تبلیغی جماعت اور سپریم کورٹ

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

ڈاکٹر سلیم خان

 

۲شاہین باغ سے متعلق عدالت عظمیٰ کا فیصلہ توقع کے عین کے مطابق تھا۔ سی بی آئی کی عدالت اگر بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کو اس کا محافظ کہہ سکتی ہے تو عدالت عظمیٰ کو دو قدم آگے بڑھ کر یہی کہنا چاہیے کہ عوامی جگہ کو احتجاجی مظاہرہ کے لیے غیر متعینہ مدت تک کے لیے سڑک بند نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے سرکار سے یہ نہیں پوچھا کہ احتجاج تو سڑک کے چھوٹے سے حصے پر تھا آس پاس کے کئی راستے انتظامیہ نے کیوں بند کردیے تھے اور مظاہرین سے گفتگو کرکے ان کا مطالبہ کیوں نہیں سنا گیا۔ ایک ایسی انتظامیہ کو جس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری میں گھس کر بے قصور طلبا کو زدو کوب کیا ہو اگر عدالت کہہ دے کہ اس طرح کے معاملے میں انتظامیہ کو کارروائی کرنی چاہیے تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ جاننا مشکل نہیں ہے۔ انتظامیہ کو کھلی چھوٹ دیتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ اسے عدالت کے حکم کا انتظار کرنے کے بجائے خود ہی کارروائی کرنی چاہیے خوش آئند اشارہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ احتجاجی مظاہرے سے عوام کو دقت نہیں ہونی چاہیے درست ہے لیکن اسے مظاہرین کی پریشانی کا احساس بھی تو ہونا چاہیے۔ کوئی بلاوجہ اپنا کام دھام چھوڑ کر سرد راتوں میں احتجاج تو نہیں کرتا؟ عدلیہ کی جانب سے یکے بعد دیگرے اس طرح کے فیصلے دیکھ دیکھ کر اب عوام کا اعتماد عدلیہ پر سے اٹھتا جا رہا ہے لیکن پھر درمیان میں سدرشن چینل پر سخت سست الفاظ میں تنبیہ سے امید کا ننھا سا چراغ کبھی کبھار روشن ہو جاتا ہے۔
عدالت کے تعلق سے کہاں تو ننھے منے چراغوں سے دل بہلایا جا رہا تھا کہ اچانک سپریم کورٹ نے تبلیغی جماعت کی شبیہ سے متعلق عرضی پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت کو زبردست پھٹکار لگا کر گویا امید کی ایک اور شمع روشن کر دی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ارنب گوسوامی جیسے زہر فروش کو راتوں رات راحت دینے والے چیف جسٹس ایس اے بوبڑے نے یہاں تک کہہ دیا کہ اظہار رائے کی آزادی کا حال کے دنوں میں سب سے زیادہ غلط استعمال ہوا ہے۔ ہوا یہ کہ مرکزی حکومت کی بے اعتنائی سے یہ جنگ تبلیغی جماعت اور میڈیا کے بجائے عدالتِ عظمیٰ اور حکومت کے بیچ چھڑ گئی۔ حکومت نے عدالت کو نہ جانے کیا سمجھ کر ایک ادنیٰ افسر کے ذریعے حلف نامہ دائر کروا کے عدلیہ کی انا کو ٹھیس پہنچائی بس پھر کیا تھا جج صاحب نے حکومت کے چہیتے میڈیا کے ساتھ سرکار کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ چیف جسٹس بوبڑے نے پہلے تو یہ کہا کہ حکومت عدالت کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کر سکتی کہ کسی جونیئر افسر کے ذریعہ ایسا حلف نامہ داخل کروائے جس کی زبان صاف نہیں بلکہ گول مول ہو اور اس میں نفرت پھیلانے والے ٹی وی چینلوں پر عائد کردہ الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہو۔ حکومت کے دباؤ میں آ کر سپریم کورٹ نے خود اپنی یہ درگت بنا لی ہے کہ اب مرکزی حکومت نے اس کو اہمیت دینا بند کر دیا ہے لیکن جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تو عدلیہ کو اپنے وقار کا خیال آیا۔ اس نے سرکار کو نیا حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس میں غیر ضروری بکواس نہیں ہونی چاہیے۔ گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ نظام قانون کے مسائل کو بھڑکانے سے نظم و نسق کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے اس لیے کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جائے۔ یہ بات قابلِ صد شکر ہے کہ اس بار کم ازکم سپریم کورٹ ذرائع ابلاغ کے رویہ پر فکر مند ہے اور حکومت کے ذریعہ اس کی پشت پناہی پر ناراض بھی ہے لیکن اسے غور کرنا چاہیے کہ آخر میڈیا اس طرح کی حرکت کیوں کرتا ہے؟ تبلیغی جماعت کا معاملہ ایک ایسے وقت اچھالا گیا جب لاکھوں مہاجر مزدور حکومت کی پابندیوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے گھروں کی جانب چل پڑے تھے۔ یہ گھر واپسی دراصل مرکزی حکومت پر عدم اعتماد کا اعلانِ عام تھا۔ اس حساس معاملے میں سرکاری نااہلی و سفاکی کی پردہ پوشی کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ نے تبلیغی جماعت کی کہانی گھڑ کر حکومت کی بہت بڑی خدمت کی تھی۔ ایسے میں سرکاری دربار سے یہ توقع کرنا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے پالتو کو تنہا چھوڑ دینے کی غلطی کرے نادانی نہیں تو اور کیا ہے؟
مودی حکومت اپنی کوتاہیوں اور کمیوں سے اچھی طرح واقف ہے اور اس کی نیت بھی صاف نہیں ہے اس لیے اسے معلوم ہے کہ آگے بھی اس کو عوام کا دھیان بھٹکانے کے لیے میڈیا کی ضرورت بار بار پیش آنے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت کے حلف نامہ میں اظہار رائے کی آزادی کا حوالہ دے کر جانب دار میڈیا کی پشت پناہی کرتے ہوئے کہہ دیا گیا کہ تبلیغی جماعت کے معاملہ میں رپورٹنگ سے اسے روکا نہیں جا سکتا۔ اس طرح گویا ساری کذب گوئی کی سرکاری توثیق ہوگئی۔ اس حلف نامہ میں متنفر کرنے والے کاموں کو جائز ٹھہراتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا گیا کہ تبلیغی جماعت مرکز کے معاملہ میں میڈیا کی بیشتر خبریں غلط نہیں تھیں یعنی درست تھیں۔ اسے کہتے ہیں چوری اس پر سینہ زوری۔ اس سے آگے بڑھ کر حلف نامہ میں سپریم کورٹ کو بلا واسطہ یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ اس معاملے کی سماعت کرنے کے بجائے اسے نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (این بی ایس اے) کے حوالے کردے تاکہ اس سرکاری ادارے کے ذریعہ گودی میڈیا کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس کی تائید وزیر مواصلات پرکاش جاوڈیکر کا یہ بیان ہے کہ جمہوریت کے تحفظ کی خاطر آزاد میڈیا لازمی ہے۔ یہاں جمہوریت سے مراد حکومت اور آزاد کا مطلب دم ہلانے والا اطاعت گزار ٹامی ہے۔
وطن عزیز میں عدلیہ کی بیداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 13 اپریل کو یعنی تقریباً 6 ماہ قبل تبلیغی جماعت کے میڈیا کوریج کو بدنیتی اور تعصب سے پُر قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں چیلینج کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی غیر ذمہ داری کی جانب توجہ دلا کر عدالت عظمیٰ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس کو لگام دے اور میڈیا و سوشل میڈیا پر چلائے جانے والی جھوٹی خبریں نشر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ لیکن میڈیا کی اس زہر افشانی اور جھوٹی خبروں کے ذریعہ مسلمانوں کی شبیہ کو داغ دار کرنے کی مہم بدستور جاری رہی اس سے ہندوؤں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر پھیلتا رہا جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر عام مسلمان تشدد کا شکار ہوتے رہے مگر عدلیہ کمبھ کرن کی نیند سوتا رہا۔ ڈیڑھ ماہ تک میڈیا کو فتنہ فساد پھیلانے کا موقع دینے کے بعد مئی کے اواخر میں دوسری سماعت کا مہورت نکلا۔ اس وقت سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے وکیل سے پوچھا تھا کہ اس تعلق سے حکومت نے کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک قانون کی دفعات 19 اور 20 کے تحت اب تک ان چینلز پر کیا کارروائی کی ہے؟ اس کے ساتھ عدالت نے جمعیۃ علماء ہند کو براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو بھی اس معاملے میں فریق بنانے کا حکم دیا تھا۔جمیعت کے وکیل دشینت دوے نے اسے انتہائی حساس معاملہ قرار دے کر عدالت کو اس پر خصوصی توجہ دینے کی درخواست کی تو چیف جسٹس نے فرمایا کہ عدالت کو اس کا علم ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس سے لاء اینڈ آڈر کا مسئلہ پیدا ہو سکتاہے لہٰذا حکومت کا اس جانب توجہ دینا ضروری ہے لیکن کوئی ٹھوس فیصلہ سنانے کے بجائے جمیعت سے مرکزی حکومت کو پٹیشن مہیا کرانے کا حکم دے کر حکومت کو نوٹس جاری کردی گئی۔ اس نوٹس میں 15 جون تک جواب داخل کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔ سرکاری عدم سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اس نے معینہ مدت کے تقریباً چار ماہ بعد ایسا غیر ذمہ دارانہ حلف داخل کیا کہ اسے دیکھ کر سپریم کورٹ کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا۔ گزشتہ سماعت میں عدالت عظمیٰ نے جس براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو فریق بنانے کاحکم دیا تھا اب حکومت کہہ رہی کہ معاملہ اس فریق کے حوالے کر کےعدلیہ کنارے ہٹ جائے۔
اس بابت درخواست گزار مولانا ارشد مدنی نے یہ واضح کیا تھا کہ یہ قانونی لڑائی ہندو مسلم کی بنیاد پر نہیں لڑی جا رہی ہے بلکہ یہ آئین کی بنیادی روح یعنی قومی یکجہتی کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دستوری اختیارات کے تحت عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے اور انصاف بھی ملتا ہے اس لیے یہ قانونی جدوجہد مثبت نتیجہ سامنے آنے تک جاری ر ہے گی۔ اس موقع پر مولانا نے مسلمانوں کے ذریعہ بلا تفریق مذہب و ملت غریب مزدوروں اور مفلوک الحال لوگوں کی مدد کو ملک کے متعصب میڈیا کے منہ پر زبردست طمانچہ قرار دیا تھا۔ ماہِ جون میں تبلیغی جماعت سے متعلق غیر ملکیوں کی بلیک لسٹنگ کا معاملہ دو مرتبہ عدالت عظمیٰ میں آیا لیکن وہ ہر مرتبہ قانونی موشگافیوں کی نذر ہوگیا اور عدالت نے اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا یہاں تک کہ جون کے تیسرے ہفتے میں بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں تبلیغی جماعت کے کل 29 غیر ملکی ممبروں کے خلاف درج ایف آئی آر کو رد کر دیا جو اس پورے معاملے میں ایک اہم ترین سنگ میل ثابت ہوا اور جس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔جسٹس