مطالعہ ادیان میں قاضی سلیمان منصور پوری کےافکار کی افادیت

متعد د تالیفات میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کا تحقیقی جائزہ

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی،علیگڑھ

 

قاضی سلیمان منصور پوری (1930-1867) کی علمی وتحقیقی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ انہوں نے اسلامیات و دینیات کے متعدد گوشوں پر نہایت وقیع کتب تحریر کی ہیں۔ چند معروف کتب کے نام ذیل میں پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ الجمال والکمال، رحمة اللعالمین، اصحاب بدر، مہر نبوت، سید البشر، کے علاوہ کئی کتب عیسائیوں کے رد میں بھی لکھیں۔ جیسے استقامت، خطبات سلیمان، تائید الاسلام، برہان، وغیرہ ان میں عیسائی پادریوں کے سوالات اور ان کے مذہب کی معلومات پر سیر حاصل بحث موجود ہے۔ نیز مکاتیب سلیمان، مسح علی الجوربین وغیرہ بھی آپ نے تحریر کی ہیں۔ گویا آپ ایک اچھے مفسر، تاریخ دان، ماہر سیرت اور بہترین مناظر تھے۔ آپ نے عیسائی پادریوں کے علاوہ قادیانیوں اور آریا سماجیوں سے بھی مناظرے کئے ہیں۔ اسی وجہ سے قاضی سلیمان منصور پوری کو تقابل ادیان اور مطالعہ ادیان میں کافی درک حاصل تھا۔ ان کی کتب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے مطالعہ ادیان کے حوالے سے نہایت دلچسپ اور علمی موشگافیاں کی ہیں۔ رحمة للعالمین میں تو جا بجا کتب سماویہ سے استدلال بھی کیا ہے۔ سیرت کی یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کو تین جلدوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس کے اندر تقابل ادیان کے جن گوشوں پر گفتگو کی ہے ان مباحث کا اجمالی تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
رحمة للعالمين میں تقابل ادیان سے متعلق مباحث
مسیح سے دو ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش، حضرت ابراہیمؑ کا مصر جانا، بی بی ہاجرہ سے حضرت ابراہیم کا نکاح، توراة سے حضرت اسماعیل حضرت اسحاق کی مساوات کا ذکر (حاشیہ) حضرت ابراہیمؑ نے اپنے فرزندان اسماعیل و اسحاق پر شام وعرب کو تقسیم کیا۔ حضرت اسماعیلؑ کے بارہ بیٹے، حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے جو چار ازواج سے تھے، فرزندانِ ابراہیمؑ کا بحر ہند و بحر احمر پر قصی کا ذکر اور اس کی اصلاحات، قبل نبوت عرب کے مذاہب، حضرت ابراہیم قوموں کے باپ تھے، بی بی ہاجرہ کا تقرب الٰہی، سمت اور مسیحی تاریخوں میں تاریخی غلطیاں (اس ضمن میں قاضی صاحب نے ان غلطیوں کی نشاندہی کی ہے جو حضور ﷺ کی تاریخ پیدائش کے متعلق عیسائیوں کے یہاں پائی جاتی ہیں) مکاشفات یوحنا کی تطبیق نبی ﷺ پر ( حاشیہ) اس عنوان کے تحت قاضی صاحب نے یوحنا کی کتاب مکاشفات سے جو بائبل کے آخر میں ہے۔ حضور ﷺ کا صادق و امین ہونا درج ہے، یہ بتایا ہے۔ کتاب یسعیاہ میں ہجرت کا ذکر (حاشیہ) کتاب تورات میں نبی ﷺ کی پیشین گوئی (حاشیہ) بنی اسماعیل کی نبوت کے حوالے بائبل میں (حاشیہ) حضرت مسیح کی شخصیت پر قرآن یورپ کے مختلف فرقوں کا ذکر، رحمة للعالمين کی دوسری جلد میں انبیاء کرام علیہم السلام کے احوال کو بیان کیا گیا ہے البتہ اس میں کتاب مقدس سے بھی بحث کی گئی ہے۔ اس ضمن میں قاضی صاحب نے ایک انتہائی اہم بحث کی ہے آیت قرآنی ولتعلموا عدد السنین والحساب کے تحت۔ مسلم اور دیگر اقوام کی سنین وتاریخ پر یہ ایک جامع بحث ہے۔ اس لیے اس جلد کے مباحث کو ترک کیا جاتا ہے۔ تیسری جلد میں بھی کئی مباحث تقابل ادیان کے حوالے سے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ تقابل ادیان سے متعلق کچھ مباحث قاضی صاحب کی ذاتی ڈائری میں ملتے ہیں۔
تقابل ادیان کے اسلوب و آداب
قاضی سلیمان منصور پوری نے تقابل ادیان پر جو کام کیا اس میں روادارانہ طرز اختیار کیا اور درج ذیل نکات کا ہمیشہ خیال رکھا۔ چنانچہ اسحاق بھٹی نے اپنی کتاب’’ قاضی سلیمان منصور پوری عہد، خاندان، اساتذہ ہم عصر علماء‘‘ میں لکھا ہے کہ’’ مکالمہ کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کا ان کی کتب معروفہ سے بہ غور مطالعہ کیا جائے۔ ان کے اسلوب اظہار اور ترجیح موضوعات کو سمجھ کر اس مذہب کے پیروکار سے تحریری یا تقریری خطاب کرتے ہوئے اسلام کی تفہیم کردی جائے۔ اس ایمان کے ساتھ کہ الہادی اللہ تعالیٰ ہے۔ تحریر یا تقریر کا ہر مخاطب اسی صورت میں استفادہ کر سکتا ہے کہ انداز تخاطب میں ایسی رواداری ہو کہ اس کا اور اس کے مذہب کے بزرگوں کا نام احترام سے لیا جائے۔ تنقید یا تضحیک نہ کی جائے۔ مخاطب کے ظرف کے مطابق دلائل دیے جائیں۔ غالباً قاضی صاحب نے یہ تحریک مکالمہ بین المذاہب اسلیے اپنائی کہ قرآن و حدیث کا یہی تقاضا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
دوسرے مذاہب کے معبود کو برا نہ کہو۔ اگر اللہ تعالیٰ کا منشا ہوتا تو بنی نوعِ انسان ایک ہی دین پر ہوتے۔
ہر مذہب میں اس کے ماننے والوں کے لیے زینت ہے۔
ہر مذہب کی ایک شرع ہے اور اسی میں آزمائش ہے۔
کہو ( اے نبی ﷺ) تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین
ہر امت کے لیے رسول ہے، ہر قوم کے لیے ہادی۔ اور ہر ہادی و رسول نے اپنی قوم سے اپنی قوم کی زبان میں خطاب کیا۔
احادیث مبارکہ میں بھی اس طرح کی ہدایات و تعلیمات ملتی ہیں
کسی قوم کے شر سے بچنے کےلیے اس کی زبان سیکھو (زبان سیکھنے کے بعد ہی ان کے اعتقادات، عزائم اور اسلوب تبلیغ کا علم ہوگا)
حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں ملے اپنا لو
