’میر کی ہمراز اور غالب کی سہیلی ‘

ایک زبان کی دو باتیں

ایس ایم جمیل

 

اردوکو اپنے ہی گھر میں اجنبیت کا احساس
میں نے اشیائے ضروریہ کی وہ فہرست سامنے کے ایک ادھیڑ عمر کے دوکان دار کے ہاتھ میں تھمادی جو ہم میاں بیوی نے اپنی ماہانہ ضروریات کے پیش نظر اپنے رہائشی کوارٹر میں بیٹھ کر تیار کی تھی۔ دوکان دار نے اس نے کاغذ کو واپس کرتے ہوئے کہا "صاحب! میں یہ تحریر نہیں پڑھ سکتا۔ آپ ہی مجھے پڑھ کر سنائیے۔”
اور میں ایک ایک چیز کا نام لیتا گیا اور وہ اپنے ہاتھ سے اپنی سیل بک پر لکھتا گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ہندی رسم الخط میں لکھ رہا تھا۔ اس دوکان دار کی بیک گراؤنڈ کو دیکھتے ہوئے میں نے قدرے متعجب ہو کر پوچھا "کیوں بھائی! کیا آپ اردو میں نہیں لکھ سکتے؟” اس نے زور سے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا "میں نے (اردو) نہیں پڑھی ہے”
یہ بات کچھ دن میرے دل میں کھٹکتی رہی۔ اس دوران میرا سابقہ اور کئی لوگوں سے پڑا۔ میں نے دیکھا کہ وہ لوگ اردو میں بات کرتے ہوئے بھی اردو سے نا واقف لگتے ہیں۔ بات کی کھوج میں میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہتا تھا اور اپنی طبیعت کی افتاد سے مجبور تھا کہ سوال براہ راست نہ کروں بلکہ بڑی شائستگی اور ہوشیاری سے اپنے سوال کا جواب پاؤں۔ چنانچہ میں نے گھر میں پڑے ایک موٹے اور چمکیلے اشتہاری کاغذ کی پشت پر دو تین اردو کے معروف مگر سہل الالفاظ اشعار خوشخط لکھے اور اپنی جیب میں رکھ لیا۔ اگلے روز جو جو قابل ذکر شخص مجھے ملتا گیا میں نے موقع نکال کر پرچی اس کے آگے رکھی یہ استدعا کرتے ہوئے کہ اس کے معانی و تشریحات مجھے بتائے جائیں۔
یہ ایک خاموش سروے تھا جو میں نے شہر کی ایک بڑی مسلم لوکلٹی میں کوئی ہفتہ بھر کے ٹائم میں سرانجام دیا۔ میں نے پایا کہ نوے فیصد لوگوں کو تحریر پڑھنی نہیں آئی البتہ چالیس فیصد جان گئے کہ یہ کوئی فارسی یا اردو تحریر ہے۔ ہر بار مجھ سے کہا گیا کہ میں خود یہ اشعار پڑھ کر سناؤں تاکہ وہ کچھ سمجھ جائیں۔ میں ہر بار کسی سے الجھے بغیر اور کوئی تبصرہ کئے بغیر پرچی کو اپنی جیب میں رکھ کر اپنے ہونٹوں پر ایک خنجریلی مسکراہٹ لیے ہوئے بڑی خاموشی سے ان سے رخصت ہوتا۔ جی ہاں! آپ کو بتا دوں کہ اس سروے کے نتیجے میں مجھ پر یہ بات بڑی واضح ہو گئی کہ کیوں وہاں کی دوکانوں اور اداروں کے سائن بورڈ (کہیں کہیں ایک آدھ کو چھوڑ کر) اردو زبان میں تحریر شدہ نہیں ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ آج سے کئی دہائیوں قبل بعض سخت ناپسندیدہ لیکن معلوم وجوہات کی بنا پر یہاں کی مسلم اقلیت اپنی مادری و ثقافتی زبان یعنی اردو کا حلیہ بگاڑنے اور اسے دیوناگری (ہندی) کا جامہ پہنانے پر مجبور ہوگئی تھی۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ان کی نوجوان نسل کلی طور پر اردو سے نابلد ہے اور پرانی پود اپنی روزمرہ گفتگو میں اس زبان کی مٹھاس وچاشنی کو بڑی حد تک کھو چکی ہے جس کے لیے دلّی والے کبھی مشہور تھے۔ تب ملک میں ہر جگہ بولی یا لکھی جانے والی اردو کا تقابل اور موازنہ یہاں کی ٹکسالی زبان سے کیا جاتا تھا اور اس طرح اردو والوں کو نمبر ملتے تھے یعنی اس طریقے سے کسی مقام یا صوبے کے اردو ادب کا معیار مقرر کیا جاتا تھا۔ مجھے یہ جان کر واقعی بڑا تعجب ہوا اور کسی قدر دکھ بھی کہ اب اگر کوئی اکّا دکّا شخص اس زبان کو سیکھنے کا خواہشمند ہو تو اسے کسی کمرشیل تعلیمی ادارے سے کریش کورس کرنا پڑے گا۔ ظاہر ہے اس طرح کی تعلیم حروف شناسی اور کتب بینی تو کرا سکتی ہے مگر اس سے زبان کا وہ لطفِ بیاں اور چٹخارہ حاصل نہیں ہو سکتا جو ایک زندہ بول چال اور تحریری زبان کا خاصہ ہوتا ہے۔
اپنے مشاہدہ کی بنا پر مجھے کہنے دیجئے کہ ’’دریں شہرِ دلّی‘ زبانِ اردو مردہ باشد‘‘۔ یہاں پر اردو زبان مر گئی ہے یا دم توڑ رہی ہے۔ اس پر صد افسوس اور صد ہزار واویلا۔ مگر غور طلب بات ہے کہ اس زبان کے موجودہ وارث بھی اپنی اجتماعی ارتکابِ غفلت و کوتاہ بینی کی پاداش سے بچ نہیں سکتے۔ وہ اگر ایک زندہ قوم ہوتے تو اردو کو تمام نامساعد حالات کے باوجود خود اپنی انفرادی اور ملّی سطح پر زندہ رہنے دیتے۔ وہ نہ صرف اپنی ہر نئی آنے والی نسل کو خود اپنے گھروں میں اور پاس پڑوس میں اپنی زبان و تہذیب کا مئے گلفام پلا دیتی بلکہ اس زبان کو زمانے کی برق رفتار ترقی سے ہمکنار کرانے کی ہردم سعی کرتی رہتی اور دنیا جان لیتی کہ گنگا جمنی تہذیب کی حامل اردو زبان ایک زندہ قوم کی وراثت وامانت ہے۔
یہ حال ہے اردو کا بلکہ برصغیر کی ایک بہت بڑی زبان کا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں دور بہت دور ہمالیہ کی گود میں پلی بڑھی ہماری زبان کا بھی ایک دن یہی حشر نہ ہو جائے۔ خدا کرے کہ ایسا نہ ہو!

