آئی ای ایس اور آئی ایس ایس

معاشیات اور شماریات میں پوسٹ گریجویٹ

مومن فہیم احمد عبدالباری
(لیکچرر صمدیہ جونیر کالج، بھیونڈی)

 

ملک کے اعلیٰ اداروں میں مقام حاصل کرنے کے مواقع
مسابقتی امتحانات کی اہمیت سے ہم تمام واقف ہیں۔ ملک کے تمام بڑے انتظامی عہدوں کے لیے جس قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے ان کی جانچ کے لیے ملک میں مختلف مسابقتی امتحانات مرکزی اور ریاستی سطح پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ مرکزی سطح پر یونین پبلک سروس کمیشن جبکہ ریاستی سطح پر مختلف ریاستوں کے پبلک سروس کمیشن کے تحت یہ امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریلوے کی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ، مختلف مرکزی محکموں میں گریڈ بی کی سطح کی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ایس ایس سی (اسٹاف سلیکشن کمیشن) عوامی شعبہ کی بینکوں میں پروبیشنری آفیسرس کی تقرری کے لیے آئی بی پی ایس (انڈین بینکنگ پرسونل سلیکشن) فوج میں شمولیت کے لیے این ڈی اے، کمبائنڈ ڈیفینس سروس وغیرہ کے تحت امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان تمام مسابقتی امتحانات میں کسی مخصوص شعبہ کی تعلیمی قابلیت یا ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کو ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ریلوے کے امتحانات میں دسویں، آئی ٹی آئی کامیاب، بارہویں اور گریجویٹ امیدوار، اسٹاف سلیکشن کمیشن کے امتحانات میں بارہویں اور گریجویٹ امیدوار، بینکنگ کے امتحانات کے لیے گریجویٹ امیدوار، یونین پبلک سروس کمیشن اور ریاستی پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں گریجویٹ امیدوار شریک ہو سکتے ہیں۔ کسی مخصوص اسٹریم (فیکلٹی) سے کامیابی شرط نہیں ہوتی۔ لیکن ان کے علاوہ بھی کئی ایسے امتحانات ہوتے ہیں جن میں مخصوص قابلیت، تعلیمی صلاحیت، متعلقہ مضامین میں اعلیٰ ڈگری یافتہ افراد ہی شریک ہوسکتے ہیں۔ مثلاً انڈین انجینئرنگ سروس کے امتحانات میں انجینئر ہی شریک ہو سکتے ہیں، انڈین اکنامک سروس اور انڈین اسٹیٹسٹیکل سروس کے امتحانات میں معاشیات، ریاضی، شماریات، شماریاتی معاشیات جیسے مضامین میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں۔ آئیے ہم ان میں سے آئی ای ایس اور آئی ایس ایس کا جائزہ لیں۔
آئی ای ایس اور آئی ایس ایس۔ کیا ہیں یہ خدمات؟
معاشیاتی اور شماریاتی سروسیس۔
‏انڈین اکنامک سروس (آئی ای ایس) اور انڈین اسٹیٹسٹیکل سروس (آئی ایس ایس) یونین پبلک سروس کمیشن کے تحت منعقد ہونے والے ایسے امتحانات ہیں جو مرکزی حکومت کی اہم وزارتوں کے انتظامی امور، اعداد و شمار کی بنیاد پر پالیسی کی ترتیب دینے والے افراد کا تقرر کرنے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں معاشی پالیسیوں کو ترتیب دینے اور انہیں نافذ کرنے کے لیے انڈین اکنامک سروس (آئی ای ایس) کو متعارف کروایا گیا۔ ۱۹۹۱ میں بڑے پیمانے پر معاشی اصلاحات اور حکومت کے بطور نگراں کردار کی وسعت کے لیے مختلف شعبوں میں تجزیہ کاروں اور اس طرح کی خدمات انجام دینے والے افراد کی ضرورت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی۔ جبکہ انڈین اسٹیٹسٹیکل سروس (آئی ایس ایس) کے لیے مختلف وزارتوں اور محکموں کی شماریاتی اسامیوں کو ان خدمات کے تحت ایک کر دیا گیا۔ حکومتی قوانین کے مطابق یونین پبلک سروس کمیشن کے تحت جونیر ٹائم اسکیل خدمات کے لیے ان اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ایک کمبائنڈ مسابقتی امتحان ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔
ان امتحانات سے متعلق بنیادی باتیں
یہ امتحان یونین پبلک سروس کمیشن کے تحت سال میں ایک مرتبہ ہی منعقد کیا جاتا ہے۔ ایک امیدوار زیادہ سے زیادہ چھ مرتبہ اس امتحان میں شریک ہوسکتا ہے۔ یہ آف لائن (قلم اور کاغذ) منعقد کیا جاتا ہے۔ ہر سال تقریباً بتیس سے تینتیس اسامیوں کے لیے یہ امتحان منعقد کیا جاتا ہے۔ ملک بھر سے دو لاکھ سے زائد امیدوار اس میں شریک ہوتے ہیں جنہیں تین دن کے دورانیے پر مشتمل امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ امسال اس امتحان کا اعلان اپریل کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے۔ یو پی ایس سی کیلنڈر کے مطابق ۷؍ اپریل ۲۰۲۱ سے ۲۷؍ اپریل ۲۰۲۱ ‏کے درمیان آن لائن فارم بھرنے ہوں گے۔ ملک کے انیس (۱۹) شہروں احمد آباد، بنگلورو، بھوپال، چندی گڑھ، چینئی، کٹک، دلی، دِسپور، حیدرآباد، جے پور، جموں، کولکاتہ، لکھنؤ، ممبئی، پٹنہ، پریاگ راج (الٰہ آباد)، شیلانگ، شملہ، ترواننت پورم میں امتحانی مراکز ہیں۔
امتحان کی نوعیت و طریقہ کار
یہ امتحان تحریری پرچوں اور انٹرویو پر مشتمل ہوتا ہے۔ انگریزی، جنرل اسٹڈیز کے علاوہ آئی ای ایس منتخب کرنے والے امیدواروں کو معاشیات جبکہ آئی ایس ایس منتخب کرنے والے امیدواروں کو شماریات کے پرچے دینے ہوتے ہیں۔ یہ امتحان تین دن، ہر روز دو پرچوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے دن انگریزی اور جنرل اسٹڈیز کا پرچہ ہوتا ہے جبکہ بقیہ دو دن دو پرچے روزانہ کے حساب سے معاشیات اور شماریات مضامین کے ہوتے ہیں۔ تحریری امتحان میں کامیاب امیدوار کو انٹرویو کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ تحریری
امتحان ایک ہزار مارکس جبکہ انٹرویو دو سو مارکس پر مشتمل ہوتا ہے۔ انٹرویو میں کامیاب امیدوار کو تقریباً دو برس تربیت حاصل کرنی ہوتی ہے اس کے بعد بحیثیت سپر ون کلاس آفیسر ملک کی مختلف وزارتوں میں اہم ذمہ داریوں کے لیے تقرری ہوتی ہے۔
درکار تعلیمی قابلیت و عمر کی حد
انڈین اکنامک سروس (آئی ای ایس) کے لیے: امیدوار کو انڈین اکنامک سروس کے امتحان میں شرکت کے لیے ملک یا بیرون ملک کی کسی مسلمہ یونیورسٹی سے معاشیات، اپلائیڈ معاشیات، بزنس معاشیات، شماریاتی معاشیات ان مضامین میں پوسٹ گریجویٹ ہونا لازمی ہے۔
انڈین اسٹیٹسٹیکل سروس (آئی ایس ایس) کے لیے: اس امتحان میں شرکت کے متمنی امیدواروں کو گریجویشن کی سطح پر ایک مضمون شماریات (اسٹیٹسٹکس) ریاضیاتی شماریات، اطلاقی شماریات (اپلائیڈ) کے ساتھ کامیاب ہونا لازمی ہے یا ملک و بیرون ملک کی مسلمہ یونیورسٹی سے شماریات، ریاضیاتی شماریات، اطلاقی شماریات ان مضامین میں پوسٹ گریجویٹ ہونا لازمی ہے۔
