زکوٰۃ کے بنیادی مقاصد اور اجتماعی نظام

محمد ہاشم قادری مصباحی

زکوٰۃ کے معنیٰ تزکیہ، پاکیزگی، صفائی، افزائش، نشو ونما اور فلاح کے ہیں۔ اسلام کے ارکان اربعہ میں سے ایک رکن زکوٰۃ بھی ہے جس کے قرآن وحدیث نے تفصیل سے احکام بیان کیے ہیں۔ زکوٰۃ کے داخلی اسرار واحکام کے بارے میں آئمہ اسلام نے مستقل کتابیں اور ابواب تحریر کی ہیں۔ امام غزالی نے اپنی تصنیف احیاء العلوم اور کیمیائے سعادت میں بڑی نفیس گفتگو فرمائی ہے تفصیل کے لیے ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
انسان کے پاس کچھ چیزیں ایسی آ جاتی ہیں کہ اس کا اخرت میں اگر محاسبہ ہو تو آدمی ہلاک ہو جائے۔ اللہ تعالٰی کا اُمت مسلمہ پر خاص فضل واحسان ہے کہ ڈھائی فیصد مال نکال دینے سے وہ انہیں تباہیوں سے محفوظ فرما دیتا ہے اور مال پاکیزہ کرکے ذخیرہ آخرت بنا دیتا ہے۔ اس میں معاشرے کا بھی تزکیہ ہے کہ اُمراء کی دولت جب غریبوں کے پاس جائے گی تو وہ ہاتھ پھیلانے سے اور دوسروں کی محتاجی سے محفوظ ہو جائیں گے۔ خیال رہے کہ معاشرے میں محتاجی ہی ساری برائیوں کی جڑ ہے کہ اسی سے اخلاقی بد حالی، معاشرتی تباہی، اخلاقی گراوٹ، تہذیبی پسماندگی، علمی افلاس اور جرائم وجود میں آتے ہیں۔ مولائے کریم نے اپنے مومن بندوں کی ان تمام خرابیوں سے حفاظت کا کتنا شاندار انتظام فرما دیا ہے کہ اگر یہ نہ ہوتا تو کمزور ایمان والے غریب مسلمان بھوک وافلاس کے خوف سے برائیوں میں ملوث ہوجاتے اور مسکین لیکن غیرت مند مسلمان گھٹ گھٹ کر مر جاتے اور پیسے والے مسلمانوں میں شاید ہی کوئی اس صورت حال کو دیکھ کر تڑپ اٹھتا اور ان غریب مسلمانوں کی مدد کے لیے آگے بڑھتا چنانچہ اس نعمت پر ہم اپنے پروردگار کا جتنا بھی شکر بجا لائیں کم ہے۔ آج بھی اگر سارے صاحبانِ نصاب زکواۃ نکال دیں تو کوئی مسلمان بھوکا پیاسا، ننگا یا جاہل نظر نہ آئے گا۔ اس سے اُمراء کی معاشرتی اصلاح ہوتی ہے کہ زکوٰۃ کے لیے جب رقمیں نکلتی رہیں گی تو افراطِ زر کی مصیبت درپیش نہ ہوگی بلکہ خدا کی دی ہوئی نعمت (دولت) اُس کے بندوں میں گردش کرتی رہے گی۔ اس میں بہت سے فوائد اور حکمتیں ہیں، کاش مسلمان اسے سمجھ لیں۔
حقیقی اور بنیادی مقصد تزکیہ نفس
(اَلَّیل ۱۸ ۔ ۱۷) ترجمہ: اس جہنم سے دور رکھا جائے گا وہ شخص جو اللہ سے بہت ڈرنے والا ہے، جو اپنا مال دوسروں کو دیتا ہے، پاک ہونے کے لیے۔ دوسری جگہ ارشاد باری ہے (التوبہ) ترجمہ: اِن کے مالوں میں سے صدقہ لے لو، جس کے ذریعہ انہیں پاک کرو اور ان کو دُعا دو، بلا شبہ آپ کی دُعا ان کے لیے باعثِ اطمینان ہوگی اور اللہ سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔حدیث پاک میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ جو مال اِنسان صدقات وخیرات کی مَدوں میں اللہ کی راہ میں دوسروں پر خرچ کرتا ہے وہی مال دراصل اس کا مال ہے اور جو مال وہ چھوڑ جاتا ہے وہ اس کے وارث کا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ترجمہ: تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔ لَا تَوْ کِیْ فَسْیُوْکِیْ (متفق علیہ) تو ذخیرہ کر کے نہ رکھا کر تجھ پر وہ مُنجمد کر دیا جائے گا یعنی اگرتم خرچ کروگی تو اللہ دیتا رہے گا۔
زکواۃ مالی عبادت ہے