ایک حدیث میں پیشگوئی کے ساتھ مسلمانوں کو حکم صادر ہوا جو اہل ایران زرتشتی مذہب والوں سے متعلق ہے کہ جب ان پر غلبہ حاصل کر لو تو ان سے’’ اہل کتاب کا سا سلوک کرنا۔‘‘ ( قاضی سلیمان منصور پوری عہد، خاندان، اساتذہ ہم عصر علماء ، ص 284-285) ان اصولوں اور اقدار کی رعایت قاضی صاحب نے مطالعہ ادیان کے حوالے سے کی ہے۔ جارحانہ اور متشددانہ رویہ سے حتی المقدور پرہیز کیا ہے۔ یہی معتدل رویہ ان کی تالیفات میں جھلکتا ہے۔ اسحاق بھٹی نے اپنی مذکورہ کتاب میں مزید وضاحت اس طرح کی ہے۔ مکالمہ بین المذاہب اور تقابل ادیان میں قاضی صاحب نے یکساں سلوک اختیار کیا اس کی مثال آپ کی وہ تقاریر ہیں جو اب کتابی شکل میں ’’سید البشر‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اس میں انہوں نے ہندو مت سکھ مت وغیرہ کے اعیان کا ذکر نہایت شستہ انداز میں کیا ہے۔ ( ایضاً صفحہ 287)
قاضی سلیمان منصور پوری نے اپنی متعدد کتب میں ہندوؤں، یہودیوں، مجوسیوں، نصرانیوں، سکھوں، جینیوں اور بدھوں کے احوال، تہذیب و تمدن اور دینی ومذہبی اور سیاسی افکار کو پیش کیا ہے۔ البتہ غیر سامی ادیان کے متعلق باضابطہ ان کی کوئی تصنیف نہیں ہے۔ بلکہ رحمۃ للعالمین، خطبات سلیمان، استقامت ،برہان، مکاتیب سلیمان اور سید البشر میں کچھ چیزیں ملتی ہیں۔
اصول تبلیغ
قاضی سلیمان منصور پوری نے اپنی ایک اہم کتاب’’خطبات سلیمان‘‘ (جو دس خطبات کا مجموعہ ہے) میں لکھا ہے کہ تبلیغ کے دو اصول ہیں ’’اول خود اس مذہب کے پاک نوشتوں میں تبلیغ کرنے کا حکم موجود ہو۔ دوم خود اس مذہب کے ہادی اور داعی نے اس حکم کی تعمیل کرکے دکھائی ہو، اس اعتبار سے قاضی صاحب کی تحقیق کے مطابق صرف بدھسٹ اور عیسائیت ایسے دو مذہب ہیں جن کا تبلیغی ہونا زیادہ تر گمان کیا جاتا ہے‘‘ ( خطبات سلیمان ، صفحہ3) آ گے لکھا ہے کہ اگر بدھسٹ کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے اور مہاتما گوتم کے چھ خاص شاگردوں سے لے کر اس مت کے دور اقبال کو دیکھ لیا جائے تو پتہ لگ جائے گا کہ یہ مذہب کبھی ہندوستان سے باہر غیر زبان بولنے والوں یا کسی دوسرے مذہب والوں کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ اس مذہب کو ہندوستانیوں کے سامنے پیش کیا گیا اور ہندوؤں ہی نے اسے قبول کیا اور بس۔ اسی وجہ سے بدھ ازم کے مصنفین کے اندر یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے کہ بودھ ازم کوئی مذہب ہے یا خلاقی انجمن۔ آریہ سماج کا کہنا یہ ہے کہ مہاتما گوتم بھی وید مت ہی کی حفاظت و حمایت کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے ممکن ہوا کہ خود بدھ ازم نے کسی مستقل مذہب ہونے کا نہ دعویٰ کیا اور نہ اس میں وہ شان پیدا ہوئی۔ اس کے بر عکس جب ہم مہاتما گوتم بدھ کا یہ حکم پڑھتے ہیں کہ اس نے سنسکرت زبان کے پڑھنے کی ممانعت کر دی تھی اور پالی زبان کو مقدس زبان قرار دیا تھا تب آریہ سماجیوں کا دعویٰ بالکل کمزور ہو جاتا ہے۔(ایضاً، صفحہ 4) قاضی سلیمان منصور پوری کی تحقیق یہی ہے۔ قاضی سلیمان منصور پوری نے مہاتما بدھ کے متعلق یہ بھی لکھا ہےکہ ’’جب ہم مہاتما گوتم بدھ کو دیکھتے ہیں کہ وہ ہاتھ میں کشکول لیے ہوئے چپ چاپ ایک دروازے کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں اور جب گھر والے اس کشکول میں کوئی خوردنی چیز ڈال دیتے ہیں تو وہ آہستگی کے ساتھ وہاں سے چل پڑتے ہیں تو بے اختیار کہا جا سکتا ہے کہ اس اصول پر دنیا نہیں چل سکتی اور اس نامور ہستی نے جو نمونہ اپنی زندگی کا دکھلایا ہے اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لہذا نتیجہ صاف ہے کہ بودھ ازم دنیا کا تبلیغی مذہب نہیں ہوسکتا‘‘ اسی وجہ سے بودھ ازم کے ایک فاضل نے اپنی کتاب بدھ میں تحریر کیا ہے کہ ’’بودھ ازم کی ناکامی کا سبب خود اس کے اپنے اصول تھے‘‘ (ایضاً، صفحہ 17) پتہ یہ چلا متبعین بدھ ازم کے ایک طبقہ کے نزدیک تو یہ دھرم تبلیغی ہے۔ لیکن خود متحملین بودھ کے ایک طبقہ کی رائے کے مطابق بودھ ازم تبلیغی دین نہیں ہے۔
مجوس کے حالات
قاضی سلیمان منصور پوری نے جہاں سامی اقوام وادیان کا تعارف اپنی قیمتی تحریروں میں کرایا ہے وہیں انہوں نے غیر سامی ادیان پر بھی مفید معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ چنانچہ وہ مجوس کے متعلق رقم طراز ہیں۔
” ایران میں نہایت قدیم زمانے سے سلطنت قائم تھی، انہوں نے تقریباً ایک ثلث کرہ ارض پر جو اس وقت آباد تھا، حکومت کی۔ حکومت سے امن، امن سے عیش و عشرت کا وجود پیدا ہوا۔ عیاشی نے دل ودماغ کو کمزور کر دیا اور ایوان سلطنت کی بنیادوں کو متزلزل کر دیا ۔ مانی کے مذہب نے آئینِ قدیم کو نیست ونابود کر دیا۔ مردو زن کے طبائع میں شوریدگی وآوارگی پیدا کر دی۔ مزوک نے زن وزر وزمین پر سے ملکیت اٹھا دینے سے فحش وظلم اور طغیان و عصیان کا طوفان بپا کر دیا۔صاحب تاج وتخت شہزادیاں اپنے افسران فوج کے جذبات حیوانی سے تختہ ہائے موت پر لٹائی گئیں۔ محرمات مدینہ کو محصنات بنائے جانے کے دلائل پسند کئے گئے۔ عصمت پاک دامنی کو ہر دو جنس کے لیے ناپاک قرار دیا گیا۔ فرہاد جیسے نمک حرام ملازم اپنے بادشاہ کے رقیب بن گئے اور شیرویہ جیسے ناخلف پسر نے ہوش بہیمیت میں باپ کا شکم چاک کرکے شیریں پر قبضہ کیا۔ سلطنت ہائے روما و ایران کی عدالت قدیم اور آ ئے دن ایک سلطنت پر دوسری چڑھائی نے ملک کو بے چراغ بنا دیا تھا۔ اصل مذہب کا وجود باقی نہ رہا تھا۔ مقدس کتب سکندر کی تاخت و تاراج میں گم اور بے نشان ہوچکی تھیں۔ ان احوال پر قاضی صاحب کا تجزیہ یہ ہے کہ مجوس کی یہ حالت اسلام کی آغوش میں آنے سے قبل تھی۔ جب اسلام نے اس ملک کو اپنی حمایت میں لیا تھا تب نبی کریم ﷺ کی پاک تعلیمات نے اس وسیع ملک کے باشندوں کو جبر و استبداد اور فحش و ظلم کے بند و زندان سے آزاد کیا‘‘ (رحمتہ للعالمین ، ج3، صفحہ 71)
