مدیر کے نام خطوط کا پست ہوتا معیار

مومن فہیم احمد عبدالباری، بھیونڈی

اردو میری مادری زبان ہے اور اردو سے مجھے محبت بھی ہے۔بچپن سے ہی گھر میں اردو اور انگریزی اخبارات زیر مطالعہ رہے ہیں۔ آج بھی صبح اٹھ کر اُردو اور انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتا ہوں اس کے علاوہ لائبریری اور انٹرنیٹ پر موجود ہندی، انگریزی اور مراٹھی اخبارات، سرسری طور پر ہی سہی لیکن پڑھنے کی عادت ہے۔ ان اخبارات کے مطالعے میں بھی میری اولیت اردو اخبار پڑھنے کی ہوتی ہے۔ خوشی ہوتی ہے کہ ممبئی، حیدرآباد، دلی اور بنگلورو کے علاوہ نسبتاً چھوٹے شہروں کے اخبارات کے مدیران اور ان کا عملہ بھی بڑی محنت سے ہم تک خبریں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض مقامی خبروں کے لیے چھوٹے شہروں کے اخبارات ہی معتبر ذریعہ ہوتے ہیں۔ تقریباً تمام زبانوں کے اخبارات میں ایک اہم گوشہ مدیر کے نام خطوط کا ہوتا ہے۔ باقاعدہ قاری کے لیے یہ گوشہ اپنے آپ میں دلچسپی کا باعث ہوتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخبار کے قارئین کی ذہنی سطح کیا ہے؟ اردو اخبارات میں بھی یہ گوشہ مراسلات اور اعلانات کی سرخی کے تحت شائع کیا جاتا ہے۔ اس کالم میں جو خطوط، مراسلے یا اعلانات شائع کیے جاتے ہیں ان میں ایک آدھ کو چھوڑ کر بیشتر مبارکباد، تعزیت، تلاش گمشدہ، دعائے صحت کی اپیل، جلسے جلوس اور پروگرام کے اعلانات و مراسلات کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ جلسے جلوس، تعلیمی و ادبی پروگراموں کے اعلانات شامل ہونے ہی چاہئیں کہ اخبارات کی اطلاع سے ہی قارئین کو اچھے اجتماعات میں شرکت کا موقع ملتا ہے۔ مگر تعزیت کے جو اعلانات شائع ہوتے ہیں ان کی مثال دوسری زبانوں کے اخبارات میں شاید ہی مل سکے۔ انگریزی کے بڑے اخبارات تو انتقال کی خبر بھی اشتہار کی صورت میں اس وقت شائع کرتے ہیں جب ڈیتھ سرٹیفکیٹ موجود ہو۔ اردو کے اخبارات میں نہ صرف یہ کہ کسی کے بھی انتقال کی خبریں شائع کردی جاتی ہے بلکہ شرارتاً کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو شخص زندہ ہے اس کی موت پر اظہار افسوس کا مراسلہ بھی شائع ہوجاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک نجی محفل میں ایک صاحب نے ممبئی کے ہی ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک صاحب جو شاعر کی حیثیت سے مشہور تھے، واقعی شاعر تھے یا نہیں یہ خدا کو معلوم لیکن مشاعروں اور نشستوں میں پہنچ جایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ اردو کا ایک اخبار لیے ہوئے ناگپاڑہ جنکشن کے پاس لوگوں سے کہتے نظر آئے کہ ابھی میں زندہ ہوں اور میری موت پر افسوس کا مراسلہ چھپ گیا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے تجربات کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو اخبارات میں کسی خاص موضوع یا مسئلے پر مراسلے شائع نہیں ہوتے یا کبھی کبھی شائع ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند برس کے اخبارات اٹھا کر پڑھیں تو آپ کو ان میں سے تین صاحبان کے مراسلے نظر آئیں گے جن میں ایک صاحب کا تعلق کسی مدرسے سے، دوسرے صاحب کا کسی دینی جماعت سے اور تیسرے صاحب پہلے افسانہ نگار تھے اب مراسلہ نگار بن گئے ہیں۔ چند ایک اردو اخبارات میں تو ایک صاحب روزانہ چار سطروں کی تحریر لکھ بھیجتے ہیں، ایک صاحب کی تصویر ایک مقامی اخبار میں روزانہ کسی نہ کسی خبر کے ساتھ شائع ہوتی ہے۔ یہ افراد اپنی تحریروں سے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں خود انہیں بھی نہیں معلوم۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ انہیں اس سے زیادہ کی غرض نہیں کہ ان کا نام اخبار میں شائع ہوجائے۔ اردو اخبارات میں اب ایک اور چیز جس کی شدید کمی محسوس کی جارہی ہے وہ پروف ریڈنگ ہے۔ کچھ دنوں قبل ہی دعائے صحت کے کسی اعلان میں ’’بسترِ استراحت‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا جب کہ بات مریض کی شدید علالت کی کہی جارہی تھی۔ ’’دعائے صحت کی اپیل‘‘ پڑھ کر اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ مراسلہ نگار مریض کے لیے دعا سے زیادہ اپنی خود نمائی چاہتا ہے۔ایک اردو اخبار میں کئی دن قبل ایک مضمون جو خواتین سے متعلق تھا اور کسی خاتون کا تحریر کردہ تھا اس میں املے اور جملے کی اتنی غلطیاں تھیں کہ اس کی اشاعت کسی بھی صورت نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن نہ جانے ایڈیٹر صاحب کی کیا مجبوری رہی کہ وہ تحریر اپنی تمام تر غلطیوں کے ساتھ اخبار کے ایک چوتھائی صفحہ پر شائع ہوئی ۔ چونکہ وہ تحریر ہمیں واٹس اپ پر بھی موصول ہوئی تھی اس بناء پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایڈیٹر صاحب یا اخبار کے کسی اسٹاف نے اسے پڑھے بغیر من و عن شائع کردیا۔ اس ڈیجیٹل دور میں اس بات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے کہ تحریروں کو بغور پڑھا جائے کیونکہ بیشتر تحریریں اب اِن- پیچ یا یونی کوڈ اردو میں ٹائپ شدہ موصول ہوتی ہیں جن کی براہ راست اشاعت اخبار کے معیار پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اس مضمون کو تحریر کرتے وقت بالخصوص ہم نے دیگر زبانوں کے گزشتہ کئی شماروں میں شامل ’’مدیر کے نام خطوط‘‘ یا ’’قارئین کے پیغام‘‘ جنہیں انگریزی اخبارات میں لیٹرس ٹو ایڈیٹر اور ریڈرس میل کے طور پر شائع کیا جاتا ہے، کا بطور خاص مطالعہ کیا اور یہ محسوس ہوا جمہوریت کی بقاء، کسان اندولن، طالبان سے متعلق ہندوستان کے موقف پر ان اخبارات کے قارئین اپنی رائے اخبارات کو بھیجتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ اردو اخبارات میں ایسا کچھ نہیں ہوتا، اردو قارئین بھی ملکی و بین الاقوامی سطح پر بدلتے حالات پر اپنی رائے رکھتے ہیں اور انہیں اردو اخبارات میں اہتمام سے شائع بھی کیا جاتا ہے، لیکن ایسے قارئین کی تعداد کم ہے۔
ایڈیٹر اور رپورٹر سمجھے جانے والے کچھ لوگوں کی تحریریں پریس ریلیز یا پریس نوٹ سے زیادہ کچھ نہیں لگتیں۔عرصہ ہوا این سی پی یو ایل کے ایک سیمینار میں ایک صاحب جنہیں صحافی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا اور لکھی ہوئی کوئی تقریر صحیح طریقے سے پڑھ بھی نہیں پا رہے تھے، انہوں نے صحافت اور اردو اخبارنویسی کے ضمن میں کہا کہ ’’میں نے کمپیوٹر سیکھا ہے‘‘۔ کیا کمپیوٹر کا سیکھ لینا صحافی ہوجانے کا ضامن ہے یا جن صحافیوں کو کمپیوٹر کی شد بد نہیں ہے وہ صحافی نہیں ہوسکتے؟ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی بہتات ہوگئی ہے جنہیں سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں کی تائید حاصل ہے یا پھر وہ بڑے تعلیمی اور دینی اداروں کے سربراہوں کے آگے پیچھے پھرنے والے افراد ہیں، جن کی تحریر صحافیانہ کے بجائے چبایا ہوا لقمہ نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کی بہتات سے اردو اخبارات کی حیثیت مجروح ہوئی ہے اور اب اشاعت بھی مجروح ہورہی ہے۔ اخبارات اور میگزینس میں خطوط کے ذریعے عام قارئین کی شمولیت ہوتی ہے مگر یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ دن بہ دن خطوط، تعریف، تنقیص اور خود نمائی میں سمٹتے جارہے ہیں۔ اس سے اردو قارئین کی ذہنی سطح اور مزاج کا بھی پتہ چلتا ہے۔ کیا اردو اخبارات کے مدیروں کو معیاری خطوط شائع کرنے کے لیے خود ہی خطوط لکھ کر دوسروں کے نام سے شائع کرنے پڑیں گے؟خطوط کیسے ہوں،اس کا علم عام قارئین کو کیسے ہو؟ یہ موجودہ وقت کا اہم سوال ہے جس پر تمام سنجیدہ قارئین اور مدیرحضرات کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

 

***

 کیا اردو اخبارات کے مدیروں کو معیاری خطوط شائع کرنے کے لیے خود ہی خطوط لکھ کر دوسروں کے نام سے شائع کرنے پڑیں گے؟خطوط کیسے ہوں،اس کا علم عام قارئین کو کیسے ہو؟ یہ موجودہ وقت کا اہم سوال ہے جس پر تمام سنجیدہ قارئین اور مدیرحضرات کو سوچنے کی ضرورت ہے۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  7 نومبر تا 13 نومبر 2021