مودی جی نے ٹرمپ کو گوڈسے کا گھر کیوں نہیں دکھایا؟

بھارت کے دورہ پرآئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے استقبال کے لیے گجرات میں ڈیجیٹل بینر لگائے گئے جن پر لکھا تھا "گاندھی کی سر زمین پر آپ کا استقبال ہے”۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے گجرات میں احمدآباد، سابرمتی وغیرہ کا دورہ کیا، وہ سابرمتی آشرم بھی گئے۔ وہاں انھیں گاندھی جی کا چرخہ دکھایا گیا۔ گاندھی جی کے افکار کو ظاہر کرنے والے تین بندروں کو بھی دکھایا گیا۔ یہ معلومات خود ٹرمپ نے دی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کو سابرمتی آشرم کیوں لے جایا گیا جبکہ سنگھ پریوار والے گاندھی جی کو کھل نائک ٹھہراتے ہیں، انھیں مسلسل بدنام کرتے ہیں، ان کے قتل کی تائید کرتے ہیں اور ناتھورام کی جئے جئے کار کرتے ہیں؟ ناتھورام کی جئے جئے کار کرنے والی سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو مودی نے بغیر کسی جھجھک کے ملک کی سلامتی کمیٹی میں شامل کرلیا۔ جس مودی نے کہا تھا کہ ’’میں سادھوی کو کبھی معاف نہیں کر سکتا‘‘ اسی مودی نے اسے ملک کی حفاظت و سلامتی کی کمیٹی میں کیوں شامل کیا؟
سنگھ کی چھتر چھایا میں پلے بڑھے نریندر مودی بھی دوہرا معیار اپناتے ہیں۔ اگر وہ گاندھی کو پسند نہیں کرتے تو ٹرمپ کو گاندھی کے آشرم میں کیوں لے گئے اور گاندھی کو یہ مقام و مرتبہ کیوں دیا؟ انھیں ٹرمپ کو سابرمتی آشرم میں لے جانے کے بجائے ناتھورام گوڈسے کے گھر لے جانا چاہیے تھا، گولوالکر اور ہیڈگیوار کے گھر لے جانا چاہیے تھا۔ مودی دنیا میں کہیں بھی جاتے ہیں تو وہ گوتم بدھ اور گاندھی جی کے ناموں کا سہارا کیوں لیتے ہیں؟ اس سوال کا جواب مودی کیا دیں گے؟ وہ دنیا کے سامنے یہ سب ناٹک کیوں کرتے ہیں؟ وہ گاندھی کی عظمت کے قائل ہیں تو پھر ان کے خلاف کیوں کہتے پھرتے ہیں؟ گاندھی جی کی شبیہ کو داغ دار بھی کرتے ہیں پھر ان کی سمادھی پر پھول بھی چڑھاتے ہیں؟ مودی کو ان تمام سوالات کے جوابات دینا ہوگا۔
دت کمار کھنڈگاوڑے