ہندو اقوام کے حالات
قاضی سلیمان منصور پوری اپنی معروف کتاب رحمۃ للعالمین میں ہندوؤں کے متعلق لکھتے ہیں۔ ’’ اہل اسلام نے دریائے سندھ کے شرق میں رہنے والوں کو انڈو یا ہندو تحریر کیا ہے۔ اس ملک اور قوم کی تاریخ قدیم بالکل تاریک تھی، تاہم ایسے آثار قوی پائے جاتے ہیں کہ اس ملک میں بھی کسی زمانہ میں علم کی ترقی ہوچکی ہے‘‘۔
ہندو قوم اور ملک و مذہب و علم کا زوال مہابھارت کی جنگ سے شروع ہوا ہے۔ یہ جنگ کم از کم ڈیڑھ ہزار سال قبل ہوئی تھی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سارے ہندوستان میں کوئی ایک شخص ایسا نہ رہ گیا تھا جو فریقین ( کورو پانڈو) میں سے کسی ایک کا جانب دار نہ ہو۔ ہم اندازاً قیاس کرتے ہیں کہ اس وقت تک کی آبادی پانچ کروڑ تو ضرور ہوگی، مگر جنگ کا کیا نتیجہ ہوا کہ طرفین میں سے بارہ مرد زندہ رہ گئے تھے۔ فاتحین نے یہ حالت ہوش ربا دیکھی تو انہوں نے بھی جلد از جلد اپنی زندگیوں کا خاتمہ کردیا۔
حضرت مسیح علیہ السلام سے چھ صدی پیشتر بدھ مذہب نے ظہور کیا۔ بدھ نے ہاکی زبان کو اختیار کیا تھا اور سنسکرت پڑھنے پڑھانے کی ممانعت کردی تھی۔ وید مت کی جگہ بودھ مت قائم ہوجانے سے قدیم مذہب کی کتابیں نیست ونابود ہوگئیں اور ان کے جاننے والے شنکر اچاریہ نے ان لوگوں سے کچھ مناظر ے کیے اور اپنی علمیت کا رنگ جمایا مگر وہ 33 سال کی عمر میں مرگیا۔ اس کی مساعی کا نتیجہ صرف اتنا ہوا کہ سنسکرت کو پھر دربار میں جگہ مل گئی مگر اس کے ساتھ ساتھ غلو اور استغراق نے بھی قدم جما لیے اور حقائق و واقعات پر استعمارات کا پردہ پڑ گیا۔ قدیم کتابوں میں سے ایک کتاب مہابھارت پائی جاتی ہے مگر وہ بھی یار لوگوں کے تصرفات سے محفوظ نہ رہی۔ بیس ہزار اشلوک اس کتاب میں جعلی طور پر شامل کر لیے گئے۔ بودھ مذہب کا زور راجہ اشوک کے عہد تک رہا۔ اس کے بعد بودھ ازم روبہ زوال ہوگیا۔ بودھ ازم کے اصول متمدن دنیا کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔ بھکشوؤں (گداگروں) کی لاتعداد جماعت جو بدھ مت نے تیار کردی تھی وہی زیادہ تر اس کے زوال اور حدودِ ملک سے انتقال کا باعث بھی ہوئی۔ گوپران مت نے بھی اس کے نکالنے میں بہت بڑی جد و جہد کی تھی۔ بودھ مت کے بعد ملک کی حالت بد سے بدتر ہوگئی ۔ فسق و فجور اور فواحش کا دور دورہ ہوگیا ، چکرانت دام مارگی، سہسر بھگ دوشنان مکتی، شاکت، ننوارک آوک، ڈنڈی وغیرہ بیسیوں ایسے فرقے پیدا ہو گئے جنہوں نے اخلاق و تہذیب کو جلا کر راکھ کر دیا۔ یہ فرقے تمام ہندوستان ہی میں چھائے ہوئے تھے۔ شراب، جوا، بدکاری کو مذہب کا لباس پہنا کر پوتر قرار دیا تھا۔ ہندوستان کی یہی بد ترین حالت تھی‘‘ (رحمتہ للعالمین ، ج3، صفحہ 69-70)
