اپنے عمل کا جائزہ لیجئے

مسجدیں بند سہی خدا کی رحمت کے دروازے اب بھی کھلے ہیں

مفتی تنظیم عالم قاسمی

کورونا وائرس کی وبا نے جیسے ہی ملک میں دستک دینی شروع کی اور ماہرین کی جانب سے اس کے بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جانے لگے اور مذہبی قائدین اور حکومت نے مسلمانوں سے بھی خواہش کی وہ اپنی نمازیں گھر پر ہی ادا کریں یہاں تک کہ جمعہ اور شب براءت کے لیے بھی کوئی گھر سے باہر نہ نکلے۔ یہ ایمانی اور جذباتی مسئلہ تھا اور شاید ماضی قریب میں یہ پہلا موقع تھا جب کہ مسلمان بالخصوص جمعہ کی نماز مسجدوں میں ادا کرنے سے محروم ہو رہے تھے۔
اپنے ارد گرد مسلمانوں کا جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ واقعتاً ایک مسلمان اپنی زندگی میں عمل سے دور رہتا ہے نماز کی پابندی نہیں کرتا لیکن جب راہِ خدا میں خرچ کرنے کی بات آئے یا مساجد اور مسلمانوں کی جان واملاک اور عزت وآبرو کی حفاظت کا مسئلہ درپیش ہو تو ان غافل افراد کا ایمان بھی جوش مارنے لگتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ایمان ان کے دل میں ابھی باقی ہے۔ اس کا نظارہ آپ جمعہ کے دن اور مقدس راتوں میں کر سکتے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں معاشرے میں بے عمل تصور کیا جاتا ہے جو شراب نوشی اور گناہوں کے عادی ہوتے ہیں وہ بھی خدا کے دربار میں اپنا ہاتھ اٹھائے ہوئے مغفرت کی بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں اور ان کی آنکھیں اپنے گناہوں کو یاد کر کے تر ہو جاتی ہیں۔ آج جب دنیا میں کورونا وائرس کی مہلک وبا عام ہے اور اس کی وجہ سے مسجد جانے پر پابندی ہے تو نماز کے پابند اور صلحاء کی طرح عام مسلمانوں کا دل بھی چھلنی ہو رہا ہے اور جب جب محلے کی مسجد سے مؤذن اذان کے بعد مسجد نہ آنے کی گزارش کرتا ہے تو یہ آواز کانوں پر گراں گزرتی ہے، ناقابل برداشت صدمہ سے انسان دوچار ہوتا ہے اور دل پکار اٹھتا ہے کہ خدایا! تو اتنا کیوں ہم سے ناراض ہوگیا کہ ہمیں اپنے گھر آنے سے بھی محروم کر دیا ہے یقینا ہم گنہگار اور نافرمان ہیں لیکن تیری شان تو اس سے بھی بلند ہے ہم بھوک و پیاس تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن تیرے گھر اور تیری رحمت سے دوری ہمیں برداشت نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گھروں میں نماز ادا کرنے سے نماز کا ذمہ ساقط ہوجاتا ہے اور چوں کہ یہ مجبوری کی بنیاد پر ہے دل سے نہ چاہتے ہوئے بھی ارادۂ خیر سے ہم گھر میں نماز ادا کر رہے ہیں اس لیے اللہ کی ذاتِ رحیمی سے امید ہے کہ مسجد میں نماز پڑھنے کا جو ثواب ہے وہی ثواب موجودہ صورت حال میں گھروں میں نماز پڑھنے سے حاصل ہوگا۔ تاہم قلب کو وہ اطمینان حاصل نہیں ہوتا جو مسجدوں میں نماز پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے اس لیے کہ مسجد اللہ تعالی کا گھر ہے یہاں کی درو دیوار کی نسبت اس کی طرف ہونے کی وجہ سے اس کا مقام بلند ہوجاتا ہے اسی نسبت کی برکت ہے کہ ایک عام مسلمان بھی یہاں پہنچ کر اپنے قلب وجگر میں ٹھنڈک محسوس کرتا ہے اور یہاں پڑھی ہوی دور کعت نماز میں وہ لذت ملتی ہے جو گھر میں پڑھی ہوئی ہزار رکعتوں میں بھی نہیں ملتی۔ اس کے باوجود دیگر اقوام کی طرح مسلمان بھی اپنے گھروں میں محصور ہیں اور لاک ڈاون کی وجہ سے تمام نمازیں مساجد کے بجائے گھر میں ہی ادا کی جارہی ہیں۔ تاہم اس موقع پر مسلمانوں کو اپنے عمل کا جائزہ بھی لینا چاہیے اور اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرنا چاہیے مسجدوں کے دروازے بند ہیں لیکن خدا کی رحمت کے دروازے آج بھی کھلے ہوئے ہیں اگر ہم اپنے سجدوں کو حقیقی سجدہ بنائیں اپنی دعاوں کو موثر بنائیں اور اپنے آنسووں کے ذریعے اللہ کی رحمت کو متوجہ کریں تو اس مصیبت سے ہمیں اور ساری دنیا کو نجات مل سکتی ہے۔ میڈیکل سائنس کے ماہرین اور سائنس داں کچھ بھی کہیں لیکن ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ گناہ اور معصیت سے بڑھ کر کوئی وبا نہیں اور دعا سے بڑھ کر کوئی ویکسین نہیں۔آج جس خوف ناک وبا نے دنیا میں کہرام مچایا ہوا ہے یہ اپنے ضرر میں اللہ کے حکم کی محتاج ہے اس لیے وبا سے زیادہ ہمیں اسی کی طرف رجوع کرنے اور بیماری سے زیادہ اس کی گرفت اور اس کے عذاب سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا تقاضا تھا کہ ہم اپنے گھروں میں اہل وعیال کے ساتھ فرائض کے علاوہ سنن و نوافل، تلاوت قرآن اور ذکرو اذکار کا اہتمام کرتے اور رو رو کر اللہ سے دعا کرتے، مصیبت سے حفاظت کے لیے روزہ رکھتے اور حسب استطاعت صدقہ دیتے پھر اللہ نے جس طرح حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اسی طرح وہ ہمیں بھی وبا کی اس تاریکی سے نجات دیتا! لیکن آج ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ دیکھ کر بڑا افسوس ہوگا کہ فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب اور دیگر کھیل کود میں ہمارے نوجوان مست ہیں۔ قرآن کی تلاوت کے بجائے گانے بجانے میں مصروف ہیں، ذکرو اذکار کو چھوڑ کر غیبت، چغلی اور تنقیدوں میں وقت گزر رہا ہے۔ نماز اور دعاوں کی کثرت کے بجائے عیش وآرام اور نیند کی زیادتی نے مجرمانہ غفلت کا شکار بنا دیا ہے ۔ پھر کس طرح ہم اللہ کی رحمت کی امید کر سکتے ہیں اور کیسے ہمارے مسائل حل ہوں گے؟
رسول اکرمﷺنے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں دین پر چلنا ہاتھ میں آگ پکڑنے کی مانند ہوگا ( سنن ترمذی۔ ۲۲۶۰) یعنی جس طرح ہاتھ میں انگارے کو لینا آسان نہیں اسی طرح دین وشریعت کی اتباع اور اسلامی احکام کی پیروی بھی مشکل ہوجائے گی، کہیں حکومتی پابندی ہوگی کہیں بیماریوں کا خوف ہوگا اور کہیں دشمنان اسلام کی ملامت کا احساس ہوگا۔ گویا فساد اس قدر عام ہوگا کہ ہر انسان کو وہ اپنے لپیٹ میں لے لے گا اس کی صورتیں مختلف ہوں گی لیکن بہر حال اللہ سے دور کرنے کے اسباب پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ کیا آج خود ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے؟ آج وبا اس کی وجہ ہے اور اس کے سبب ہم مسجدوں سے دور ہو گئے اور چاہنے کے باوجود مسجدوں میں ہم نماز پڑھنے سے محروم ہیں، اذان کے بعد مؤذن کی مسجد نہ آنے کی گزارش سے یقینا دل پر چوٹ لگتی ہے لیکن کیا یہ ہمارے لیے محرومی نہیں ہے، غزوۂ تبوک میں جو مسلمان چاہنے کے باوجود اسباب کی کمی کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے تھے وہ اس عظیم عمل سے محرومی پر رو رہے تھے اور اپنے دل میں شرمندہ تھے۔ اگر آج ہم مسجد نہیں جا پا رہے ہیں تو اس محرومی پر رونے اور خوب گڑگڑانے کی ضرورت ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری بے حسی ہمیں سجدوں سے بھی محروم کر دے۔

اگر آج ہم مسجد نہیں جا پا رہے ہیں تو اس محرومی پر رونے اور خوب گڑگڑانے کی ضرورت ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری بے حسی ہمیں سجدوں سے بھی محروم کر دے۔