دلتوں کی اپنی علیحدہ شناخت کی لڑائی کیا ہے

’’ہم ہندو کیوں نہیں ہیں اور ہندوستانی سماج میںہمارا اصل مقام کیا ہے ‘‘: کانچا ایلیّاء

آسیہ تنویر، حیدرآباد

 

جہاں ہندوستان بھر کے الگ الگ مقامات پر مختلف قبائل اپنی الگ انفرادیت رکھتے ہیں وہیں وہ اپنی شناخت بھی مقامی تناظر میں قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں انسانی تفریق کی ابتدا کب سے ہوئی اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا شاید ہی ممکن ہو لیکن کچھ مؤرخین کے مطابق سماج میں طبقاتی درجہ بندی اور عدم مساوات کے خلاف سب سے پہلے احتجاج گوتم بدھ نے کیا تھا۔ اب یہ طبقاتی درجہ بندی کی ہندوستانی معاشرہ میں شروعات کس نے کی اس بات کا خلاصہ ہونے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اکھنڈ بھارت کے مول نواسی یعنی اصلی باشندے کون ہیں۔ اس ضمن میں مشہور مؤرخ ٹونی جوزف لکھتے ہیں کہ بھارت میں سب سے پہلے یعنی چھ ہزار سال قبل افریقی قبائل ہندوستان آئے اور جنگلات میں رہتے ہوئے آدی واسی طرز زندگی گزارنے لگے۔ یہی بھارت کے مول نواسی کہلاتے ہیں۔ اس کے بعد تین ہزار سال قبل آریائی نسل کے لوگ ہندوستان آئے جو بعد میں برہمن کہلائے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق یہ لوگ اپنے ساتھ اپنی عورتوں کو نہیں لائے تھے اسی لیے وہ اپنی عورتوں کو برہمن نہیں بلکہ شودر مانتے ہیں۔ یہی برہمن، سماج میں خود کو اعلیٰ، مقتدر اور مقدس مانتے ہیں۔ انہوں نے ہی مول نواسیوں کو ورن ویوستھا (ذات پات) میں جیسے چھتریہ، ویشیا، شودر، اتی شودر کئی ذاتوں میں تقسیم کر دیا۔ اتی شودر میں اور مزید شیڈول کاسٹ (درجہ فہرست ذاتیں) اور شیڈول ٹرائب (درجہ فہرست قبائل) ملازم پیشہ قبائل اور خانہ بدوش قبائل وغیرہ میں تقسیم در تقسیم کرتے ہوئے سماج کو کوئی چھ ہزار سے زائد طبقوں یا ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی شودر زمرے میں رکھ کر ان کو بھی سماج میں مساوایانہ حقوق سے محروم کر دیا۔ محتاط اندازے کے مطابق بھارت میں ’’مول نواسی‘‘ کل آبادی کا ستر فیصد ہیں اسی لیے وہ خود کو ’’بہو جن‘‘ کہلانا پسند کرتے ہیں۔ بہو یعنی بہت اور جن یعنی آبادی، مطلب ہے آبادی کا ایک وسیع حصہ ہیں۔ آزادی سے پہلے اور اس کے بعد ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ان کے حقوق کے لیے موثر آواز اٹھائی اور آزاد ہندوستان میں آئین کی تدوین کرتے ہوئے تمام شہریوں کو دلت کا نام دے کر دستور ہند میں ان کے مساویانہ حقوق کا بے حد خیال رکھا۔ اس کے باوجود جدید معاشرے میں سماجی اور طبقاتی تفرق میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس اس طبقے کو ہندو سماج کا حصہ ظاہر کرتے ہوئے انہیں اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
سرنا دھرم کوڈ کیا ہے؟