نلوڑے نے اپنے فیصلے میں لاک ڈاون کے دوران مسجد میں قیام کے الزام کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر موجود دستاویزوں کے مطابق غیر ملکی شہریوں کے مذہبی مقامات میں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جج صاحب نے استغاثہ کی جانب مذہب کی تبدیلی کروانے کا الزام بھی مسترد کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ تبلیغی جماعت مسلمانوں کا کوئی الگ طبقہ نہیں ہے بلکہ یہ صرف مذہبی اصلاح کی تحریک ہے۔ اصلاح کے سبب ہر مذہب کا برسوں میں فروغ ہوا ہے، کیونکہ سماج میں تبدیلی کی وجہ سے اصلاح کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے۔ شکایت کنندگان سمجھ گئے تھے کہ فیصلہ کیا ہوگا اس لیے انہوں نے آخری کوشش کے طور پر یہ دلیل دی چونکہ سپریم کورٹ میں اس طرح کے مقدمہ کی سماعت جاری ہے اس لیے اس کا فیصلہ آنے تک معاملے کو مؤخر کر دیا جائے لیکن اسے خارج کر دیا گیا۔جسٹس نلوڑے کے فیصلے کا سب سے اہم تبصرہ یہ تھا کہ ’’دہلی کے مرکز میں آنے والے غیر ملکی شہریوں کے خلاف پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں بہت پروپیگنڈہ چلایا گیا اور ایسی شبیہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ یہی لوگ ہندوستان میں کووڈ-19 پھیلانے کے ذمہ دار تھے۔ ان غیر ملکی شہریوں کو مجازی طور پر ہراساں کیا گیا۔وبا یا آفت کے دوران حکومت قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور حالات بتاتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ ان غیر ملکی شہریوں کو قربانی کا بکرا بنانے کے لیے چنا گیا تھا‘‘۔
اپنی صاف گوئی سے جسٹس نلوڑے نے حکومت اور میڈیا کو پوری طرح بے نقاب کر کے ٹال مٹول کرنے والے سپریم کورٹ کو آئینہ دکھایا۔ تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’ہندوستان میں انفیکشن کی سابقہ اور موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ ان عرضی گزاروں کے خلاف ایسی کارروائی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ غیر ملکی شہریوں کے خلاف کی گئی اس کارروائی کے بارے میں افسوس کا اظہار کرنے اور اس کارروائی سے ہونے والے نقصان کی پابجائی کے لیے کچھ مثبت قدم اٹھانے کے لیے یہ صحیح وقت ہے‘‘۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ جسٹس نلوڑے کے جرأتمندانہ فیصلے سے عدالت عظمیٰ نے خفت محسوس کی ہو اور پھر 24 ستمبر کو اس معاملے کی سماعت کے لیے بینچ کی تشکیل نو کی گئی ہو۔ سپریم کورٹ کی اس نئی بینچ میں بھی چیف جسٹس موجود ہیں لیکن اس مرتبہ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ اپنی بھی شبیہ سدھارنے کے موڈ میں نظر آرہے ہیں۔ اس لیے انہوں نے سالیسٹر جنرل تشارمہتا سے سوال کیا کہ آپ یہ کس طرح سے کہہ سکتے ہیں کہ غلط اور منفی رپورٹنگ کا کوئی واقعہ رونماہی نہیں ہوا؟
