دلّی جلی یا جلائی گئی ہے؟

مخالف سی اے اے عوامی تحریک کو کچلنے کی سازش!

ابھے کمار، دلی

ملک کا دل اور قومی دار الحکومت دلّی سے کشیدگی ابھی بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ دلّی کو فرقہ وارانہ تشدد کی آگ نے بڑے پیمانے پر جان و مال کا نقصان پہنچایا ہے۔ اب تک ۴۰سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ بہت سارے لوگ اپنے گھروں سے بے گھر اور اپنے روز گارسے محروم ہو چکے ہیں۔ لوگ ڈر اور خوف کی وجہ سے دلّی سے ہجرت بھی کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ملک اور جمہوریت پر گہری چوٹ ہے۔ ملک کی عوام میں پائی جانے والی عدم تحفظ کی کیفیت جمہوریت کے لیے بے حد مضر ہے۔ تشدد سے ترقی بھی متاثر ہوتی ہے اور ملک بین الاقوامی سطح پر بدنام بھی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہو سکتی تھی کہ جس وقت ملک امریکی صدر کی میزبانی کررہا تھا تب دلّی جل رہی تھی؟
فرقہ وارانہ تشدد دوبارہ رونما نہ ہو پائے اس کے لیے ضروری ہے کہ قصور واروں کی شناخت کی جائے اور انہیں سخت سزا دی جائے۔ مگرحقیقت میں ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ قومی میڈیا کا ایک بڑا حصہ بر سرِ اقتدار جماعت کے موقف کو اپنے پلیٹ فارم سے تقویت پہنچا رہا ہے اور اصل سوالوں کو دبا رہا ہے۔ ایک بار پھر بلوائیوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غیر جانبدارانہ تفتیش کے بجائے اس بار بھی پورے مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔ قصور واروں کی نشاندہی کرنے کے بجائے ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سرکار، پولیس اور انتظامیہ سے ذمہ داری طلب کرنے سے زیادہ اقلیتی طبقے کے بعض لوگوں کو ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ بناکر پیش کرتے ہوئے اس معاملے کو ڈھانکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں اس بیانیے کو آگے بڑھا یا جا رہا ہے کہ کہ دلّی تشدد دو گروہوں کے درمیاں تصادم تھا۔ مگر اصل حقیقت پر بات نہیں ہو رہی ہے کہ پر امن طریقے سے مظاہرے کرنے والوں پر حملہ ایک سازش کا حصہ تھا۔ سی اے اے کے خلاف مظاہروں سے سرکار پریشان تھی اور وہ اسے کچلنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک وقت کے بعد اسے یہ محسوس ہونے لگا کہ جب تک سی اے اے مخالف مظاہروں کو نظم و ضبط کے لیے خطرہ بنا کر پیش نہیں کیا جاتا تب تک عوام ان سے دور نہیں ہوں گی۔
اس بیانیہ کو پَر لگانے میں قومی میڈیا اور سوشل میڈیا کا بڑا رول رہا ہے۔ ایک طرفہ حملے کو سی اے اے مخالف اور سی اے اے حمایتی فرقے کے درمیان لڑائی بتلا کر پیش کیا گیا۔ در اصل یہ لڑائی سی اے اے حمایتی اور مخالف لوگوں کے درمیان ہے ہی نہیں۔ سی اے اے کی مخالفت میں مظاہرے کئی مہینوں سے چل رہے ہیں جو پوری طرح سے پر امن رہے ہیں۔ کسی بھی موقع پر مظاہرین نے عام لوگوں کو پریشان کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اگرچہ ان کے بعض مظاہرے سڑکوں پر چل رہے ہیں مگر اس سے عوام کی آمد و رفت بالکل بھی بند نہیں ہوئی تھی۔ دلّی انتخابات کے دوران بھی ان دھرنوں سے کسی کو کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ جب انتخابات سے ایک روز قبل انتخابی تشہیر بند کر دی گئی تھی تب مظاہرین نے بھی اپنے لاوڈ اسپیکرز بند رکھے تھے۔