عمر کی حد: امیدوار کی عمر ۲۱ برس سے کم اور ۳۰ برس سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ ایس سی ایس ٹی کو پانچ برس، او بی سی کو تین برس کی رعایت ہوتی ہے اس کے علاوہ دیگر کیٹیگری کے امیدواروں کو بھی حکومتی قوانین کی بنیاد پر رعایت حاصل ہوتی ہے جس کی تفصیل upsc.gov.in کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
کامیاب امیدواروں کی اہمیت، کردار اور ذمہ داریاں
یہ امتحان مرکزی خدمات میں بحیثیت گروپ ۔’اے‘ آفیسر تقرری کا پروانہ ہے۔ کامیاب امیدواروں کو پلاننگ کمیشن (منصوبہ بندی کمیشن) وزارت برائے معاشی امور، نیشنل سیمپل سروے اور ان سے متعلقہ محکموں میں تقرری کی جاتی ہے جہاں بالخصوص معاشیات اور شماریات کے ماہر افسران کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیڈر پوسٹ کے علاوہ آئی ای ایس افسران کو ملکی و غیر ملکی اداروں میں ڈیپوٹیشن پر بھیجا جاسکتا ہے۔ ان اداروں میں اقوام متحدہ، غیر ملکی حکومتیں، ریاستی حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے شامل ہیں۔ ملک میں عام طور پر ان امیدواروں کی مرکزی حکومت کے محکموں، ملک کی راجدھانی میں پوسٹنگ کی جاتی ہے۔ ابتدائی عمر میں اس پوسٹ پر فائز امیدوار اپنی قابلیت اور صلاحیت کی بناء پر ترقی کرتے ہوئے حکومت ہند میں سیکریٹری کی پوسٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
یہ ملک کے اہم ترین امتحانات میں سے ایک ہے جس میں سخت، مسلسل محنت اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے سماج میں ایسی بیشتر مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اپنی معاشی پسماندگی و ناگفتہ بہ حالات کے باوجود نمایاں مقام حاصل کیا۔ ہمارے طلبہ میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن ہر کامیابی کے لیے محنت شرط ہے۔
گزشتہ سال روزنامہ انقلاب ممبئی میں شائع ایک انٹریو کے مطابق ۲۰۱۹؁ء میں منعقد ہونے والے انڈین اسٹیٹسٹیکل سروس امتحان میں، مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے قصبے ’وِٹا‘ ضلع سانگلی سے تعلق رکھنے والے، ابتدائی تعلیم اردو میڈیم سے حاصل کرنے والے، سبزی فروش کے فرزند اور بچوں کو مفت ریاضی پڑھانے والے سلیم قمرالدین پان والے نے اس امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور پورے ملک میں بیسواں اور مہاراشٹر میں پہلا مقام حاصل کیا۔ سلیم پان والے نے بی ایس سی کیا، بی ایس سی میں ریاضی اور شماریات مضامین منتخب کیے، بانوے فیصد سے بی ایس سی کامیاب کیا۔ شیواجی یونیورسٹی سے شماریات میں ایم ایس سی اٹہتر فیصد سے کامیاب کیا۔ گیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ پونے کی ایک فرم میں ملازمت کی، آئی ایس ایس کی تیاری کرتے رہے اور پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کی اور آل انڈیا بیسواں رینک حاصل کیا تھا۔
[email protected]
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، خصوصی شمارہ 7 مارچ تا 13 مارچ 2021