جب ایک صاحبِ نصاب مسلمان اپنے مال کی زکوٰۃ نکالتا ہے تو اس کے مال کے ساتھ اس کا دل بھی پاک وصاف ہو جاتا ہے اور مال میں خیر وبرکت آ جاتی ہے۔ زکوٰۃ بندے کا تعلق خدا سے جوڑتی ہے۔ زکوٰۃ کو حکومت کے ٹیکس کی طرح نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ پوری خوش دلی کے ساتھ اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اس حقیقت کی جانب اس طرح متوجہ فرماتا ہے۔ ’’تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے‘‘۔(سورہ آلِ عمران، آیت نمبر ۹۲: )
زکوٰۃ کی اہمیت کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت کیا ہوگا کہ یہ اسلام کے اُن پانچ ستونوں میں سے ایک ہے جس پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے۔ قرآن کریم میں جس کثرت اور توارد کے ساتھ نماز اور زکوٰۃ کا ساتھ ساتھ ذکر ہے کسی اور کا حکم اتنا نہیں ملتا۔ دل کو دہلا دینے والے عذاب کا ذکر بھی ہے۔ سورہ بقر ہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے’’ اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو ‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ زکواۃ کا مال جس مال میں ملا ہوگا اُسے تباہ برباد کر دے گا‘‘۔ ایک اور حدیث میں ہے: ’’خشکی و تری میں جو مال تلف ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے سے ہی تلف ہوتا ہے‘‘۔
زکوۃ کا اجتماعی نظم
اسلامی زندگی میں جس طرح نماز اجتماعی طور پر ادا کی جاتی ہے اسی طرح زکوٰۃ کے لیے بھی اجتماعی نظم قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا بہتر انتظام ہو سکے، اسلام کا تمام نظام اجتماعیت کے ساتھ مطلوب وپسندیدہ ہے۔ اسی طریقہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء کا عمل بھی تھا۔ اسی چیز کی طرف قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ان کے مالوں میں سے زکوٰۃ وصول کر کے ان کو پاک وصاف کر دو۔ (سورہ توبہ آیت ۱۰۳) نماز جس طرح جماعت اور مسجد کے بغیر بھی انجام پا جاتی ہے لیکن فرضیت کے بعض مقاصد سے دور ہو جاتی ہے۔ اس طرح زکوٰۃ بھی بیت المال کی مجتمع صورت کے علاوہ بھی ادا ہو جاتی ہے مگر اس کی فرضیت کے مقاصد فوت ہو جاتے ہیں۔ یہی سبب تھا کہ حضرت ابو بکر ؓ کے عہد خلافت میں بعض قبیلوں نے یہ کہا کہ وہ زکوٰۃ بیت المال میں داخل نہ کریں گے بلکہ بطور خود اس کو صرف کریں گے۔ تو آپ نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور بزور ان کو بیت المال میں داخل کرنے پر مجبور کیا۔ آج کروڑوں صاحبِ نصاب کی موجودگی کے باوجود اجتماعی زکوٰۃ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کو انفرادی طور پر صرف کرنے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے آج مسلم معاشرے میں کوئی خیر وبرکت نہیں نظر آتی۔
زکاۃ کی ادائیگی کے مصارف
مصارف زکوٰۃ کے سلسلے میں قرآنِ حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورہ توبہ، آیت نمبر ۶۰) زکوٰۃ تو ان ہی لوگوں کے لیے ہے جو محتاج اور نرے نادار ہوں۔ جو اُسے تحصیل کر کے لائیں اور جن کے دِلوں کو اسلام سے اُلفت دی جائے اور گردنیں (مصیبت سے نجات دلانے) چھڑانے میں، قرض داروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ علم وحکمت والا ہے۔ (کنزالایمان)