نوجوان نسل کلی طور پر اردو سے نابلد ہے اور پرانی پود اپنی روزمرہ گفتگو میں اس زبان کی مٹھاس وچاشنی کو بڑی حد تک کھو چکی ہے جس کے لیے دلّی والے کبھی مشہور تھے۔ تب ملک میں ہر جگہ بولی یا لکھی جانے والی اردو کا تقابل اور موازنہ یہاں کی ٹکسالی زبان سے کیا جاتا تھا اور اس طرح اردو والوں کو نمبر ملتے تھے یعنی اس طریقے سے کسی مقام یا صوبے کے اردو ادب کا معیار مقرر کیا جاتا تھا۔ مجھے یہ جان کر واقعی بڑا تعجب ہوا اور کسی قدر دکھ بھی کہ اب اگر کوئی اکّا دکّا شخص اس زبان کو سیکھنے کا خواہشمند ہو تو اسے کسی کمرشیل تعلیمی ادارے سے کریش کورس کرنا پڑے گا۔ ظاہر ہے اس طرح کی تعلیم حروف شناسی اور کتب بینی تو کرا سکتی ہے مگر اس سے زبان کا وہ لطفِ بیاں اور چٹخارہ حاصل نہیں ہوسکتا جو ایک زندہ بول چال اور تحریری زبان کا خاصہ ہوتا ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 24 جنوری تا 30 جنوری 2021