مثال کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہر وقت رضاکار سڑکوں پر مسافروں کو آنے جانے میں مدد کرتے رہے ہیں اور وہ اس بات کا بھی پورا خیال رکھ رہے ہیں کہ آس پاس گندگی نہ پھیلے۔ وہ خود سڑکوں کی صفائی کرتے رہے ہیں۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان مظاہروں سے لوگوں کو دشواریاں ہوئی ہیں وہ یا تو ان مظاہروں کو قریب سے نہیں جانتے یا پھر جان بوجھ کر غلط بیانی کر رہے ہیں۔ پُرامن مظاہرے کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ شاہین باغ دھرنے کے پاس لائبریری چلتی ہے، جہاں لوگ بیٹھ کر کتابیں پڑھتے ہیں۔ کیا کوئی یہ ثابت کر سکتا ہے کہ ان کے احتجاج سے عوامی زندگی مفلوج ہوئی ہے؟ کیا کبھی کسی بچے کو اسکول جانے اور کسی بیمار کو اسپتال جانے سے روکا گیا ہو؟ اگر شاہین با غ کے مظاہرین روڈ کے ایک حصے میں بیٹھے بھی ہیں تو اس سے لوگوں کا آنا جانا بند نہیں ہوا ہے۔ شاہین باغ میں اور بھی سڑکیں ہیں، جہاں سے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔
مگر کیا یہ حقیقت ہے کہ سی اے اے مخالف تحریک سے بہت لوگ اتفاق نہیں رکھتے ہیں؟ ہاں، بھگوا جماعتیں روز اول سے اس قانون کے حق میں رہی ہیں اور ان کے ہم خیال لوگ بھی اسے ہر حال میں نافذ ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر سی اے اے کی حمایت کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ جو لوگ اس کی مخالف میں ہیں ان کو ’’پاکستانی’’ اور دہشت گرد‘‘ کہا جائے اور ان پر حملے کیے جائیں۔ کسی کا سی اے اے حامی موقف کبھی اسے اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ اس قانون کے خلاف چلنے والی تحریک کو ختم کرنے کے لیے قانون اپنے ہاتھوں میں لے۔ جن لوگوں کو ان مظاہروں سے اتفاق نہیں ہے وہ اس کی مخالفت جمہوری طریقےسے کر سکتے ہیں۔ ملک کا آئین اور قانون کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں میں ڈنڈے اور ہتھیار لے کر مظاہرین پر ٹوٹ پڑیں۔
یہ کام سرکار کا ہے کہ وہ مظاہرین سے بات کرے اور ان کے اعتراضات کو رفع کرکے تعطل کو ختم کرے۔ یہ کام کوئی فرد یا گروپ اپنے ہاتھوں میں نہیں لے سکتا کہ وہ کسی بھی حال میں اس مظاہرے کو ختم کرے گا۔ عدالت عظمیٰ بھی شاہین باغ کے معاملے پر سنوائی کر رہی ہے اور اس کے لیے اس نے اپنے مذاکرات کار بھی بھیجے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت بھی پر امن طریقے سے جاری ان مظاہروں کو بنیادی حقوق کا جزو مانتی ہے ۔
مگر ان باتوں کی بھگوا عناصر کو کوئی پروا نہیں ہے۔ اگر ان کو پروا ہوتی تو ان کے لیڈر کپل مشرا سی اے اے مخالف مظاہرے کو ختم کرنے کے لیے سڑکوں پر نہیں اترتے اور نہ ہی قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۳ فروری کو تصادم تب شروع ہوا جب کپل مشرا ایک ہجوم کی قیادت کرتے ہوئے مصطفیٰ آباد دھرنے کے پاس جا پہنچے۔ وہاں سے دو کیلو میٹر دور موج پور بابر پور میٹرو اسٹیشن کے پاس کپل مشرا نے ۲۰۰ لوگوں پر مشتمل بھیڑ جمع کی تھی۔ اس کے بعد یہ بھیڑ ملک کے’’ غداروں‘‘ کو’’ گولی مارنے‘‘ کے نعرے دیتے ہوئے دھرنے کی طرف بڑھنے لگی۔ کپل مشرا اپنے نفرت انگیز بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ شاہین باغ اور سی اے اے حمایتی مظاہروں کے خلاف زہر افشانی کر چکے ہیں ۔تضاد دیکھیے کہ جو پولیس اقلیتی طبقے کے لوگوں کو گرفتار کرنے میں برق رفتاری دکھاتی ہے وہی پولیس فسادات کے وقت معصوموں کو بچانے اور نظم و ضبط کو بنائے رکھنے میں اس تیزی کا ایک حصہ بھی نہیں دکھاتی۔ اگر پولیس کو ذرا بھی لا اینڈ آرد کا خیال ہوتا تو وہ کپل مشرا کی ریلی کو مصطفیٰ آباد پہچنےسے پہلے ہی روک لیتی۔ پولیس کے اسی ناقص رول کی دلّی ہائی کورٹ نے سرزنش کی ہے۔