عامل وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے خلیفہ اسلام کی طرف سے مقرر ہوں۔ ان کی تنخواہ زکوٰۃ سے دی جائے اگرچہ چہ وہ غنی ہوں وہ کفار جن کے ایمان کی اُمید ہو۔ یا وہ نو مسلم جن کے دلوں میں ابھی ایمان جاگزیں نہیں ہوا ہے یا وہ سخت کافر جس کے فتنے کا اندیشہ ہو۔ پہلی اور تیسری قسم خارج ہو چکی ہیں۔ دوسری صورت اب بھی مصرفِ زکوٰۃ ہے اس طرح کہ مکاتب غلام کو زکوٰۃ سے مال دو۔ مکاتب وہ غلام ہے جسے مولا نے کہہ دیا ہو کہ اتنا روپیہ دے دے تو تُو ازاد ہے۔ یعنی بے سامان غازی ہو۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ زکوٰۃ صرف ان لوگوں کو دی جائے جو اس کے مستحق ہیں۔ لہذا مسجد اور مردے کے کفن میں نہ دی جائے کہ ان کا کوئی مالک نہیں ہوتا۔ مسافر گرچہ مالدار ہو مگر سفر میں تنگ دست ہو گیا ہو تو اُسے بھی زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔
نبی ﷺ کا طریقہ اور حکم الہٰی
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صدقات تقسیم فرماتے تو بیمار دل لوگ طرح طرح کے اعتراضات کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے صدقات کے مستحقوں کا ذکر فرما کر معترضین کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا کہ مبادا کسی وقت کوئی مسلمان اس مَد کی آمدنی کو بے جا صرف نہ کرنے لگے۔ نیز زکوٰۃ شریعت اسلامیہ کا ایک اہم ترین (چوتھا) رُکن ہے اس لیے بھی اس کو وضاحت سے بیان کرنا ضروری تھا۔ زکوٰۃ کے یہ آٹھ (۸) مصارف سورہ توبہ کی مذکورہ آیت ترجمہ میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ فِیْ سَبِیلِ اللّٰہ یہ ایک جامع اصطلاح ہے جہاد سے لے کر دعوتِ دین اور تعلیم دین کے سارے کام ’’فی سبیل للہ‘‘ کے حکم میں داخل ہیں ائمہ سلف کی بڑی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ یہاں فی سبیل اللہ سے مُراد جہاد فی سبیل اللہ ہے اور اس کا اِطلاق اُن تمام کوششوں پر ہوتا ہے جو کلمتہ اللہ کو بلند کرنے اور اللہ کے دین کو غالب آنے کے لیے کی جائیں خواہ وہ دعوت و تبلیغ کے لیے یا اشاعت دین اسلام کے لیے کی جائیں۔ علامہ یوسف القرضاوی نے فی سبیل للہ کے ضمن میں لکھا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی فی سبیل للہ سے جو اولین دور کی اہم ترین چیز مُراد لی جائے گی وہ ہے صحیح اسلامی زندگی کا احیا جو اسلام کے تمام احکام وعقائد، تصورات شعار، شرعی قوانین اور اخلاق و اداب روبکار لانے کے لیے ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کو زکوٰۃ کے مسائل صحیح طرح سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق رفیق عطاء فرمائے۔ آمین ثمہ آمین۔
(مضمون نگار مسجد ھاجرہ رضویہ، جمشید پور جھارکھنڈ کے امام وخطیب ہیں)

زکوٰۃ کی اہمیت کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت کیا ہوگا کہ یہ اسلام کے اُن پانچ ستونوں میں سے ایک ہے جس پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے۔ قرآن کریم میں جس کثرت اور توارد کے ساتھ نماز اور زکوٰۃ کا ساتھ ساتھ ذکر ہے کسی اور کا حکم اتنا نہیں ملتا۔ دل کو دہلا دینے والے عذاب کا ذکر بھی ہے۔