شمال مشرق کا حال: آسام حکومت کی جانب سے اسکولوں کے نام سے جڑا لفظ "مکتب ” حذف ہوگا

(دعوت نیوز نیٹ ورک)آسام کی حکومت نے عربی لفظ "مکتب” کو 63 سرکاری اور پرائمری امدادی مدارس کے ناموں سے فوری طور پر حذف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی وزیر تعلیم ہیمنتا بسوا سرما نے بتایا کہ اب تک ترسٹھ مکتب نام والے اسکولوں کی نشاندہی ہو چکی ہے تلاش کرنے پر مزید اس نام والے اسکولوں کا انکشاف ہو سکتا ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا عربی لفظ” مکتب” کی اصطلاح ان خاص اسکولوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی جہاں پر قرآن اور دین کی بنیادی تعلیم دی جاتی ہے۔ چونکہ آسام میں اب مکتبی تعلیمی نظام موجود نہیں ہے اس لیے یہ اصطلاح بے معنی ہوچکی ہے۔ ان مکاتب میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد طلباء کو ان کے اسکولوں کے نام کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر حکام یہ کہتے ہوئے انکار کردیتے کہ طلباء اتنے سال دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کسی عام اسکول میں تعلیم کس طرح حاصل کرسکتے ہیں۔ اسکول اپنے باقی نام برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ریاستی حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اعلان پر عمل درآمد اگلے تین سے چار ماہ کے درمیان ریاستی حکومت کی بجٹ پیش کشی کے فوری بعد سے شروع ہو کر اگست تک مکمل ہو جائے گا۔ حکومت کا یہ فیصلہ سنسکرت تعلیمی مراکز کو بند کردینے کے اعلان کے فوری بعد سامنے آیا۔