آزادی کے بعد 1951میں جب آزاد ہندوستان میں پہلی بار مردم شماری ہوئی تھی تو آدیواسیوں کے لئے مذہب کے کالم میں نویں نمبر پر ’’ٹرائب‘‘ یعنی قبائل کا خانہ بھی دستیاب تھا جس کو بعد میں ختم کر دیا گیا۔ اس کے پہلے جتنی بار بھی مردم شماری ہوئی تھی آدیواسیوں کے لئے یہ اختیار موجود تھا۔ ان کا الزام ہے کہ اس کو ہٹانے کی وجہ سے آدیواسیوں کی گنتی الگ الگ مذہبوں میں بٹتی گئی جس کی وجہ سے ان کی کمیونٹی کو کافی نقصان ہوا ہے اور ابھی ہو رہا ہے۔
دلت ملک بھر میں آدیواسی گونڈی، کویا پونیم، آدی دھرم، سرنا جیسے الگ الگ مذہبی طریقوں کو مانتے آ رہے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کسی کو ان کی اصل مذہبی شناخت نہیں ملی ہے۔ ان سب کا الگ الگ مطالبہ ہے کہ حکومت این پی آر کے ساتویں کالم میں ایک الگ مذہب کوڈ کا آپشن دے اور اس خانے کا نام ٹرائبل یعنی قبائلی مذہب ہونا چاہیے تاکہ آدیواسیوں کی پہچان بچی رہے۔ چونکہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ان کی روایات، پیشے اور اوصاف وطریقہائے زندگی الگ الگ ہیں تو مختلف علاقوں میں ان کی شناخت ک مطالبہ بھی الگ الگ ہے۔ اور ان تمام کا ایک ہی شناخت پر جمع ہو جانا تقریباً ناممکن ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ’’سرنا دھرم کوڈ‘‘ کی اصطلاح آر ایس ایس کی جانب سے ہی دی گئی تاکہ ان کے درمیان بھی ایک نظریاتی اختلاف برقرار رہے اور وہ انہیں متواتر اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے رہیں۔ اسی لیے کئی دلت قائدین کا اصرار مردم شماری میں قبائل کے خانے اور آدی واسی زمروں کے اضافے تک محدود ہے۔
اسی ضمن میں تلنگانہ کے ضلع ورنگل سے تعلق رکھنے والے تلگو اور انگریزی کے مشہور مصنف پروفیسر کانچا ایلیّا نے اپنی کتابوں میں ہندوستانی سماج میں دلتوں یا آدی واسیوں کے جائز مقام کے لیے پر زور دلائل پر مبنی تین کتابیں لکھیں جن میں نمایاں Why I am not Hindu, Post Hindu India, Buffalo Nationalism ہیں۔ ان کی کتابوں میں وہ سماجی تفریق پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ ’’ہم کیوں ہندو سماج کا زبردستی حصہ بنیں جبکہ ہماری عادتیں ہمارا طرزِ زندگی، ہماری پیشہ ورانہ مہارت، ہماری عبادتوں کے طریقے سب برہمنوں سے الگ ہیں۔ بھارت میں صدیوں سے برہمنوں نے ہم پر حکومت کرنے اور اپنی آسائشیں برقرار رکھنے کے لیے ہمارے اندر وہ تقسیم کی جس کا انہیںکوئی حق نہیں تھا۔ وہ مسلسل ہم پر دباؤ بنا کر ہماری نفسیاتی تحریف کرتے رہے اور سماج میں ایک دبے ہوئے طبقہ کے طور پر زندہ رہنے پر مجبور کرتے رہے‘‘۔ ڈاکٹر کانچا ایلیّا اپنی کتاب ’’میں ہندو کیوں نہیں ہوں‘‘ میں الگ الگ مثالیں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’میں نے اس سماجی تفریق کا بہت گہرائی سے جائزہ لے کر یہ محسوس کیا کہ میں ہندو کیوں نہیں ہوں‘‘۔ دراصل ہندو سماج میں ایک رسم ہوتی ہے جس کے مطابق جب لڑکا خاص عمر کو پہنچ جاتا ہے تب اس کو مخصوص رسم ادا کر کےہندو مذہب میں داخل کیا جاتا ہے جبکہ یہ رسم دلتوں یا آدی واسیوں قبائل میں ادا نہیں کی جاتی ہے یا انہیں اس رسم کی اجازت دی نہیں|
