اداریہ: داغ دار نمائندے

 

کیا بھارت پر جرائم پیشہ عناصر راج کر رہے ہیں؟ یہ سوال ویسے تو نیا نہیں ہے لیکن بھارت کی سیاست میں وہ پرانا بھی نہیں ہے۔ یوں تو سیاست دانوں کے جرائم پیشہ عناصر اور گروہوں سے ساز باز عالمی بحث کا موضوع ہے لیکن جمہوری نظاموں میں جہاں عوامی نمائندوں کو ووٹروں کی رائے کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے وہاں شفافیت، قانون کی بالا دستی اور جواب دہی سے فرار ممکن نہیں۔ فوجی، آمرانہ یا بادشاہی نظامِ حکومت کی مجرمانہ سرگرمیوں کا موضوع کچھ دیر کے لیے علیحدہ رکھ دیتے ہیں۔
جمہوریتوں میں مقننہ کے علاوہ عدلیہ کا بھی برابر کا مقام اور وزن تسلیم کیا گیا ہے۔ انتظامیہ، مقننہ اور ذرائع ابلاغ کو بھی صحت مند اقدار، شفافیت اور انصاف کی راہ پر گامزن رکھنے کی ایک بڑی ذمہ داری عدلیہ ادا کرتی ہے۔ مختلف این جی اوز اور سماجی کارکنان، عوامی نمائندوں کے مجرمانہ پس منظر کے بارے میں بیدار اور سرگرم رہے ہیں۔ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی عدالتوں میں سیاسی نمائندوں کے خلاف تقریباً ساڑھے چار ہزار مقدمے زیر سماعت ہیں اور تعجب نہیں کہ ڈھائی ہزار سے زائد زیر التواء کیسز موجودہ اراکینِ پارلیمان اور ممبرانِ اسمبلی کے خلاف درج ہیں۔ تمام ہائی کورٹوں سے ملی اطلاعات پر مبنی ایک رپورٹ سپریم کورٹ کو سونپی گئی ہے۔ ایمیکس کیوری سینیر وکیل وجے ہنساریہ کی داخل کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ ایم پیز اور ایم ایل ایز 2556 کیسوں میں ملزم پائے گئے ہیں جبکہ داغ دار سیاست دانوں پر کل 4442 کیسز زیر التواء ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیاست دانوں اور عوامی نمائندوں کی تعداد ان مقدمات کی تعداد سے بھی زیادہ پائی گئی ہے۔ کیونکہ کئی جرائم میں ایک ہی لیڈر پر کئی کئی کیسز درج ہیں اور وہ متعدد جرائم میں ملزم کے طور پر عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے۔ بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے کی ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر کورٹ نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کی تعمیل میں 25 صفحات پر مشتمل ایک حلف نامہ سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا ہے۔ دراصل ایک عرضی پر عدالت میں سماعت چل رہی تھی جس میں اس بات پر غور کرنے کے لیے کہا گیا تھا کہ عدالت میں پارلیمان اور ودھان سبھاوں میں منتخب عوامی نمائندوں کے خلاف درج مجرمانہ مقدموں کو تیزی سے نمٹایا جانا چاہیے۔ اسی ضمن میں سپریم کورٹ نے تمام ہائی کورٹوں کے رجسٹرار جنرلوں کو سیاسی لیڈروں کے زیر التواء معاملوں کی مکمل اطلاعات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت میں داخل اس رپورٹ کے مطابق شمالی ہندوستان ہمیشہ کی طرح جرائم کی اس فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ اتر پردیش کے سیاست دانوں کے خلاف سب سے زیادہ یعنی 1217 کیسز زیر التوا ہیں۔ ان میں سے 446 کیسوں میں موجودہ ایم پیز اور ایم ایل ایز ملوث ہیں۔ دوسرے نمبر پر بہار ہے جہاں موجودہ و سابقہ لیڈروں پر کُل 531 کیسز درج ہیں اور موجودہ منتخب عوامی نمائندوں میں ملزموں کی تعداد 256 ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے 352 مقدمات کی سماعت پر روک لگا رکھی ہے۔ 413 کیس ایسے جرائم سے متعلق ہیں جن میں عمر قید کی سزا کی تجویز پائی جاتی ہے۔
عدالت میں داخل اس رپورٹ میں بعض سفارشات بھی شامل ہیں جن پر عمل آوری کے ذریعے زیر التواء مقدموں کو تیزی سے فیصل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اراکین پارلیمان اور ایم ایل ایز کے مقدمات چلانے کے لیے ہر ضلع میں ایک خصوصی عدالت قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ان میں ان کیسوں کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا گیا ہے جن میں مجرم کے لیے موت کی سزا یا عمر قید کی سزا کی تجویز پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد سات سال کی قید کی سزا کے جرائم کو سماعت کے لیے لیا جانا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ اس دوران موجودہ اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی پر درج مقدمات کو اولیت کے ساتھ فیصل کرنا مطلوب ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے قدیم کیس سن 1983ء کا ہے جس میں پنجاب میں ایک مقدمہ زیر سماعت چلا آ رہا ہے۔ اس کے بارے میں جسٹس این وی رمنا نے ’’حیرت و صدمہ‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ عمر قید کی سزا بھگتنے کے لیے جیل بھیجنے میں چھتیس برس کیوں بیت گئے؟
