’یہ ہندو ثقافت کے خلاف‘: بجرنگ دل کے ارکان نے مبینہ طور پر کرناٹک میں ایک ہوٹل میں ہو رہی خواتین کی ایک تقریب کو روکا

نئی دہلی، مارچ 19: بجرنگ دل کے ارکان نے جمعہ کو کرناٹک کے شیوموگا میں خواتین کے ایک پروگرام کو مبینہ طور پر روک دیا اور یہ الزام لگایا کہ یہ ہندو ثقافت کے خلاف ہے۔

دی ہندو کی خبر کے مطابق ہندوتوا تنظیم کے ارکان ہوٹل کلف ایمبیسی کے سامنے ’’لیڈیز نائٹ‘‘ کے پروگرام کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ پولیس کے موقع پر پہنچنے کے بعد تمام خواتین اور ان کے ساتھ موجود مرد ہوٹل سے نکل گئے۔

بجرنگ دل کے ضلع کنوینر راجیش گوڑا نے اخبار کو بتایا کہ ان کی تنظیم کو اس تقریب کے بارے میں معلومات تھیں۔ راجیش نے کہا ’’یہ ہماری ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔ ہم شیوموگا میں اس طرح کے واقعات کی اجازت نہیں دیں گے کیوں کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا شہر ایک اور منی پال بن جائے۔‘‘

راجیش نے کہا کہ چوں کہ تقریب کو اعتراض کے باوجود منسوخ نہیں کیا گیا تھا، اس لیے اس نے اور دیگر لوگوں نے پولیس کے ساتھ مداخلت کی تاکہ اسے روکا جائے۔

راجیش نے پارٹی میں خواتین کے لباس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ’’بجرنگ دل شیوموگا میں اس طرح کے واقعات کو برداشت نہیں کرے گا۔‘‘

اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کی تنظیم نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا بلکہ پولیس کو اطلاع دی، جس نے پارٹی کو روکا۔

تاہم پولیس نے کہا ہے کہ انھوں نے پارٹی کو نہیں روکا۔

شیو موگا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ جی متھن کمار نے دی ہندو کو بتایا کہ افسران تب ہوٹل گئے، جب انھیں اطلاع ملی کہ کچھ لوگ پارٹی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کمار نے کہا ’’پولیس نے مداخلت کی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ہونے روکا۔ ہم نے پارٹی کو نہیں روکا۔‘‘

وہیں ہوٹل کے جنرل مینیجر شنکر کے نے کہا کہ پارٹی میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں تھا۔ شنکر نے کہا ’’ہمیں نہیں معلوم کہ پولس اور کارکنوں نے پارٹی کو کیوں روکا۔‘‘

ہوٹل کے جنرل مینیجر نے مزید کہا ’’ہمارے ہوٹل کی اچھی شہرت ہے۔ درحقیقت ہم نے وزیر اعظم نریندر مودی کے شیوموگا کے حالیہ دورے کے دوران وزیر اعظم کے دفتر کے لوگوں سمیت وی آئی پیز کی میزبانی کی ہے۔ اس بارے میں ضلعی انتظامیہ کے تمام اعلیٰ افسران جانتے ہیں۔ اگر ہم نے کوئی غلط کام کیا ہے تو ہم اسے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ ہمیں ہمارا کاروبار کرنے سے کیوں روک رہے ہیں۔‘‘