پرشانت بھوشن نے توہین عدالت کے مقدمات میں اپیل کے حق کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا

نئی دہلی، ستمبر 13: لائیو لا ڈاٹ اِن کی خبر کے مطابق معروف وکیل پرشانت بھوشن نے ہفتہ کے روز توہین عدالت کے مقدمے میں اپنی سزا کے خلاف اپیل کا حق طلب کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں رجوع کیا۔

بھوشن نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ ان کی اپیل کی سماعت ایک بڑے اور مختلف بنچ کے ذریعے کی جائے۔

بھوشن نے استدلال کیا کہ اپیل کا حق ایک بنیادی حق ہے جس کی ضمانت آئین اور بین الاقوامی قوانین کے تحت دی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ اپیل ’’غلط سزاؤں کے خلاف ایک اہم محافظ کے طور پر کام کرے گی اور سچائی کو بطور دفاع تحفظ فراہم کرے گی۔‘‘

بھوشن نے کہا کہ سپریم کورٹ توہین عدالت کے معاملات میں خود ہی ’’پراسیکیوٹر، گواہ اور جج‘‘ کی حیثیت سے کام کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص ایک ساتھ ایک ناظم اور جج نہیں ہوسکتا ہے۔

موجودہ قواعد کے مطابق جو شخص توہین عدالت کا مرتکب پایا گیا ہے، وہ اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرسکتا ہے۔ تاہم اس درخواست کا فیصلہ چیمبرز میں اس شخص کو سنے بغیر ہی کیا جاتا ہے۔