عازمینِ عُمرہ: آزمائش سے دوچار

کورونا وائرس کے پھیلاو کا اندیشہ، مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے سفر پر روک

خدیجہ بیگم

جب کبھی مستقبل کے سنہرے خواب دیکھنے بیٹھ جاتی ہوں تو وقت کا پتہ چلتا ہے نہ حدود و اسباب کا۔ خوابوں و تمناؤں کے آسمان کا سب سے چمکتا خواب جو ہر مؤمن و مسلم بندے کا ہوتا ہے وہ حج و عمرے کی سعادت ہے، حرمین الشریفین کی زیارت ہے۔ دل سے نکلی ہوئی دعا کب شرفِ قبولیت سے سرفراز ہوئی پتا ہی نہیں چلا، خدائے واحد کے بنائے گئے اسباب و راستے خود بخود کھلتے چلے گئے۔ دل ایمانی حرارات سے تازہ ہوتا جا رہا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وقت کی رفتار میں کمی ہوتی جارہی ہے۔ وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا، دل تقویٰ سے لبریز ہوتا جا رہا تھا۔ اللہ اللہ کر کے وہ صبح آہی گئی جب ہم زادِ سفر اور اہل و عیال و احباب و رفقا کی دعاؤں کے ساتھ ائیر پورٹ روانہ ہو گئے۔ ائیر پورٹ پر حاجیوں کے قافلوں کو دیکھ کر دل شکر گزاری کے جذبات سے معمور ہوتا جا رہا تھا۔ زبان ذکرِ الٰہی سے تر اور آنکھیں چھلکنے کے لیے تیار تھیں۔ ایسی ہی کیفیت کے ساتھ جب ائیرپورٹ میں داخلہ ہوا تو اچانک یہ خبر وارد ہوئی کہ سعودی حکومت نے ’کورونا وائرس‘ کے پھیلاؤ کے اندیشہ کے تحت مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے سفر پر روک لگا دی ہے۔ اس خبر کا سننا تھا کہ بے یقینی کی سی کیفیت طاری ہوگئی، دل یہ ماننے کو تیار نہیں تھا وہ تو شدت سے اس بات کی خواہش کر رہا تھا کہ کوئی اس خبر کی تردید کر دے۔ لیکن حقیقت تو حقیقت ہوتی ہے۔ وما تشآءُون الآ ان یشآءَ اللہ رب العالمين: اور تمہارے چاہنے سےکچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے‘‘۔ ایک مایوسی کی لہر تھی جو تمام عازمین عمرہ کے چہروں پر نظر آرہی تھی۔
دریں اثنا مجھے میری سہیلی توفیق کا خیال آیا جو آج ہی عمرہ کے لیے جارہی تھی۔ فوراً میں نے اپنی سہیلی توفیق کو مسیج کیا اور کیفیت معلوم کی۔ توفیق نے اس بات کی تصدیق کی۔ یہ سنتے ہی میں نے سوچا کہ ایسے کیسے ہوسکتا ہے اچانک حکومت عمرے پر کیسے امتناع عائد کرسکتی ہے؟ اسے قبل از وقت یہ اطلاع دینی چاہیے تھی۔ توفیق نے کہا! نہیں بہن! ایسا نہ کہو۔ یہ تو اللہ پر توکل اور اپنی تقدیر پر راضی ہونے کا موقع ہے اس لیے مجھے کوئی افسوس نہیں۔ وہ جو بھی کرتا ہے حکمت کے تحت کرتا ہے۔ ہماری عقلیں اس کی حکمتوں اور فیصلوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آزمائشیں ہمارے درجات کو بلند کرنے اور ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے آتی ہیں۔ یہ تو معمولی بات ہے۔ مجھے تو نبی کے جانثاروں کا وہ قافلہ یاد آ رہا ہے جو عمرے کی نیت سے حدیبیہ کے مقام پر پہنچا تھا لیکن ان کو وہاں سے عمرہ کیے بغیر ہی واپس ہونا پڑا۔ تو سوچو کہ ان کے دلوں کی کیفیت کیا رہی ہوگی؟
محترم قارئین! زندگی میں حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، یہاں ہر طرح کے حالات سے ہمیں دوچار ہونا پڑتا ہے۔ مسلمان تو وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات کو اللہ رب العزت کے حوالے کر کے مطمئن ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے ہر فیصلے کو خوشی خوشی قبول کرلیتا ہے۔ بظاہر وہ کتنا ہی نقصاندہ و تکلیف دہ کیوں نہ معلوم ہو۔ اسی کو تقدیر پر ایمان لانا کہتے ہیں۔ تقدیر پر ایمان سے آدمی کی فکر و نظر میں بڑی وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور اسے بے پناہ طاقت حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ قانع و مستغنی ہو جاتا ہے۔ خدا پر بھروسہ اس کے اندر عزم و حوصلہ کی وہ قوت پیدا کر دیتا ہے جس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا! خدا کو قوی مؤمن کمزور مؤمن سے زیادہ پیارا ہے اور ہر ایک میں خیر ہے، جو چیز تمہیں نفع دے اس کی حرص کرو اور اللہ سے مدد چاہو اور ہمت نہ ہارو، اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو (یوں) مت کہو کہ اگر میں ایسا کرتا تو یوں ہو جاتا لیکن (یہ بات) کہو کہ اللہ نے مقدر فرمایا۔ جو اس نے چاہا وہ کر ڈالا۔ اس لیے کہ اگر کا لفظ شیطان کے عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ (مسلم)
اس حدیث میں قوی مؤمن سے مراد ایسا مردِ مؤمن ہے جو ہمت و عزم کے اعتبار سے پختہ ہو اور اس کے برعکس کمزور مؤمن سے مراد ایسا مسلمان ہے جو ذرا سی مشکل و ناکامی پر ہمت ہار بیٹھتا ہے۔
قارئین کرام! لا تحزن ان اللہ معنا۔ مایوس مت ہو، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ دل شکستہ نہ ہو، زندگی کی ڈوبتی ہوئی نیّا کو دیکھ کر اور نہ ہی ملک عزیز کے دن بہ دن بگڑتے حالات کو دیکھ کر۔ روشن صبح ہمیشہ کالی رات کے اندھیروں کے بعد ہی نمودار ہوتی ہے۔ سرفرازی و سربلندی ناکامیوں کی راہ طے کرنے کے بعد ہی ہمارا مقدر ہوتی ہے۔
کبھی مایوس مت ہونا
امیدوں کے سمندر میں
طلاطم آتے رہتے ہیں،
سفینے ڈوبتے بھی ہیں
سفر لیکن رکتا نہیں
مسافر ٹوٹ جاتے ہیں
مگر ملاح تھکتا نہیں
سفر طے ہو کے رہتا ہے

**