چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھاکے چلے

ورورا راؤ، ضمانت کے لیے وبا کا بہانہ بنارہے ہیں:این آئی اے

 

ممبئی۔ (دعوت نیوز نٹ ورک) کورونا وائرس اور کئی بیماریوں سے متاثر اسی سالہ تلگو شاعر ورورا راؤ کی درخواست ضمانت کی سماعت پر تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے ، بامبے ہائی کورٹ میں جوابی حلف نامہ داخل کرتے ہوئے الٹا ان پر الزام عائد کرتی ہے کہ "ورورا راؤ ضمانت طلب کرنے کے لیے عالمی وبائی امراض کی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تقریباََ بستر مرگ پڑے ہوئے ایلگار پریشد کیس کے ملزم ورا ورا راؤ کے ساتھ اس سے زیادہ بے رحمی کا مظاہرہ کیا ہوسکتا ہے۔ "الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے "کے مصداق این آئی اے اپنے حلف نامے میں مزید یہ دعوی بھی کرتی ہے کہ راؤ کے میڈیکل ریکارڈ یا جے جے اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ کی پیش کردہ رپورٹ میں یہ تجویز نہیں کیا گیا تھا کہ وہ ایسی کسی بیماری بھی میں مبتلا ہیں جس کی بناء پر انہیں فوری طور پر ملٹی اسپیشلیٹی اسپتال میں علاج کی ضرورت ہے۔جبکہ تلنگانہ میں مقیم ان کے افراد خاندان کا کہنا ہے کہ جب وہ ان سے ملنے کے لیے جے جے اسپتال گئے تو وہ ایک ٹرانزٹ وارڈ کے پیشاب میں بھیگے ہوئے بستر پر لاوارث پڑے تھے۔ جہاں ایک منٹ کے لیے بھی کھڑا ہونا دوبھر تھا ۔نوی ممبئی کی تلوجا جیل میں عدالتی تحویل میں قید ورا ورا راؤ کی صحت کی بگڑتی صورتحال پر ان کے اہل خاندان ،متعدد مصنفین اور سماجی کارکنوں نے انہیں فوری علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد انہیں ہوئے جے جے اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں تشخیص کے بعد ان میں کورونا وائرس مثبت پایا گیا۔اس کے علاوہ ان میں اعصابی اور یورولوجیکل بیماریاں بھی پائی گئیں۔تقریباََ 22 ماہ سے قید ورا ورا راؤ نے میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر ضمانت کے لیے این آئی اے کی خصوصی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے بمبئی ہائی کورٹ میں ضمانت کی دو درخواستیں دائر کیں جس میں ان کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے عارضی ضمانت کی درخواست کی گئی اور جیل حکام سے گزارش کی گئی کہ ان کے طبی ریکارڈ کی بناء پر علاج کے لیے انہیں سرکاری یا نجی اسپتال میں داخل کروائیں۔ ورا ورا راؤ کی درخواست ضمانت پر بامبے ہائی کورٹ نے این آئی اے اور مہاراشٹر حکومت سے اس بارے میں جوابات طلب کیے تھے کہورورا راؤکی تشویشناک حالت کے پیش نظر کیا مناسب طریقے سے ان کی دیکھ بھال کی جاسکتی ہے؟ عدالت نے کہا تھا کہ وہ اس مرحلے پر ضمانت کی درخواست منظور نہیں کرے گی اور حکام سے جواب طلب کیا گیا تھا۔پچھلے تین ہفتوں سے خود سے چلنے، برش کرنے یا یہاں تک کہ بیت الخلا جانے سے قاصر ورا ورا راؤ سے بجائے اس کے کہ این آئی اے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قانونی امداد فراہم کرتی الٹا ان پر عالمی وبائی مرض کوویڈ 19 کی آڑ میں ناجائز فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کرنے لگی ہے۔ جبکہ ورا ورا راوء کی کووڈ19 رپورٹ مثبت پائی گئی۔ این آئی اے کے مطابق جب ان کی حالت مستحکم ہے تو پھر انہیں ناناوتی اسپتال کیوں منتقل کردیا گیا؟

تلنگانہ میں مقیم ان کے افراد خاندان کا کہنا ہے کہ جب وہ ان سے ملنے کے لیے جے جے اسپتال گئے تو وہ ایک ٹرانزٹ وارڈ کے پیشاب میں بھیگے ہوئے بستر پر لاوارث پڑے تھے۔ جہاں ایک منٹ کے لیے بھی کھڑا ہونا دوبھر تھا ۔نوی ممبئی کی تلوجا جیل میں عدالتی تحویل میں قید ورا ورا راؤ کی صحت کی بگڑتی صورتحال پر ان کے اہل خاندان ،متعدد مصنفین اور سماجی کارکنوں نے انہیں فوری علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد انہیں ہوئے جے جے اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں تشخیص کے بعد ان میں کورونا وائرس مثبت پایا گیا۔