تلگو پنڈت ’صمد سر ‘ سے ملیے !

تین دن میں لکھائی پڑھائی اور ایک ماہ میں بول چال کی تلگو زبان سیکھئے

سید احمد سالک ندوی

وزیر داخلہ تلنگانہ کے استادسے ہفت روزہ دعورت کی خاص بات چیت
والدین نے جنہیں محمد عبدالصمد نام رکھا تھا وہ اپنی بعض فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے صمد سر تلگو کے نام سے مشہور ہو گئے۔ بہت سی ہندوستان زبانوں کی طرح تلگو زبان بھی لکھائی اور بول چال کی سطح پر اپنا ایک خاص رنگ رکھتی ہے۔ لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تقسیم کے بعد ہندوستان میں اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دیاگیا جس کے نتیجے میں غیر اردو ریاستوں میں بسنے والے مسلمان علاقائی زبانوں سے فطری طور پر دور ہوئے لیکن عمومی حالات میں بعض ریاستوں میں کچھ خاص لوگ ایسے نکل کر سامنے آئے جنہوں نے علاقائی یا ریاستی زبانوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ انہی شخصیات میں ریاست میں تلنگانہ کے ایک مسلم گھرانے سے ابھرنے والی شخصیت تلگو پنڈت صمد سر کی بھی ہے جنہوں نے کم وقت میں تلگو زبان کی بنیادی باتوں سے بھی ناواقف لوگوں کو تلگو سکھانے کا غیر معمولی کام کیا ہے۔ حیدرآباد میں ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خاص بات چیت کرتے ہوئے صمد سر نے دعویٰ کیا کہ تلگو کے حروف تہجی سے نابلد شخص کو وہ ایک ماہ میں بول چال کی تلگو اور ۳ دن میں لکھنے پڑھنے کی تلگو سکھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پوری مہارت کے ساتھ روز مرہ استعمال ہونے والے 120 افعال کے استعمال کے طور طریقوں سے طلبہ کو واقف کراتے ہیں جس کے نتیجے میں تلگو بہت جلد ان کے قابو میں آتی ہے۔
ان کے پاس زیادہ تر میڈیکل کالج، لا، آئی ٹی پروفیشنلس، سیلس ریپرزنٹیٹیو، پروفیسرس، پرائمری ہیلتھ سنٹر میں کام کرنے والے لوگ کم وقت میں تلگو زبان سیکھ چکے ہیں۔ تلگو سکھانے کی خاص وجوہات کے سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 20 سال پہلے مسلم علاقوں میں بسنے والے لوگوں میں تلگو کی تعلیم سے دوری اور اساتذہ کی ان پر محنت کی کمی نے انہیں بے چین کیا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو تلگو سکھانے کا تہیہ کر لیا۔ مسلسل 20 سال کی محنت نے آج انہیں تلنگانہ کے تلگو اساتذہ میں ممتاز مقام عطا کا ہے۔ آج ریاست کے تمام سرکاری و خانگی ادارے دسویں جماعت میں قوم کے طلبہ کی تلگو کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے صمد سر سے رجوع کرتے ہیں۔ پچھلے آٹھ برسوں میں مختلف ملی و سرکاری اسکولوں کے مینجمنٹ اور طلبہ کے سرپرستوں نے اپنے بچوں کی تلگو سبجیکٹ میں بہتر پرفارمینس کے لیے صمد سر کا تعاون لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج وہ امریکہ سمیت خلیجی ممالک میں رہنے والے لوگوں کو بھی آن لائن تلگو کی کلاس لے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صمد سمر ایسے علم کے پیاسوں سے تلگو سکھانے کا معاوضہ بھی طلب نہیں کرتے۔ اسپوکن تلگو کے لیے خود ان کا اپنا تیار کردہ نصاب ہے۔ نصاب تیار کرنے کا خاکہ ذہن میں کیسے آیا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طلبہ میں ڈراپ آوٹ شرح کو کم کرنے کے لیے مائناریٹی فائنانس کارپوریشن اور پولیس کمشنر کی طرف سے حیدرآباد میں 60 سنٹرس قائم کیے گئے تھے جن سے کم و بیش 6 سے 7 ہزار طلبہ و طالبات نے فائدہ اٹھایا ان سنٹروں میں کلاس لینے کے دوران طلبہ کو انہوں نے مطالعہ کے لیے ایسا مٹیریل تیار کر کے دیا تھا جو کم وقت میں تلگو سکھانے میں معاون بن سکتا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صمد سر کے پاس تلگو سیکھنے والوں میں خود ریاست تلنگانہ کے وزیر داخلہ محمود علی صاحب کا نام بھی شامل ہے جن کو صمد سر نے ہی تلگو سکھائی ہے۔
ریاست تلنگانہ کے سرکاری اسکول میں پڑھنے والی ایک غریب گھرانوں کے بچوں کا حال بتاتے ہوئے صمد سر کی آنکھیں بھر آئیں جب انہوں نے ہفت روزہ دعوت کو بتایا کہ بعض بچے سرکاری اسکولوں میں صر ف اس لیے جاتے ہیں کہ وہاں مڈے میل کی شکل میں دو پہر کے کھانے کا انتطام ہوتا ہے۔ ان کی کلاس کے دوران ایک بچی کے بے ہوش ہوجانے کا واقعہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بچی نے تھوڑی دیر بعد ہوش سنبھالا تو پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان کے بے ہوش ہو کر گرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس دن بد قسمتی سے انہیں مڈے میل بھی میسر نہیں آیا تھا۔ صمد سر نے معاملہ کی نزاکت محسوس کی اور فوری طور پر کھانے کا نظم کیا۔ ان کی اس نظر کرم کا نتیجہ تھا کہ اس بچی نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور اس بچی نے تلگو میں اتنی مہارت پیدا کی کہ وہ آج ایک سرکاری اسکول میں گورنمنٹ ٹیچر کی حیثت سے تلگو پڑھاتی ہیں۔
نئی ٹیکنالوجی سے جڑ کر کام کرنے اور یو ٹیوب جیسے پلیٹ فارم پر اپنی پہنچ بڑھانے کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صمد سر نے کہا کہ وہ اس کے خواہشمند ہیں کہ ان کے 30 کلاسیس کو یوٹیوب پر ڈال دیں تاکہ کوئی سیکھنا چاہے تو سیکھ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایک خواب ہے کہ وہ دس گھنٹہ میں تلگو زبان سکھا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا شامل شامل کریں۔ بہرکیف صمد سر کی ان خدمات کا اعتراف ہونا چاہیے اور ہمیں اپنے نو نہالوں کو اس زبان سے واقف کرانا چاہیے تاکہ ملک میں لسانی بنیادوں پر نفرت پھیلانے ولوں کو راہ نہ مل پائے اور ہم برادارن وطن کو اِن ہی کی زبان میں بھائی چارے کا درس دے سکیں۔
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 25 تا یکم مئی 2021