موجودہ حکومت کی ایک خصوصیت شتر مرغ کی مانند خطرے کے وقت اپنا سر ریت میں چھپائے رکھنے کی بھی ہے۔ اس لیے جس وقت ملک کی سڑکوں پر لاکھوں مزدور تھے اور میڈیا ان کو دکھا رہا تھا حکومت نے عدالت سے کہہ دیا کوئی نہیں ہے اور اسے مان بھی لیا گیا۔ اسی حکومت سے جب ایوان کے اجلاس میں سوال کیا جاتا ہے کہ کتنے مزدور راستے میں مرے تو وہ جواب دیتی ہے کہ اس کے اعدادو شمار موجود نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں اور طبی عملہ سے متعلق پوچھا جائے کہ کتنے لوگ کورونا سے لڑتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے گئے تو اس وقت بھی اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنے کے لیے یہی جواب دیا جاتا ہے۔ اس بے حسی کا مظاہرہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ ان لوگوں کی مدد کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ وزیر اعظم تو چین کی کھلی دراندازی کا بھی انکار کر دیتے کیونکہ اگر کوئی آیا ہی نہیں ہے تو نکالنے کا کیا سوال؟ انہیں خطوط پر سرکار نے منفی رپورٹنگ کا انکار کردیا کہ اگر وہ ہوئی ہی نہیں ہے تو اس پر کسی اقدام کی کیا ضرورت ہے؟ اس سے قبل عدالت میں ایسے دلائل کو قبول کرلیا جاتا تھا لیکن اب کی بار دال نہیں گلی۔ چیف جسٹس نے اس بار غیر متوقع طور پر سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتاسے پوچھ لیا کہ سرکاری حلف نامہ میں یہ کیسے لکھ دیا گیا ہے کہ عرضی گزار نے کسی فیک نیوز اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز خبروں کے شواہد و ثبوت پیش نہیں کیے جبکہ وہ تو درج ہیں؟ اس کا ایک مطلب تو وہی شتر مرغ والی کیفیت ہے اور دوسرا یہ کہ ان شواہد کو دیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔ حکومت کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے پر پھٹکار لگاتے ہوئے چیف جسٹس نے تشار مہتا سے کہا کہ آپ عدالت سے اس طرح سے نہ پیش آئیں جس طرح اپنے ماتحت افسران سے پیش آتے ہیں اور ذمہ داری کے ساتھ حقائق پر مبنی حلف نامہ داخل کریں۔ اس ڈانٹ کو سننے کے بعد تشار مہتا کے ہوش ٹھکانے آگئے اور انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ اگلی سماعت میں وہ اعلیٰ افسر کے ذریعہ نیا حلف نامہ اپنی زیر نگرانی تیار کروا کر داخل کریں گے۔
عدالت نے تشار مہتا سے ماضی میں ایسی شکایتوں پر مرکزی حکومت کی کارروائی اور متعلقہ قوانین کی تفصیل طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا حکومت کو ٹیلی ویژن پر پابندی لگانے کا اختیار ہے؟ حکومت یہ بتائے کہ شر انگیز نیوز چینلوں کے خلاف کیا کارروائی کی جاسکتی ہے۔ چیف جسٹس کے یہ الفاظ تو سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں کہ آزادی اظہار رائے کا حالیہ دنوں میں بے دریغ غلط استعمال ہوا ہے۔ جمعیت کے وکیل دشینت دوے نے تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کو بدنام کرنے والے ٹی وی چینلوں پر پابندی لگانے کی گزارش کی ہے۔ اس طرح گودی میڈیا پر ایک طرف تو سپریم کورٹ میں شکنجہ کسا جا رہا ہے تو دوسری جانب ممبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے نے فرضی ٹی آر پی گروہ کا پردہ فاش کرکے دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ پرم بیر سنگھ نے ریپبلک ٹی وی سمیت تین چینلوں کا نام ظاہر کیا جو رشوت دے کر ٹی آر پی خریدتے ہیں۔
