گھورکھپور:مندر کی سلامتی کے نام پر جبراً گھروں سے بے دخل کرنے کی کوشش پر مسلمانوں کا احتجاج

انڈیا ٹومارو ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ وائرل۔میڈیا میں خبر آنے کے بعد حکام کے سر بدلے

دعوت نیوز ڈسک

 

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ گورکھپور میں واقع جس گورکھ ناتھ مندر کے مہنت ہیں اس مندر کی حفاظت کا حوالہ دے کر مقامی انتظامیہ نے وہاں کے مسلمانوں کو ان کے مکانات خالی کرنے کی ہدایات دی ہے جس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مقامی افراد نے گھروں کو خالی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مسلمانوں پر انتظامیہ کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب کو ’سہمتی پتر‘ پر بالجبر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا تھا جس سے انہیں شدید پریشانیاں لاحق ہوئیں۔ ہفت روزہ دعوت سے بات کرتے ہوئے صحافی مسیح الزماں نے بتایا کہ انہوں نے منتخبہ مقامی باشندوں کے گھروں کو خالی کروانے کی کوشش کے بارے میں ضلع کلکٹر وجیندر پانڈین سے موقف جاننے کے لیے فون کیا تو کلکٹر صاحب نے ان کو دھمکی دی اور کہا کہ ’آپ صحافی لوگ غیر ضروری مسئلہ کو بگاڑ رہے رہیں جبکہ وہ لوگ اپنی رضامندی سے مکانات خالی کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔ حالانکہ تحقیق کرنے پر ان لوگوں نے بتایا کہ مکان خالی کرانے کے لیے ان سے سادہ کاغذ پر دستخط لیے گئے جبکہ گھر خالی کرنے میں ہماری کوئی رضا مندی نہیں تھی۔
متاثرین پریشان ہیں
اس معاملے میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ کس قدر خوفزدہ ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ اپنا مسئلہ بتانے کے بعد صحافیوں سے نام ظاہر نہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
میڈیا سے سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے ایک فرد انتظار احمد نے بتایا کہ ” اس سلسلے میں ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا بلکہ اچانک ہی رضا مندی کے فارم پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا۔ ہمیں اس بارے میں ابھی تک تحریری طور پر کوئی آرڈر نہیں دیا گیا ہے۔ بعض متاثرین نے بتایا کہ ’’ان کا خاندان 100تا 125 سال سے یہاں مقیم ہے لیکن رضا مندی کے فارم پر زبردستی دستخط کروا کے گھر چھوڑنے پر انہیں مجبور کیا جا رہا ہے۔ ایک اور متاثرہ خاندان نے کہا کہ "ہم یہاں سو سال سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں اور ہم کبھی بھی مندر کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بنے پھر کیوں ہمیں مندر کی سلامتی کا حوالہ دے کر اچانک نکالا جا رہا ہے؟”
ابتدا کیسے ہوئی؟
گورکھ ناتھ مندر کے آس پاس بسنے والے مسلمانوں کے مطابق 27 مئی کو کچھ سرکاری ملازمین آئے اور مکانات کی پیمائش کر کے چلے گئے۔ 28 مئی کو وہ لوگ دوبارہ آئے اور گھروں کو خالی کرنے کا حکم دے کر چلے گئے۔ یکم جون کو آکر انہوں نے سہمتی پتر پر دستخط کرنے کے لیے کہا۔ اس پر کسی نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ مبینہ طور پر ایک خاندان کے سربراہ نے دباؤ میں آکر سہمتی پتر پر دستخط کردیا تھا لیکن انہیں بعد میں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ ایک 65 سالہ شخص نے بتایا کہ مکان خالی کرنے کے معاملے میں ہماری رضا مندی کی بات غلط ہے، انتظامیہ جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ افراد خاندان نے تحصیلدار اور دیگر عہدیداروں پر بالواسطہ دھمکیاں دینے کا الزام لگایا ہے۔
سوالات کے گھیرے میں انتظامیہ
گورکھ ناتھ مندر کے قریب واقع 11 مسلم خاندانوں کو گورکھپور انتظامیہ نے مکانات خالی کرنے کے لیے دی گئی نوٹس کے بارے میں اب بہت سارے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ افراد کے اہل خانہ نے باہمی رضامندی سے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک انہیں کوئی سرکاری حکم نامہ یا اطلاع موصول نہیں ہو گی تب تک وہ کسی بھی قسم کے کسی دستاویز پر دستخط نہیں کریں گے۔
مجسٹریٹ کی غلط بیانی!
اس سلسلے میں گورکھپور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ وجیندر پانڈیا نے انڈیا ٹومارو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کنبے اپنی رضامندی سے گھر دے رہے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا، یہاں تک کہ انہیں کاغذات پڑھنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا۔
ڈی ایم کا یو ٹرن؟
یہ خبر وائرل ہونے کے بعد اب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ جو خاندان مکان خالی نہیں کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی جبر نہیں کیا جائے گا اور خالی ہونے والوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔ متاثرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مکان خالی نہیں کرنا چاہتے اور جن خاندانوں نے دستخط کیے ہیں وہ بھی اب گھر خالی کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
کہاں کہاں قانون شکنی ہوئی؟
اس معاملہ میں اگر متاثرہ خاندان والوں کی بات پر بھروسہ کیا جائے تو غیر آئینی طریقہ سے سادہ کاغذ پر دستخط لینا ہی غلط ہے۔ ساتھ ہی سو سال سے کسی مندر کو خطرہ نہیں تھا تو اب اچانک خطرہ کیوں محسوس کیا جانے لگا؟ اسی طرح پولیس چوکی تعمیر کرنے کے لیے اگر جگہ کی ضرورت تھی تو کیا انہیں مسلم خاندانوں کو اجاڑ کر ہی تعمیر کرنا ضروری ہے؟ جبکہ بتایا جا رہا ہے کہ وہاں قریب میں دوسری پولیس چوکی بھی موجود ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہاں کے مکینوں کو گھر خالی کرنے کے لیے جو خط موصول ہوا ہے اس کی حیثیت کورے کاغذ سے زیادہ نہیں ہے کیونکہ نہ تو وہ کسی مستند آفیسر کے دستخط کے ساتھ ہے اور نہ ہی وہ کسی مستند محکمہ کے لیٹر ہیڈ پر دیا گیا ہے اس لیے اس پر بھی سوال اٹھنا لازمی ہے۔ ایک اور بات یہ ہے کہ جمہوریت میں میڈیا اور صحافیوں کو جو حقوق حاصل ہیں اس کا لحاظ کر کے اگر کوئی صحافی صحافتی دیانت داری کے تقاضوں کے تحت ایک اعلیٰ افسر سے معاملہ کی وضاحت چاہتا ہے تو یہ بہت ہی افسوسناک بات ہے کہ وہ اعلیٰ افسر صحافی کو اس کے سوال کا صحیح جواب دینے کی بجائے نیتا لوگوں کی طرح دھمکی دے کر اسے خاموش کرنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح حکومت اگر کسی کی زمین یا گھر اپنے قبضے میں لینا چاہتی ہے تو اس کے عوض میں رقم اور زمین فراہم کرتی ہے لیکن یہاں سرے سے ان سب باتوں کا ذکر ہی مفقود ہے۔ یہ وہ امور ہیں جہاں محسوس ہوتا ہے کہ کھلے طور پر قانون شکنی ہوئی ہے۔ دوسری طرف اس معاملے میں حکام کی طرف سے مسلمانوں کو محض ان کے مذہب کے نام پر ہراساں کرنے کی بات بھی محسوس ہو رہی ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 13 جون تا 19 جون 2021