ان اقوام کی حالت بد تحریر کرنے کے بعد قاضی صاحب لکھتے ہیں کہ’’ان کو حضور ﷺ کی محبانہ و ہمدردانہ و صادقانہ و بے غرضانہ جود و رحم نے غارِ ہلاکت سے نکالا اور تمدن و حسن معاشرت و امن عامہ و عافیت کلیہ سے بہرہ اندوز فرمایا‘‘ (ایضاً صفحہ 71)
پتہ یہ چلا قاضی سلیمان منصور پوری کی تحقیق کے مطابق ہندوؤں میں بے انتہا اصرار واغلال تھا۔ البتہ یہ سچ ہے کہ ہندو دھرم ایک قدیم ترین مذہب ہے۔ جن حقائق کا ذکر قاضی صاحب نے کیا ہے وہ اس معنی میں بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ ہندو اقوام میں آج جو مذہبی ودینی نظریہ پایا جاتا ہے وہ بہت حد تک اصل مذہب کی پیداوار نہیں ہے بلکہ ایجاد و اختراع کا سنگم معلوم ہوتا ہے۔
تعدد زوجات
قاضی سلیمان منصور پوری نے اپنی کتاب رحمۃ للعالمین اور خطبات سلیمان میں یہ بحث کی ہے کہ آج اسلام پر تعدد زوجات کا الزام عائد کیا جاتا ہے جبکہ ہم دیگر مذاہب کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں بھی تعدد زوجات کا ثبوت ملتا ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ کو قانونی اور مذہبی دونوں اعتبار سے پیش کیا ہے۔ قانونی حیثیت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے قاضی صاحب لکھتے ہیں
’’اس مسئلہ کا فیصلہ یورپ کے لیے اور طرح کرتا ہے اور ایشیا کے لیے اور طرح۔ ہندوستان کی تمام ہائی کورٹیں ایک سے زیادہ بیوی کی شخصیت کو قوانین دیوانی اور فوجداری میں صحیح تسلیم کرتی ہیں۔ یہ اعلیٰ عدالتیں ان مقدمات میں جو جائیداد کے متعلق ہیں۔ دو یادو سے زیادہ بیویوں کے حقوق کو بمقابلہ ان کے شوہر کے ورثا قانونی کے تسلیم کرتی ہے اور ڈگریاں جاری کرتی ہیں۔ یہ اعلیٰ عدالتیں ہمیشہ مقدمات زیر دفعہ 494 تعزیرات ہند میں ایسی عورت کو جو اپنے شوہر کی دوسری یا تیسری یا چوتھی بیوی تھی کسی دوسری جگہ شادی کر لینے سے مجرم قرار دیتی ہیں اور اس شخص کو بھی مجرم ٹھہراتی ہیں جو ایسی عورت کے ساتھ شادی کرلیتا ہے‘‘ (رحمتہ للعالمین ،ج2، صفحہ 126) مذکورہ اقتباس کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ تعدد ازواج کے متعلق قانونی اعتبار سے کوئی قباحت نہیں ہے۔ آئینِ ہند کے علاوہ بھی دیگر بین الاقوامی دساتیر میں بھی تعدد زوجات کی اجازت موجود ہے۔
اس مسئلہ کا دوسرا گوشہ مذہب ہے آیا مذہبی اعتبار سے اسلام کے علاوہ دیگر ادیان کا کیا موقف ہے؟ قاضی سلیمان منصور پوری نے اس ضمن میں بڑی محققانہ گفتگو کی ہے اور بتایا ہےکہ ہندو دھرم کے داعیان کے علاوہ بھی دیگرمذہبی پیشواؤں نے متعدد شادیاں کی ہیں۔