پولیس کی اسی سستی کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیاسی دباؤ میں کام کر رہی تھی جس کے نتیجہ میں حالات بگڑتے چلے گئے۔ ۲۳ فروری کے بعد سے دلّی کا ماحول بگڑنا شروع ہو گیا تھا۔ سب سے خراب حالات شمالی مشرقی دلّی کی ہے۔ موج پور، کراول نگر، سیلم پور، بابر پور، گھونڈا، مصطفیٰ آباد، گوکل پوری، جعفرآباد اور اشوک نگر فرقہ پرستوں کے خاص نشانے پر ہیں۔ بازار، دکانیں، گاڑیاں، مکانات جلائے گئے ہیں۔ مذہبی مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ معصوم لوگ ہی فرقہ وارانہ جنون کے شکار ہوئے ہیں۔
تباہی اس قدر ہوئی ہے کہ رات کے عالم میں بھی اقلیتوں اور محکوم طبقات کے دلوں میں ڈر اور خوف بیٹھا ہوا ہے۔ نظم و ضبط کی جگہ بد امنی پھیلی ہوئی ہے۔ لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور آگ زنی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ راہ چلتے لوگوں سے ان کی مذہبی شناخت پوچھ کر مارا گیا۔ ان کے مذہبی عقائد کے خلاف ان سے نعرے لگوائے گیے۔ مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی گئی۔
جب ملک کی راجدھانی شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ثابت ہو رہی ہو تو ملک کے دیگر حصوں کا حال کیا ہوگا؟ عام آدمی کے ووٹ سے بننے والی سرکار بھی عام آدمی کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اروند کیجریوال کچھ بھی ایسا نہیں کرنا چاہتے ہیں جس سے ان کا نرم ہندوتوا کا سوشل بیس کھسک جائے۔ ان کو بھی معلوم ہے کہ جو لوگ مودی کو پارلیمانی انتخابات میں ووٹ دیتے ہیں ان میں ایک بڑی تعدد اسمبلی انتخابات میں کیجریوال کو پسند کرتی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتیں جو سیکولرازم اور ہندو مسلم اتحاد کے نام پر ووٹ مانگتی رہی ہیں وہ بھی ان نازک لمحات میں خاموش رہی ہیں۔ حالانکہ بدھ کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی نے امت شاہ کا استعفیٰ کا مانگا تھا، مگر ان سے ان کے حمایتیوں کو اور بھی امیدیں تھی۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ جنہوں نے آئین کی قسمیں لے کر حکومت کی کمان سنبھالی تھی اور جن کے ہاتھوں میں پولیس اور انتظامیہ موجود ہیں، وہ بھی اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ رہے ہیں۔ وزیر داخلہ کے ناک کے نیچے دلّی کئی دنوں سے جلتی رہی مگر ان کا کوئی رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔
اب بڑا سوال یہی ہے کہ جلتی ہوئی دلّی کے لیے ذمہ دار کون ہے؟ یہ تو واضح ہو چکا ہے کہ سیکولر طاقتیں معصوموں کو بچانے میں اتنی ایماندار نہیں ہیں جتنی ان سے توقع کی جا تی ہے۔ لوگوں کا یہ سوال غلط نہیں ہے کہ جن علاقوں میں بے قصوروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہاں سیکولر جماعتیں کیوں کیمپ نہیں کر رہی ہیں؟ ہندوستانی سیاست کا رنگ ایسا بدل گیا ہے کہ فرقہ پرستی کے خلاف سیکولر پارٹیاں آنے سے پہلے سو بار سوچتی ہیں کیونکہ ان کو اس بات کا ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کی شبیہ اکثریت طبقے میں خراب نہ ہو جائے۔ کیا یہی وجہ تو نہیں ہے کہ سیکولر لیڈر متعلقہ علاقوں میں جانے کے بجائے راج گھاٹ سے امن کی اپیل کر رہے ہیں؟
