یوپی میں اپوزیشن لیڈروں کی غیر قانونی حراست جمہوری اقدار کے خلاف: اشوک گہلوت

نئی دہلی، اکتوبر 4: یہ کہتے ہوئے کہ اپوزیشن لیڈروں کی غیر قانونی حراست جمہوری اقدار کے خلاف ہے، راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے آج کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر کو اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں ہلاک ہونے والے کسانوں کے خاندانوں سے ملنے سے روکنے کے اقدام کی مذمت کی۔

بی جے پی کے زیرقیادت اترپردیش حکومت کے ذریعے ریاست میں داخل ہونے سے روکے جانے والوں میں چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل اور پنجاب کے نائب وزیراعلیٰ ایس ایس رندھاوا بھی شامل تھے۔

گہلوت نے کہا ’’صرف ایک آمرانہ حکومت ہی ایسا کر سکتی ہے۔ کیا یوپی میں حکمران بی جے پی جمہوریت کو ختم کرنا چاہتی ہے؟ اس طرح شہری حقوق کی خلاف ورزی آئین کی روح کے بھی خلاف ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا ’’میں اتر پردیش پولیس کی طرف سے اے آئی سی سی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی جی اور دیگر رہنماؤں کی حراست کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ وہ ایک ممتاز اپوزیشن لیڈر ہیں اور لکھیم پور کھیری ضلع میں گذشتہ روز ہلاک ہوئے کسانوں کے خاندانوں سے ملنے جا رہی تھیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کی حراست جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔‘‘

گہلوت نے کہا ’’پرینکا جی ان خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہونے والی تھیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کل کے تشدد میں کھو دیا تھا۔ انھیں ڈیوٹی کی ادائیگی کے لیے روکنا سراسر ناانصافی ہے۔‘‘

تشدد کے سلسلے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا اور کئی دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

اس تشدد میں ہلاک ہونے والے آٹھ افراد میں چار کسان اور چار بی جے پی کارکنان شامل ہیں، جو وزیر کے اس قافلے میں شریک تھے۔

راجستھان کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں کو بی جے پی لیڈر کے قافلے نے مار ڈالا اور پھر اپوزیشن لیڈروں کو متاثرین کے خاندانوں سے ملنے سے روک دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بالکل غلط ہے۔

گہلوت نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت کا غیر انسانی چہرہ سامنے آگیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسانوں کے مطالبات کو نظر انداز کرنا، کسانوں کی تحریک کو روکنا، ان پر ظلم کرنا اور پھر کسی اپوزیشن جماعت کو ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی اجازت نہ دینا غیر جمہوری ہے۔