ممبئی میں بی جے پی اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے اسپورٹس کمپلیکس کا نام ٹیپو سلطان کے نام پر رکھنے کے خلاف احتجاج کیا

نئی دہلی، جنوری 27: بھارتیہ جنتا پارٹی اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے بدھ کو ممبئی میں 18ویں صدی کے حکمران ٹیپو سلطان کے نام پر ایک اسپورٹس کمپلیکس اور پارک کا نام تبدیل کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔

تاہم شیوسینا کے رہنما اور مہاراشٹر کے وزیر آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ممبئی کی میونسپل کارپوریشن نے پارک کا نام تبدیل کرنے کی منظوری نہیں دی ہے۔

ٹھاکرے نے کہا ’’کوئی نام تبدیل نہیں ہوا ہے۔ بی ایم سی کو ان مسائل پر اختیار حاصل ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ نام تبدیل کرنے کی کوئی تجویز بی ایم سی کے سامنے پیش نہیں کی گئی ہے۔‘‘

یہ پارک شہر کے ملاڈ ویسٹ علاقے میں مالوانی میں واقع ہے۔ اسے مقامی طور پر ٹیپو سلطان گراؤنڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تجدید شدہ اسپورٹس کمپلیکس کا بدھ کو کانگریس لیڈر اور ملاڈ ویسٹ کے ایم ایل اے اسلم شیخ نے افتتاح کیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے ٹیپو سلطان کے ظالم ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ٹیپو سلطان نے بہت سے مندروں اور گاؤں کو تباہ کیا اور ہزاروں لوگوں کو اسلام قبول کروایا۔ بی جے پی کی یہ مخالفت کرناٹک میں زیادہ نظر آتی ہے، جہاں انھوں نے 2019 میں ٹیپو جینتی کی تقریبات کو ختم کر دیا اور یہاں تک کہ اسکول کی نصابی کتابوں سے ان کے حوالہ جات کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

تاہم مورخین ٹیپو سلطان کے بارے میں مختلف نظریہ پیش کرتے ہیں۔ وہ اکثر انگریزوں کے خلاف ان کی مزاحمت کو یاد کرتے ہیں جب انھوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تھا۔ انھیں اپنے والد حیدر علی کے ساتھ کرناٹک کے میسور کی معیشت کو جدید بنانے کی کوششوں کے لیے بھی سراہا جاتا ہے، جہاں انھوں نے حکومت کی۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق بدھ کے روز ممبئی میں احتجاج کے دوران بی جے پی اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے کچھ عوامی بسوں کے ٹائروں کو جلا دیا اور علاقے میں ایک سڑک کو بلاک کر دیا۔

پولیس نے غیر قانونی اجتماع، ہنگامہ آرائی، غلط طریقے سے روک تھام اور کورونا وائرس کی پابندیوں کی خلاف ورزی سے متعلق دفعات کے تحت دو پہلی اطلاعاتی رپورٹیں درج کی ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق بی جے پی ایم پی گوپال شیٹی اور ایم ایل اے منگل پربھات لودھا اور اتل سمیت کل 64 افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔

بدھ کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اتل نے کہا کہ پارٹی ’’ہندوؤں سے نفرت کرنے والوں کی تعظیم‘‘ کو برداشت نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ہم پولیس کی کارروائی سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ وہیں قائد حزب اختلاف اور بی جے پی لیڈر دیویندر فڑنویس نے پولیس کی کارروائی کی ’’سخت مذمت‘‘ کی۔

فڑنویس نے کہا ’’یہ اقتدار کے لیے بے شرمی کی بلندیاں ہیں۔ ایک اسپورٹس کمپلیکس کا نام ٹیپو سلطان کے نام پر رکھنے کی تقریب پولیس کی حفاظت کے ساتھ انجام دی گئی۔ اور بی جے پی، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنان جنھوں نے ہندوؤں پر مظالم ڈھانے والے ٹیپو سلطان کے نام کے خلاف احتجاج کیا، انھیں لاٹھیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘

تاہم اسلم شیخ نے کہا کہ کانگریس ’’ترقیاتی سیاست میں یقین رکھتی ہے، نہ کہ بی جے پی کی طرح سستی شہرت کے لیے نام کے کھیل میں۔‘‘