ششی تھرور کی سربراہی والی پارلیمانی کمیٹی نے جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی معطلی کو اپنے ایجنڈے سے خارج کردیا

نئی دہلی، اگست 29: پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق جمعہ کو انفارمیشن ٹکنالوجی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے جموں و کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کا معاملہ اپنے ایجنڈے سے خارج کردیا۔

جمعہ کے روز لوک سبھا سکریٹریٹ کے جاری کردہ تازہ ترین ایجنڈے کے مطابق کانگریس کے رہنما ششی تھرور کی سربراہی والی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی اب صرف دہلی اور بہار میں ٹیلی مواصلات اور انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے بارے میں بات کرے گی۔ یہ بحث یکم ستمبر کو ہوگی۔

تاہم، فیس بک کو جاری کیا گیا سمن اب بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ فیس بک کے نمائندوں کو 2 ستمبر کو پینل کے سامنے جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بی جے پی تھرور کے زیر قیادت پینل کے ذریعے جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ پابندیوں کو ایجنڈے میں رکھنے پر ناراض تھی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشیکانت دوبے نے لوک سبھا اسپیکر اوم بریلا کو ایک خط لکھ کر تھرور کو پینل کے چیئرپرسن کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست کی تھی۔ دوبے کے مطابق اس معاملے پر بات نہیں کی جاسکتی ہے کیوں کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

25 اگست کو برلا نے تمام پارلیمانی کمیٹیوں کے چیئرپرسن سے کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اجلاسوں کے انعقاد کے دوران قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ کنونشن کے مطابق کمیٹیاں ان معاملات کو اٹھانے سے گریز کرتی ہیں جو عدالتوں میں زیر سماعت ہوں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات بند کردی گئی تھیں، جب مرکز نے ہندوستانی آئین کی دفعہ 370 کے تحت سابق ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا۔ 2 جی انٹرنیٹ خدمات گذشتہ سال کے آخر میں دوبارہ شروع کی گئیں لیکن تیز رفتار انٹرنیٹ کی خدمات پر اب بھی پابندی برقرار ہے۔