ایئرانڈیا کی نجی کاری ‘ گھاٹے کا سودا

عوامی اثاثے بیچنے کی نوبت کیوں آگئی؟۔ حکومت کی اہلیت پر سوالیہ نشان

زعیم الدین احمد ، حیدر آباد

حال ہی میں ایئرانڈیا کو ٹاٹا سنس نے مکمل طور پر خرید لیا ہے ، ٹاٹا سنس اب اس کا پوری طرح سے مالک بن چکا ہے ۔ ویسے کسی سرکاری کمپنی کو خانگی شعبہ کو دیا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے قبل کی حکومتوں نے بھی کسی کمپنی کو پوری طور پر یا جزوی طور پر خانگی شعبہ کو فروخت کیا ہے ۔ سرکاری کمپنی کسی خانگی شعبہ کو فروخت کرنا چاہیے یا نہیں یہ گفتگو کا الگ موضوع ہوسکتا ہے۔ یہاں ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حکومت کے اس دعوے میں کہاں تک سچائی ہے کہ ایئرانڈیا مستقل نقصان میں چل رہا تھا اس لیے اسے فروخت کرنا پڑا؟ کیا اس کی فروختگی سے حکومت کو کوئی فائدہ ہوا یا آئندہ ہو گا؟ یہ کچھ سوالات ہیں جن کے جوابات ہمیں تلاش کرنا ہوگا۔
پہلی بات یہ ہے کہ ایئرانڈیا کو ۱۸ ہزار کروڑ روپیوں میں ٹاٹا سنس کو فروخت کیا گیا جبکہ ٹاٹا سنس کو ایئرانڈیا خریدنے کے لیے محض ۲ ہزار سات سو کروڑ روپے ہی ادا کرنے ہوں گے۔ یہ رقم ادا کرکے ٹاٹا سنس ایئرانڈیا کا مالک بن جائے گا۔ بقیہ رقم جو کہ ایئرانڈیا کا قرض ہے وہ بھی ٹاٹا سنس ہی ادا کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جملہ ۱۸ ہزار کروڑ میں سے ۲ہزار سات سو کروڑ منہا کرلیے جائیں تو اسے ۱۵ ہزار ۳ سو کروڑ روپے بہ شکل قرض ادا کرنے ہیں وہ بھی یکمشت نہیں بلکہ وقفہ وقفہ سے ادا کرنے ہیں۔
ہندوستان کی شہری ہوا بازی کے شعبہ میں ایئرانڈیا کا حصہ ۱۳ عشاریہ ۲ فیصد ہے۔ یعنی ایک ایسی کمپنی کو جس کا حصہ شہری ہوا بازی کے بازار ۱۳ عشاریہ ۲ فیصد ہے اسے محض ۲ ہزار ۷ سو کروڑ روپے میں ٹاٹا کو بیچ دیا گیا ہے کیوں کہ ابھی اسے صرف اتنی ہی رقم نقد ادا کرنی ہے اور بقیہ یعنی قرض کی رقم کو قسطوں میں ادا کرنا ہے ۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ ایئرانڈیا اگر اپنا کاروبار اچھے طریقہ سے کرتا ہے اور اپنی پرانی ساکھ کو پھر سے بحال کرتا ہے (جو یقیناً ہوگا) تو وہ خود اپنا قرض ادا کرتا چلا جائے گا ٹاٹا سنس کو قرض کی یہ رقم جیب سے ادا کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو ایئرانڈیا کو ٹاٹا نے محض ۲ ہزار ۷ سو کروڑ میں ہی خریدا ہے۔ اس خریدی سے شہری ہوا بازی کے شعبہ میں ایئرانڈیا کی حصہ داری اب ۲۷ عشاریہ ۷ فیصد بن گئی ہے۔ آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس کی حصہ داری اتنی کیسے ہوگی جبکہ اس کی حصہ داری تو ۱۳ عشاریہ ۲ فیصد ہی مذکور ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شہری ہوا بازی کے شعبہ میں ایئرایشیاء کی حصہ داری ۵ اعشاریہ ۲ فیصد ہے جو ٹاٹا گروپ کا ہی ایک حصہ ہے ۔ اس میں ٹاٹا کی حصہ داری تقریباً ۸۴ فیصد ہے یعنی وہ ایک طرح سے ایئر ایشیاء کا مکمل مالک ہے وہی اس کو چلاتا بھی ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور ایئرلائنز بھی ہے ویستارا ایئر کے نام سے جس کی شہری ہوا بازی میں حصہ داری تقریباً ۹ فیصد ہے۔ اس میں بھی ٹاٹا کی تقریباً ۵۱ فیصد حصہ داری ہے یعنی وہ اس کا آدھے سے کچھ زیادہ کا مالک ہے ۔ اس طرح سے ایئرانڈیا مکمل طور پر اس کا ہوگیا۔ ایئرایشیاء میں اس کی بڑی حصہ داری ہے اور ویسٹارا ایئرلائنز میں اس کا آدھا حصہ ہے۔ اگر ان سب کو ملالیا جائے تو ٹاٹا سنس کی کل حصہ داری شہری ہوا بازی کے شعبہ میں ۲۶ عشاریہ ۷ فیصد تک ہوگی ۔