مگر دلّی کے بگڑتے حالات کی ’’کرونولوجی‘‘ کو سامنے رکھا جائے تو اس میں شک کی زیادہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ یہ سب کچھ اچانک سے پھوٹ پڑا ہے، بلکہ اس سب کے پیچھے ایک بڑی سازش رچی گئی تھی۔ عوامی تحریک سے شکست خوردہ بھگوا جماعتوں کے پاس دو ہی راستے تھے۔ پہلا یہ کہ وہ مذہبی امتیاز پر مبنی سی اے اے کو واپس لیتے یا اس میں ترمیم کرتے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ تشدد کی کلہاڑی سے عوامی تحریک کو کاٹ کر ختم کر دیا جائے۔ بھگوا طاقتوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے جو زور زبردستی، ہجومی تشدد اور لا قانونیت والا راستہ ہے۔ ایسا ہی کچھ انہوں نے جے این یو میں بھی کیا تھا جب فیس میں اضافے کے خلاف پر امن طریقے سے مظاہرے کرنے والے طلبہ پر حملہ کروایا گیا تھا۔ پولیس تب بھی خاموش تھی اور آج بھی خاموش ہے۔
اسی سازش کے تحت بھگوا عناصر مسلسل شاہین باغ کو ’’دہشت کردی‘‘ سے جوڑنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس سازش کے تحت مسلمانوں کے خلاف جھوٹ اور نفرت پھیلائی جارہی تھی۔ مسلمانوں کو ملک اور اکثریتی ہندو فرقے کا دشمن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ملک کے تئیں اُن کی محبت اور وفاداری پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ ان کے خلاف ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا بے بنیاد الزام عائد کیا جا رہا ہے اور ان کی ذہنیت کو ’’جہادی‘‘ کہہ کر گالی دی جا رہی تھی۔ آر ایس ایس کے ترجمان میگزینس کے حالیہ کچھ شمارے ان پروپیگنڈوں اور نفرت انگیز مواد سے بھرے پڑے ہیں۔
اشتعال انگیز بیانات اوپر سے لے کر نیچے تک کے بھگوا لیڈران نے ہی دیے ہیں۔ سیاسی طور پر ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دلّی اسمبلی انتخابات کے دوران یہ کہا تھا کہ جن لوگوں نے کشمیر کے دہشت گردوں کی حمایت کی تھی وہی لوگ شاہین باغ میں بھی مظاہرے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اسی دوران مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے یہ نعرہ دیا کہ دیش کے’’غداروں‘‘ کو’’ گولی‘‘ مارنا چاہیے اور رائے دہندگان سے اس بات پر ووٹ مانگا تھا کہ اگر بی جے پی دلّی میں سرکار بنا لیتی ہے تو وہ شاہین باغ کے مظاہرے کو صاف کر دے گی۔ خود وزیر داخلہ امت شاہ نے بابر پور کے ووٹروں سے کہا تھا کہ بی جے پی کو اگر وہ ووٹ دیتے ہیں تو اس سے دلّی اور ملک محفوظ ہو جائیں گے اور شاہین باغ جیسے مظاہرے کو روک دیا جائےگا۔ وہیں جواہر لال نہرو اسٹیڈیم کی ایک دوسری ریلی سے شاہ نے ووٹروں سے بی جے پی کو ووٹ ڈالنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ ای وی ایم مشین کو اس تیزی سے دبائیں کہ اس کا کرنٹ شاہین باغ تک پہنچے۔ کیرالا کے گورنر عارف محمد خان نے اپنے آئینی منصب کو طاق پر رکھتے ہوئے شاہین باغ مظاہرے کا خوف کھڑا کیا تھا۔
