ہاتھ میں لے کر سردی گرمی برسات سب جھیل رہے ہیں۔
یہ کیسے ’دہشت گرد‘ ہیں ہزاروں کے مجمع میں آتے ہیں، لاٹھی گولی سب کھاتے ہیں لیکن آئین کے تحفظ کی بات کرتے ہیں۔ اور دیکھو، کتنی بڑی تعداد میں لاکھوں ہندو اور دوسرے مذاہب کے لوگ سماج میں ترقی پسند نظریات رکھنے والے ہمارے دیسی باشندے بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ دوسری طرف آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ ہیں جو وہ لگاتار ہمارے خلاف تلخ اور نفرت انگیز باتیں کہہ رہے ہیں۔ وہ غنڈوں کے ذریعے غریبوں کا خون تک کر دیتے ہیں، مسلمان مل گیا تو اس کی داڑھی پکڑکر جئے شری رام کے نعرے لگواتے ہیں۔ اکثرخبریں آتی ہیں کہ بات تو وہ ہندو لڑکیوں کی حفاظت کی کرتے ہیں لیکن ان ہی کے کالج میں گھس کر ان کے ساتھ بد سلوکی اور بدتمیزی بھی کرتے ہیں۔
این پی آر، این آر سی کے تحت شہریت تو سب کو ثابت کرنی ہوگی، کاغذ ہو یا نہ ہو، پیسہ دے کر بنوانے ہوں گے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔ لیکن سی اے اے جس میں پناہ دینے کی بات ہے مسلمانوں کو چھانٹ کر الگ کر دیا گیا ہے۔ اس کا ہمیں گہرا دکھ ہے۔ یہ اصولی طور پر بھی غلط ہے، آئین کے بھی خلاف ہے۔ آر ایس ایس اس میں بھی نفرت پھیلا رہی ہے کہ اس سے وہ مسلمانوں کو چھانٹ دے گی۔ ایسا امتیازی سلوک قانونی طور پر ہونے لگے تو یہ لوگ آگے چل کر دلتوں، پسماندہ طبقوں اور قبائلیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا شروع کردیں گے۔
ہم آج صرف اپنا حق لینے کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ظلم کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ جدوجہد ہر محنت کش کی حمایت میں ہے۔ ہم نے اب ملک کو بچانے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ ماں باپ، بہن بھائی، دادا دادی، اپنے پرائے کے ساتھ ساتھ اپنے گود کے بچوں کو بھی میدان میں اتار دیا ہے۔ جو ہو سو ہو ہم تیار ہیں۔
چند اقتدار کے لالچیوں نے پورے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔ عوام آپس میں لڑا دیا ہے۔ سماج میں نفرت کا زہر گھول کر سماج کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے اپنی عیش کے لیے ہندوستان کے اخوت کو پاؤں تلے کچل دیا ہے۔ ہمیں تو اب اپنا وہی پرانا ملک چاہیے جس میں جب گیتا دیدی کے یہاں مہمان آتے تھے تو سیویاں بنانے گلریز آپا پہونچ جاتی تھیں اور جس دن گیتا دیدی کے یہاں سے دمالو اور کچوڑی ہن کر گلریز آپا کے یہاں آتی تو سارے گھر والوں کی دعوت ہوجاتی تھی۔
رضیہ خالہ کے بیٹے انور بھائی پر زیادہ حق پڑوس میں رہنے والی ان کی پوجا بہن کا تھا یا انور بھائی کی سگی بہن سمیرا کا؟ یہ جھگڑا ابھی تک رضیہ خالہ سلجھا نہیں پائی ہیں۔ شرما جی کے بیٹے سنجئے سامنے رہنے والے عاقب کو روزانہ اپنی سائیکل پر بٹھا کرمدرسہ چھوڑنے جاتے تھے۔
سندھیا چاچی سے گجیہ بنانا سیکھ کر آصفہ اپنے سسرال میں واہ واہی لوٹتی ہے۔ وہیں سندھیا چاچی کی بیٹی کومل کو دیکھنے جب لڑکے والے آئے تھے تو شاہی ٹکڑا آصفہ کی والدہ نے بنایا تھا۔ اب یہ ساری باتیں کہانیاں لگتی ہیں۔ لیکن یہی ہمارے ہندوستان کی حقیقت ہوا کرتی تھیں۔ اگر ہم نے اب بھی اس حقیقت کو زندہ نہیں کیا تو ہمارا ہندوستان بھی ایک کہانی بن جائے گا اور اس کے ذمہ دار ’ہم بھارت کے لوگ‘ ہی ہوں گے۔
ہماری پکار ہے ’ہم ملک بچانے نکلے ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو‘۔ میری بہنو! ڈرنے سے ہار ہوگی، لڑنے سے جیت۔
دل کا درد بیان کرنے میں اگر کہیں لہجہ سخت ہو گیا ہو تو معافی چاہتی ہوں۔ فقط
روشن باغ الہ آباد سے تمہاری سہیلی
آفرین