جی ایس ٹی غریبوں اور چھوٹے کاروباروں پر حملہ، ایک ناکام نظام: راہل گاندھی

نئی دہلی، 6 ستمبر: کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ جی ایس ٹی غریبوں اور پسماندہ افراد پر حکومت کا ایک حملہ ہے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اکٹھے ہوکر اس ’’ناقص حکومت‘‘ کا مقابلہ کریں۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ’’جی ایس ٹی ٹیکس کا نظام نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کے غریبوں پر حملہ ہے۔ یہ چھوٹے دکانداروں، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں، کسانوں اور مزدوروں پر حملہ ہے۔ ہمیں اس حملے کے بارے میں جاننا ہوگا اور مل کر اس کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔‘‘

راہل گاندھی نے ٹویٹر پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے جی ایس ٹی کو نوٹ بندی کے بعد ملک کی معیشت پر دوسرا بڑا حملہ قرار دیا۔

راہل نے کہا کہ جی ایس ٹی یو پی اے کا ایک ٹیکس، کم سے کم ٹیکس، معیاری اور عام ٹیکس کا تصور تھا۔ انھوں نے کہا لیکن ’’این ڈی اے کا جی ایس ٹی بالکل مختلف ہے۔ چار مختلف ٹیکس سلیب، 28 فیصد تک، پیچیدہ اور سمجھنے میں مشکل ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار یہ ٹیکس ادا نہیں کرسکتے۔ بڑی کمپنیاں 5-10-15 اکاؤنٹنٹس کی مدد سے یہ آسانی سے ادا کرسکتی ہیں۔‘‘

سابق کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ چار سلیب اس لیے ہیں، کیوں کہ حکومت چاہتی ہے کہ جن کے پاس وسائل ہیں وہ آسانی سے جی ایس ٹی میں تبدیلی لائیں اور جن کے پاس وسائل نہیں ہیں وہ جی ایس ٹی کے بارے میں کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔

راہل گاندھی نے پوچھا ’’این ڈی اے کے جی ایس ٹی کا کیا نتیجہ ہے؟ آج ہندوستان کی حکومت ریاستوں کو جی ایس ٹی معاوضہ کی رقم مہیا کرنے سے قاصر ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ موجودہ جی ایس ٹی بالکل ناکام ہے۔

کانگریس کے رہنما نے کہا ’’نہ صرف یہ ناکام ہے بلکہ یہ غریبوں اور چھوٹے اور درمیانے کاروباروں پر بھی حملہ ہے۔‘‘