جب اوپر کے قائدین اشتعال انگیز بیانات دینے لگیں تو ذیلی سطح پر متحرک کارکنان اس کی نقل کرنے لگتے ہیں اور بعض اوقات وہ ساری حدیں پار کر جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ شر پسندی اور بد نظمی کے لیے ماحول تیار ہونے لگتا ہے۔ بی جے پی لیڈر کپل مشرا کی اشتعال انگیزی کو اسی سیاق میں دیکھنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں دلّی جل رہی ہے۔
کپل مشرا نے جسے دلّی الیکشن میں عوام نے مسترد کر دیا تھا، بر سرِ عام پولیس کی موجودگی میں سی اے اے مخالفت مظاہروں کو جبراً خالی کرانے کی بات کہی تھی۔ اس انتباہ کے دو دن بعد اس کا ایک اور ٹوئٹ سامنے آیا جس میں اس نے دعوی کیا کہ ’’جعفر آبادخالی ہو چکا ہے۔ دلّی میں دوسرا شاہین باغ نہیں بنے گا‘‘۔ اس سے قبل بھی وہ دلّی اسمبلی انتخابات کو ہندوستان اور پاکستان کا میچ کہہ چکا ہے جس کا سخت نوٹ لے کر الیکشن کمیشن نے تادیبی کارروائی کے تحت ۴۸ گھنٹوں کے لیے انتخابی تشہیر پر پابندی لگائی تھی۔ لیکن پولیس نے کپل مشرا کو روکنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ قیاس یہ بھی ہے کہ شاید پولیس کپل مشرا کی مدد کرتی رہی ہے۔ جسٹس مرلی دھرن کی قیادت میں دلّی ہائی کورٹ کی دو ارکان پرمشتمل بینچ نے بھی پولیس کے رول پر سوال اٹھایا اور کہا کہ بی جے پی لیڈران کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کی نفرت انگیز تقاریر کی جانچ کرے۔ کورٹ نے پولیس کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ شہر تباہ ہو ر ہا ہے۔ آپ لوگ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟ کب آپ کاروائی کریں گے؟ دلّی ایل جی کو لکھے ایک خط میں دلّی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا ہے کہ کپل مشرا ایک بھیڑ کے ساتھ پر امن مظاہرین پر حملے بول رہا ہے۔ اب ان ہی کی پارٹی کے لیڈر اور مشرقی دلّی سے ایم پی گوتم گمبھیر نے کپل مشرا کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بے حد افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت اپنا آئینی فرض ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور دلّی میں نظم و ضبط بنائے رکھنے کے بجائے بلوائیوں کی پردے کے پیچھے سے مدد کر رہی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پولیس بلوائیوں کے خلاف اب تک کوئی مؤثر کارروائی ضرورت کی ہوتی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو جسٹس مرلی دھر کا تبادلہ رات کے اندھرے میں کیوں کر دیا جاتا، جنہوں نے چند گھنٹے قبل ہی پولیس کو فسادیوں پر کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا؟
جن لوگوں کہ لگتا ہے کہ دلّی جلا دینے سے لوگ ان کی بات قبول کر لیں گے وہ غلط فہمی میں ہیں۔ سیاسی سوالوں کا حل سیاسی ہی ہوتا ہے۔ زور زبردستی اور ظلم سے نقصان سب کا ہوتا ہے اور فائدہ کسی کا نہیں ہوتا ہے۔ ایک بار پھر یاد دلانا چاہوں گا کہ یہ سرکار کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون توڑنے والوں کے خلاف سختی سے پیش آئے۔ جب فساد چند گھنٹوں میں نہ تھم جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کے اشارے پر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ان کی باتوں کو سنے جو ان سے اتقاق نہیں رکھتے اور شہریت ترمیمی قانون کے اعتراضات کو دور کرنے کے لیےاسے اگے آنا چاہیے۔ مظاہرین پر ہو نے والے حملوں پر وہ خاموشی اختیار کر کے ملک اور جمہوریت کا بڑا نقصان کر رہی ہے۔
(مضمون نگار جے اين يو ميں شعبہ تاريخ کے ريسرچ اسکالر ہيں۔)
[email protected]