یہاں یہ ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ نے 5 مارچ کو عوامی نمائندوں کے خلاف جاری مقدموں کو ملک بھر سے جمع کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس پی آئی ایل میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مجرمانہ کیسوں میں سزا یافتہ لیڈروں پر انتخابات لڑنے پر تا حیات پابندی لگا دی جائے۔ اس پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو اگلے چھ ہفتوں میں اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایک طرف ملک میں سیاسی نمائندوں کے خلاف عدالتی کارروائیوں کی سست روی کا یہ عالم ہے اور زیر التواء مقدموں کی اتنی بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف حقوقِ انسانی اور اظہار رائے کی آزادی کے جمہوری حدود میں رہتے ہوئے بات کرنے والے سماجی کارکنوں، بالخصوص غیر جانب دار صحافیوں کو دبانے اور دھمکانے کے لیے دھڑا دھڑ مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں، ان کے خلاف سیاسی قائدین بھی ضرورت سے زیادہ سرگرمی دکھاتے ہیں اور عدالتیں بھی کافی سنجیدہ ہو کر کارروائیاں کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ابھی لوگ نہیں بھولے ہیں کہ جس اتر پردیش میں سب سے زیادہ لیڈر عدالتی مقدموں میں پھنسے ہوئے ہیں اس کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کرسی سنبھالنے کے بعد خود اپنے خلاف درج متعدد مقدمات واپس لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ یاد رہے کہ سن 2005ء سے لے کر سن 2015ء تک بی جے پی لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ نے متعدد ایسے متنازعہ بیانات دیے اور کارروائیوں میں ملوث رہے جن کی بنا پر ان پر مقدمات زیر التوا تھے۔ ان میں فساد، تشدد، بھیڑ کو اکسانے، نفرت یا قتل کی ترغیب دینے جیسے سنگین الزامات بھی لگائے گئے تھے۔ ایک موقع پر اس وقت کے اسپیکر سومناتھ چٹرجی کے سامنے رکن پارلیمان کے طور پر یوگی کو گڑگڑا کر روتے ہوئے ساری دنیا نے دیکھا تھا۔
اب جب کہ یوگی وزیر اعلیٰ بنے ہیں تو انہوں نے متنازعہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والے پُر امن اور بعض نہایت معزز شہریوں تک کے خلاف غیر متناسب بلکہ غیر قانونی کارروائیاں انجام دی ہیں جس کی وجہ سے ان پر عدالتوں کی پھٹکار بھی پڑی ہے۔
دوسری جانب ریاست بہار کے لالو پرساد یادو آج جیل کی سلاخوں میں بند پڑے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت کے شہری انتخابات کے دوران مکمل ہوش و حواس میں رہتے ہوئے کھلی آنکھوں کے ساتھ ایسے ایماندار، مخلص، بے لوث اور غیر متعصب نمائندوں کو منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالیں جو کسی بھی قسم کی مجرمانہ کارروائی میں ملوث نہ ہوں۔ محض پانچ سال میں ایک بار ووٹنگ کی قطار میں کھڑے ہونے کو کافی نہ سمجھیں بلکہ مستقل ایک بیدار شہری کا فرض نبھانے کے لیے کمر بستہ رہیں۔ دوسری جانب ایک حلقہ اس بات کا مطالبہ کرتا رہا ہے کہ شہریوں کو یہ حق ملنا چاہیے کہ اگر کوئی منتخب عوامی نمائندہ عوام کی توقعات پر پورا نہ اترے یا بعد میں قانون کی گرفت میں آنے والی کسی بھی حرکت میں ملوث ہو جائے تو ایسے لیڈر سے ایم پی و ایم ایل اے بنے رہنے کا حق چھین لیا جائے۔ مذکورہ چشم کشا عدالتی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اس پرانے مطالبہ پر آج پھر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ بھی سمجھنا اور سمجھانا ہوگا کہ عام آدمی یا کسی بھی عوامی نمائندے کے اندر جرم سے باز رہنے کے لیے قانون کے خوف سے زیادہ خوف خدا کا ہونا ضروری ہے۔

ایک طرف ملک میں سیاسی نمائندوں کے خلاف عدالتی کارروائیوں کی سست روی کا یہ عالم ہے اور زیر التواء مقدموں کی اتنی بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف حقوقِ انسانی اور اظہار رائے کی آزادی کے جمہوری حدود میں رہتے ہوئے بات کرنے والے سماجی کارکنوں، بالخصوص غیر جانب دار صحافیوں کو دبانے اور دھمکانے کے لیے دھڑا دھڑ مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں، ان کے خلاف سیاسی قائدین بھی ضرورت سے زیادہ سرگرمی دکھاتے ہیں اور عدالتیں بھی کافی سنجیدہ ہو کر کارروائیاں کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