اس حصہ داری سے ٹاٹا ہندوستانی شہری ہوابازی کے شعبہ میں انڈیگو کے بعد دوسرا سب سے بڑا مالک بن چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ پھر سے ہندوستان کے اس شعبہ کا بے تاج بادشاہ بن جائے گا۔ ویسے ہندوستان میں شہری ہوابازی کی شروعات ٹاٹا نے ہی کی تھی۔ تاریخ کے جھروکوں میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹاٹا کو بابائے شہری ہوا باز کہا جاتا ہے کیونکہ اسی نے ہمارے ملک میں شہری ہوا بازی کی شروعات کی تھی۔ ایئرانڈیا کی شروعات اسی کی مرہون منت ہے۔ ۶۸ سال کے بعد ایئرانڈیا پھر سے اسی کا ہوگیا ہے ۔
آخر حکومت کو اسے فروخت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ حکومت کا کہنا ہے کہ ایئرانڈیا کو ہر روز ۲۰ کروڑ کا نقصان ہورہا تھا اور ہم اس نقصان کو مزید برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ روز بہ روز اس کے قرضوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا، ان قرضوں کو ہم ادا نہیں کرپارہےتھے اور ہم اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے اس لیے ہم نے اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کا قرض بھی کچھ کم نہیں ہے۔ ایئرانڈیا جملہ ۶۱ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض میں ڈوبا ہوا ہے ، اس میں سے ۱۵ ہزار ۳ سو کروڑ کا قرض ٹاٹا ادا کرے گا لیکن باقی ۴۶ ہزار ۳ سو کروڑ کا بھاری بھرکم قرض کیسے ادا ہوگا ؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ یعنی ایئرانڈیا کو بیچنے کے بعد بھی حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ فائدہ تو دور کی بات ہےاس رقم سے اس کے قرض ہی ادا نہیں ہو رہے ہیں۔ لازمی بات ہے کہ ان قرضوں کو اب مرکزی حکومت کو ہی ادا کرنے ہوں گے ،مرکزی حکومت ان قرضوں کو کیسے ادا کرے گی یہ بھی واضح نہیں ہے ۔ اگر حکومت ایئرانڈیا کے سارے اثاثے بھی فروخت کردیتی ہے تو بھی یہ قرض ادا نہیں ہوسکتا۔ کیوںکہ اس کےجملہ اثاثوں کی قیمت محض ۱۴ ہزار ۷۱۷ کروڑ روپے ہی ہے جن کو فروخت کرکے بھی یہ قرض ادا نہیں ہوسکتے۔ بالفرض یہ سارے اثاثے فروخت بھی کر دیے جائیں تو مزید اسے ۲۸ ہزار ۸سو ۴۴ کروڑ روپیوں کا قرض ادا کرناباقی رہ جاتا ہے۔ یہ قرض مرکزی حکومت کس طرح ادا کرے گی اس کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ حکومت نے ایئر انڈیا کو فروخت کرکے کیا حاصل کیا ؟ اسے فروخت کرنے کے بعد کیا اس کے قرض ادا کردیے گئے ؟ کیا حکومت کو اس سے کسی قسم کافائدہ ہوا؟ یہ کچھ سوالات ہیں جو جواب طلب ہیں اور حکومت اس کا تشفی بخش جواب دینے سے قاصر ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اسےفروخت کرکے اس سے اپنا دامن چھڑانا چاہتی ہے، اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتی ہے۔ بہر حال مرکزی حکومت اسے فروخت کرکے پوری طریقہ سےاس کا بوجھ اتاربھی نہ سکی کیوں کہ ایئرانڈیا کو بیچ کر حکومت کو محض دو ڈھائی ہزار کروڑ ہی ہاتھ لگے ہیں ، ان دو ڈھائی ہزار کروڑ میں سے یہ کیا نچوڑے گی اور کیا نہائے گی ۔ یقیناً یہ ایک گھاٹے کا سودا ہی قرار پائے گا۔ عوامی شعبہ کے کمپنیوں کو بیچ دینے کا یہی نیتجہ نکلتا ہے اس سے خانگی شعبہ کو تو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن حکومت کو کسی بھی قسم کا فائدہ نہیں ہوتا بلکہ الٹا نقصان ہی ہوتا ہے اور آخرکار عوام کوہی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ۔
***

 

***

 سوال یہ ہے کہ حکومت نے ایئر انڈیا کو فروخت کرکے کیا حاصل کیا ؟ اسے فروخت کرنے کے بعد کیا اس کے قرض ادا کردیے گئے ؟ کیا حکومت کو اس سے کسی قسم کافائدہ ہوا؟ یہ کچھ سوالات ہیں جو جواب طلب ہیں اور حکومت اس کا تشفی بخش جواب دینے سے قاصر ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اسےفروخت کرکے اس سے اپنا دامن چھڑانا چاہتی ہے، اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتی ہے۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  7 نومبر تا 13 نومبر 2021