دہلی میں ویک اینڈ کرفیو ہٹا دیا گیا، دکانیں کھولنے کے لیے طاق-جفت اصول بھی منسوخ

نئی دہلی، جنوری 27: پی ٹی آئی کے مطابق دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے آج ویک اینڈ کرفیو کو ختم کر دیا کیوں کہ قومی راجدھانی میں کورونا وائرس کے معاملات میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

اس نے طاق-جفت کے اصول کو بھی ہٹا دیا، جس کے تحت دکانیں ان کے رجسٹریشن نمبروں کی بنیاد پر متبادل دنوں میں کھلتی ہیں۔

یہ فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں کیا گیا۔

دہلی نے دسمبر اور جنوری میں کئی پابندیاں عائد کی تھیں کیوں کہ روزانہ کورونا وائرس کے معاملات بڑھنے لگے تھے۔ 13 جنوری کو شہر میں 28,867 نئے کیسز رپورٹ ہوئے–جنوری 2020 میں وبائی بیماری کے پھوٹ پڑنے کے بعد سے ایک دن میں انفیکشن کی سب سے زیادہ تعداد۔ ٹیسٹ کی مثبت شرح 29.21 فیصد تھی۔

تاہم گذشتہ ہفتے کے دوران کیسز کی یومیہ تعداد کم ہوئی ہے۔ بدھ کے روز دہلی میں 7,498 نئے کوویڈ 19 انفیکشن ریکارڈ کیے گئے اور مثبتیت کی شرح 10.59 فیصد تک گر گئی۔

جمعرات کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے عہدیداروں نے کہا کہ ریستوراں، بارز اور تھیٹرز کو 50 فیصد بیٹھنے کی گنجائش کے ساتھ دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر بھی اپنے آدھے عملے کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔

تاہم رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک کا کرفیو برقرار رہے گا۔ عہدیدار نے بتایا کہ بیجل نے اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ بھی اگلی میٹنگ تک ملتوی کردیا۔

دریں اثنا شادی کی تقریبات میں اب کھلے میدانوں میں 200 مہمان شرکت کر سکتے ہیں۔ اندرونی جگہوں کو اس کی گنجائش کے صرف 50 فیصد تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل ان تقریبات میں صرف 20 افراد کو شرکت کی اجازت تھی۔

اس سے قبل آج دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے کہا کہ شہر میں کورونا وائرس کی صورت حال قابو میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی جمعرات کو 5000 سے کم کیسز رپورٹ کرے گا اور مثبت شرح بھی نیچے آئے گی۔