چنانچہ انہوں نے ہندو دھرم کی مقتدا شخصیات کے حوالے سے رقم کیا ہے۔
سری رام چندر جی کے اولاد مہاراجہ دسرت کی تین بیویاں تھیں۔ پٹ رانی کوشلیا: والدہ رام چندر جی۔
رانی سمترا : والدہ لچھمن جی۔
رانی کیکئی : والدہ بھرت جی
راجا پانڈو کے جو مشہور پانڈوں کا جد اعلی ہے۔ دو بیویاں تھیں ۔
کنتی: والدہ یدہشترو بھیم سین و ارجن ۔
مادری : والدہ نکل و سہدیو
راجا شنتن کی دو بیویاں تھیں ۔
گنگا : والدہ بھیکم
ستیہ وتی: والدہ چترانگدو بچھترا ایرج پسران شنتن۔
بچھترایرج کی دو بیویاں اور ایک لونڈی تھی۔
امیکا۔ دھر تراشٹ ۔
امہالکا ۔ والدہ پانڈو۔
لونڈی۔ والدہ بدر (دیکھئے تفصیل، رحمتہ للعالمین ،ج 2، صفحہ 127-131)
اسی طرح عیسائیت، یہودیت کے علاوہ دیگر ادیان کے پیشواؤں کے متعلق بھی تفصیلی گفتگو کی ہے کہ انہوں نے بھی متعدد شادیاں کی ہیں۔
ان حقائق سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ جو لوگ آج اسلام کے ازدواجی نظام پر انگشت نمائی کرتے ہیں انہیں پہلے اپنے رویوں اور تہذیبوں و مقتدا شخصیات کی زندگی کا مطالعہ کرلینا چاہئے۔ مگر افسوس کہ اسلام کے اس نظام پر متشددین مستشرقین کے علاوہ ہندوستان میں بھی گاہ بگاہ یہ بحث اٹھائی جاتی رہتی ہے کہ تعدد زوجات پر پابندی عائد کی جائے۔ یقیناً یہ نرے تعصب اور اسلام دشمنی کی علامت ہے۔ جبکہ تعدد زوجات کا تصور و نظریہ تقریباً دنیا کی تمام تہذیبوں اور ادیان میں پایا جاتا ہے۔ اس یک طرفہ سوچ سے بچنے کی ضرورت ہے۔
سنین و تواریخ
قاضی سلیمان منصور پوری نے رحمۃ للعالمین میں ایک بحث نہایت علمی اور انوکھی یہ کی ہے کہ متعدد اقوام وادیان کے سن و تاریخ کے جدول پیش کئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان جدول کو سمجھنے کا طریقہ کار کیا ہے۔ جن جدول کو پیش کیا ہے ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔
سنہ ہجری : یہ خالص قمری ہے۔ قمری ہجری سال 354 دن کا ہوتا ہے۔
جولین پیریڈ 🙁 دور جولیانی) سنہ جولین پیریڈ جو 1582 ۔ مطابق 990ھ میں وضع کیا گیا تھا۔ اس میں سال کا پہلا مہینہ جنوری، مقدار سال 365 دن 2 گھنٹے۔
سنہ عبرانی : شروع سنہ کا پہلا دن ۔ دوشنبہ۔ سال کا پہلا مہینہ قمری۔ مقدار سال 12-13 مہینے۔
نوح یا سنہ طوفان: اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔ شروع سنہ کا پہلا دن، پنجشنبہ ، سال کا پہلا مہینہ توت، تعداد ایام سال ، 365
کل جگ : شروع سنہ کا پہلا دن ، جمعہ ، سال کا پہلا مہینہ بیساکھ، مقدار سال 365 دن چھہ گھنٹے بارہ منٹ ۔
سنہ ابراہیمی: شروع سنہ کا پہلا دن یک شنبہ ، سال کا پہلا مہینہ، اکتوبر، سال کی مقدار 365 دن، چھ گھنٹے،