دی جاتی ہے۔ کانچا ایلیّا سوال کرتے ہیں کہ جب ہماری ہندو مذہب میں داخلہ کی رسم ہی ادا نہیں کی گئی تو ہم ہندو کس طرح ہوئے؟ کانچا ایلیّا برہمنوں کو روحانی فاشسٹ (Spiritual fascist) اور سوشل اسمگلرز (Social Smugglers) قرار دیتے ہوئے وضاحت کرتے ہیں کہ شمال میں مارواڑی اور جنوب میں بنیوں کی ذات ہی اس ملک کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ ایک جانب برہمن ہیں جو صرف منتر پڑھ کر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کوئی محنت کش پیشہ اختیار نہیں کرتے، بنیادی ضروریات کی پیداوار سے متعلق ان کی کوئی حصے داری نہیں ہے۔
یہ سماج میں دباؤ اور تضحیک کی سیاست پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں جبکہ انہی میں سے دوسرے دلتوں اور دوسرے مزدور پیشہ لوگوں کی محنت پر قابض ہو کر دولت بٹورتے ہیں۔ اس کے علاوہ پروفیسر کانچا ایلیّا مزید لکھتے ہیں کہ انہی دلتوں کے پاس زرعی اوزار کا علم، قدرتی وسائل کے استعمال سے متعلق علم، غذائی ضروریات اور غذائی اشیاء کے استعمال کے فوائد اور نقصانات کا علم اور ساتھ ہی ساتھ قدرتی وسائل سے طبی فوائد حاصل کرنے کا علم، کاشت کاری کے نئے نئے طریقوں کی ایجادات انہی کی دین ہے۔ اس کے علاوہ کاشت کاری کے موسم اور کاشت کاری کے لیے مناسب زمینی خواص کا علم بھی انہیں کو تھا۔ چونکہ ان آدی واسیوں نے طویل عرصے تک جنگلوں میں زندگی گزاری ہے اور اپنے تجربے و عقل سے زندگی کے لیے درکار وسائل کو قدرت سے کس طرح حاصل کیا جاتا ہے اس پر انہیں مکمّل عبور حاصل تھا انہی کے علم اور محنت سے مستفید ہو کر برہمن انہی کو مسلسل اپنی تخریب کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ پروفیسر کانچا ایلیّا دلتوں اور آدی واسیوں کے مختلف پیشہ ورانہ مہارت کا بھی ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پیشہ حجامت بھی دلتوں کی دین ہے۔ اس سے حجام نہ صرف حجامت کرتے تھے بلکہ کئی ایک جلدی بیماریوں کا اپنی عمل جراحی میں حاصل مہارت کی بنا پر علاج بھی کیا کرتے تھے۔ اسی طرح سب سے پہلے عمل جراحی کے اوزاروں کی ایجاد بھی انہی کے یہاں ہوئی۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں ’’اگر بی سی طبقہ میں دماغ نہیں ہوتا تو آج آپ کا سر گردن پر نہیں ہوتا‘‘ آدی واسیوں کے ایک اور پیشہ کی مثال دیتے ہوئے پروفیسر کانچا ایلیّا نے اپنی کتابوں میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ مالا طبقہ (مہتر پیشہ) نے ہی گھروں سے گندگی اٹھا کر شہر سے باہر لے جانے کی خدمت کرتے ہوئے جانوروں اور انسانی فضلے کی ری سیکل کا طریقہ ایجاد کیا۔ انہوں نے ہی مردوں جانوروں کی کھال اتارنے کا طریقہ نہ صرف ایجاد کیا بلکہ اس کی پروسسنگ کے ذریعے چپل اور دیگر چمڑے کی اشیا دف وغیرہ کو ایجاد کیا۔ پروفیسر کانچا ایلیّا اپنی ان کتابوں کی وجہ سے دلتوں اور آدی واسیوں کی ایک مؤثر آواز کے طور پر دنیا بھر میں مشہور
ہوئے ہیں۔
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 24 جنوری تا 30 جنوری 2021