سمع و طاعت اجتماعی قوت کا سرچشمہ

رسول ؐ کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے

محمد عزیز صائب المظاہری

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی تو واقعی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس کسی نے میری نافرمانی کی تو واقعی اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی تو اس نے واقعی میری اطاعت کی اور جس نے کسی نے امیر کی نافرمانی کی تو اس نے میری نافرمانی کی۔ اور امام و امیر ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر قتال کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ اللہ کے تقویٰ کا حصول ممکن ہوتا ہے پس اگر امیر نے تقویٰ اللہ اور عدل کا حکم دیا تو اس عدل و تقویٰ کے حکم و نفاذ پر اس کے لیے بڑا اجر ہے اور (خدا نخواستہ) اس نے عدل و تقویٰ کے خلاف مامورین کو حکم دیا تو اس کا وبال اس پر ہوگا‘‘۔
۔ اسلام یعنی انبیائی نظام کا اولین تقاضا اجتماعیت اور اجتماعی زندگی ہے۔
اللہ کی اطاعت یعنی بندہ کا اپنے خالق کے حق میں اپنی خواہشات سے دست بردار ہوجانا ہی اسلام ہے۔
اللہ کی اطاعت کا اظہار اس کے رسول کی اطاعت ہی سے ہوتا ہے۔ رسول کی اطاعت اور اس کی معصیت اپنے رب و مولا کی اطاعت و معصیت کے ہم معنی ہے۔
ظاہر ہے کہ سمع و طاعت اور آرڈر میں زندگی کا دے دینا اجتماعی قوت کا سرچشمہ ہے۔
انتشار اور پراگندگی زندگی کے بے وزن ہونے کے ہم معنی ہے۔ اس لیے رسول یا اس کے نائب امیر کی اطاعت سلامتی اور اسلامی نصب العین کے حصول کی ضمانت ہے۔
شہد کی مکھی کا نظام تقسیمِ عمل، اطاعت و آرڈر کے تحت ہونے کی بنا پر تعمیر و افادیت عمل کا مظہر ہے۔ مگر دوسری گندگی کی مکھی آرڈر اور نظم میں نہ ہونے کے سبب بے وزن اور قابل نفرت ہے۔
چند منتشر تنکے جب جھاڑو کا روپ دھار لیتے ہیں تو طہارت و صفائی کا حصول ہوتا رہتا ہے اور یہی کمزور تنکے باہم ایک رسی میں بندھ کر طاقت اور وزن اور عمل خیر کا موجب بن جاتے ہیں
نبی کریم ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت کا مظہر ہے اور رسول بھیجا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اذن الٰہی کے تحت اس کی پیروی میں زندگی گزاری جائے۔ رسول یا اس کے نظم کے کسی نمائندہ کو اللہ کا نمائندہ تسلیم کرتے ہوئے قطعاً گنجائش نہیں کہ کوئی مامور مومن خود رائی سے بطور خود اپنی راہ بنائے۔ چنانچہ ایک دوسرے موقع پر کسی جماعت کے مہلکات کی نشاندہی فرماتے ہوئے نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ تین مہلکات ہیں۔
ھویً مُتَّبَع خواہش کی بندگی۔ شُحٌ مُطَاعٌ تنگ دلی اور بخل ۔ وَاِعجَابُ المرءِ بِنفِسہِ ہر شخص کا اپنی اپنی رائے پر گھمنڈ۔
بہر حال عالم طبعی ہو یا اخلاقی اقدار یا نظام حیات ان کے بقا و ثبات و استقامت کے لیے وہی اجتماعیت بابرکت اور باوزن ہوسکتی ہے جس میں اطاعت امر ہو اور رضائے الہی کے حصول کے لیے سمع و طاعت کا جذبہ ہو۔ ایسا گروہ ہی حزب اللہ کہلانے کا مستحق ہے۔ جس کے لیے نص صریح ہے کہ
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ
ہم اپنے رسولوں اور ان کے ساتھیوں کی یقیناً ضرور مدد فرمائیں گے دنیوی زندگی میں اور قیامت میں یوم حساب کی پیشی کے وقت ‘‘۔

 

***

 


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  7 نومبر تا 13 نومبر 2021