بخت نصری: شروع سنہ کا پہلا دن چہار شنبہ ، شروع سال کا پہلا مہینہ توت ، سال کی مقدار 365 دن۔
سنہ سکندری: شروع سنہ کا پہلا دن دوشنبہ، سال کا پہلا مہینہ تشرین اول، مقدار سال 365 دن چھ گھنٹے۔
بکرمی بروشٹہ : شروع سنہ کا پہلا دن شنبہ، سال کا پہلا مہینہ بیساکھ، مقدار سال 365 دن چھہ گھنٹے،بارہ منٹ۔
بکرمی قمری شمسی سال: شروع سنہ کا پہلا دن شنبہ، سال کا پہلا مہینہ چیت ، مقدار سال 12-13 ماہ قمری۔
عیسوی قدیم: شروع سنہ کا پہلا دن شنبہ، سال کا پہلا مہینہ جنوری، مقدار سال 356 دن ، چھ گھنٹے۔
عیسوی جدید: شروع سنہ کا پہلا دن دوشنبہ، سال کا پہلا مہینہ جنوری، مقدار سال 365 دن، 5 گھنٹے چالیس منٹ، چھیالیس سکنڈ۔
قبطی جدید: شروع سنہ کا پہلا دن جمعہ، سال کا پہلا مہینہ توت ، مقدار سال 365 دن چھہ گھنٹے۔
جلوس نوشیروانی: شروع سنہ کا پہلا دن شنبہ، سال کا پہلا مہینہ خرواد ، مقدار سال 365 دن۔
عام الفیل: شروع سنہ کا پہلا دن یک شنبہ، سال کا پہلا مہینہ محرم، مقدار سال 354 دن، آ ٹھ گھنٹہ ، اڑتالیس منٹ، چوالیس سکنڈ۔ ( تفصیل دیکھئے، رحمتہ للعالمین ، ج 2 صفحہ 348-363)
خلاصہ کلام
بالائی سطروں میں مذکور مباحث و شواہد اس بات پر بین ثبوت ہیں کہ قاضی صاحب کو سامی اور غیر سامی ادیان میں زبردست مہارت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تصنیفات وتالیفات میں عیسائیت ، یہودیت، پارسی، ہندو ، بودھ ، سکھ ، جین اور چینی مذاہب و تہذیبوں کا نہایت باوثوق انداز میں تعارف کرایا ہے۔ لہذا آ ج ضرورت اس بات کی ہے کہ قاضی صاحب کے اس طرز کو اختیار کیا جائے اور تقابل ادیان پر کام کرتے ہوئے معتدل رویہ اختیار کیا جائے۔ اسلام میں دیگر مذاہب کے ساتھ گفتگو کرنے اور دیگر تہذیبوں کے ساتھ معاشرت اختیار کرنے کے سلسلہ میں بہت ہی متوازن تعلیمات ملتی ہیں۔ اب ان تعلیمات کو آ گے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اسلام کا تبلیغی حق ادا ہوسکے۔ قاضی سلیمان منصور پوری نے تقابل ادیان پر جو کام کیا ہے اس کا پیغام یہی ہے کہ ہم تفاہم ومکالمہ اور تقابل ادیان کی روایت کو فروغ دیں لیکن اس دوران جارحانہ طرز سے بچنا ہوگا نیز تحقیقی اور علمی نکتہ نظر سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
[email protected]
***

تقابل ادیان پر کام کرتے ہوئے معتدل رویہ اختیار کیا جائے۔ اسلام میں دیگر مذاہب کے ساتھ گفتگو کرنے اور دیگر تہذیبوں کے ساتھ معاشرت اختیار کرنے کے سلسلہ میں بہت ہی متوازن تعلیمات ملتی ہیں۔ اب ان تعلیمات کو
آ گے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اسلام کا تبلیغی حق ادا ہو سکے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 24 جنوری تا 30 جنوری 2021