ممبئی پولس کے الزام سے یہ معلوم ہوا کہ حکومت کے زیر سایہ پلنے والا پالتو میڈیا نہ صرف حکومت کے اشارے پر عوام کی توجہات بھٹکاتا ہے، لوگوں کے اندر نفرت و عناد پھیلانے کے لیے چھوٹی خبریں نشر کرتا ہے اور نقصان پہنچانے کے بعد معافی مانگ لیتا ہے بلکہ اپنے مشتہرین کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ ایسا کر کے وہ اونچے نرخ پر زیادہ سے زیادہ اشتہار حاصل کر لیتا ہے۔ اپنے آپ کو دیش بھکت کہنے والا میڈیا آج کل کھلے عام اس طرح کی دھوکہ دہی سے کام لے رہا ہے اور جب اسے رنگے ہاتھوں پکڑا جاتا ہے تو وہ سناتن دھرم کی آڑ میں چھپنے کی مذموم کوشش کرتاہے۔ اس بھانڈا پھوڑ کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان کا کارپوریٹ طبقہ اپنے آپ کو ٹی آر پی کے جنجال سے آزاد کر کے ایسے چینلس کو اشتہار دینا شروع کرے جو نفرت کے بجائے محبت اور رواداری و سچائی کو پھیلاتے ہیں۔ راہل بجاج نے اس معاملے میں یہ قابلِ تعریف اعلان کیا ہے کہ وہ ٹی آر پی سے علی الرغم کسی ایسے چینل کو اشتہار نہیں دیں گے جو سنسنی اور جھوٹ کا سوداگر ہے۔ اس طرح کی ذمہ داری کا احساس اگر دیگر سرمایہ کاروں کو بھی ہو جائے تو یقیناً اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ ٹی آر پی کا کھیل بھی بڑا دلچسپ ہے کہ اس میں ایسے لوگوں کے گھر میں پیسے دے کر دن پھر انگریزی چینل چلوا دیا جاتا جو بیچارے انگلش سے ہی نابلد ہوتے ہیں۔ پولیس نے آگے چل کر ٹی آر پی بدعنوانی میں مزید 4 ملزمین کو گرفتار کر کے ریمانڈ پر لے لیا ہے۔ ان کی تفتیش سے بدعنوانی میں ملوث مزید ٹی وی چینلوں کا نام بھی منظر عام پر آئے گا۔ پولیس اب روپے تقسیم کرنے والوں سے معلومات اور تفتیش کر کے شواہد جمع کر رہی ہے جن کو رشوت دی گئی تھی۔ اس طرح جن مختلف چینلس کا نام سامنے آرہا ہے اس میں ریپبلک کا سب سے بڑا حریف انڈیا ٹو ڈے بھی شامل ہے۔ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر ان کا مشترک دشمن مسلمان ہیں اور وہ حکومت کے اشارے پر ہر مصیبت کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال ہاتھرس معاملے میں پی ایف آئی پر قائم کیا جانے والا فرضی مقدمہ ہے۔ حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ میڈیا کے ذریعہ لگائے جانے والے بے ہوشی کے انجکشن سے درد کا احساس تو عارضی طور پر کم ہو جاتا ہے مگر ایک خاص وقت کے بعد یہ نشہ آور ادویات بے اثر ہوجاتی ہیں اور عوام بیدار ہو کر حکومت کو سبق سکھا دیتے ہیں۔ اس طرح لوگ اپنی تباہی کو ٹال تو سکتے ہیں لیکن روک نہیں سکتے۔ عدالت عظمیٰ نے بھی اگر تبلیغی جماعت معاملے میں بامبے ہائی کورٹ کی مانند نکیل کسی تو اس سے فتنہ و فساد پر کسی حد تک لگام لگے گی۔ اس معاملے میں بد دلی کا شکار ہوئے بغیر یکسوئی کے ساتھ جدوجہد کرنے کے لیے جمیعۃ علمائے ہند مبارکباد کی مستحق ہے اور ملک کا ہر انصاف پسند شہری بشمول امت مسلمہ اس کے ساتھ ہے۔
***

اپنی صاف گوئی سے جسٹس نلوڑے نے حکومت اور میڈیا کو پوری طرح بے نقاب کر کے ٹال مٹول کرنے والے سپریم کورٹ کو آئینہ دکھایا۔ تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’ہندوستان میں انفیکشن کی سابقہ اور موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ ان عرضی گزاروں کے خلاف ایسی کارروائی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ غیر ملکی شہریوں کے خلاف کی گئی اس کارروائی کے بارے میں افسوس کا اظہار کرنے اور اس کارروائی سے ہونے والے نقصان کی پابجائی کے لیے کچھ مثبت قدم اٹھانے کے لیے یہ صحیح وقت ہے‘‘۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 18-24 اکتوبر، 2020