انفارمیشن ٹکنالوجی ۔قسط۔10

جی میل ڈرائیو Gmail Drive کی معلومات

شفیق احمد آئمی، مالیگاؤں

’’ای میل‘‘ کی دنیا میں تہلکہ
اِس وقت انٹرنیٹ پر تین ’’فری ای میل‘‘ سروسز سب سے نمایاں ہیں ، ایک ’’ہاٹ میل‘‘ دوسری ’’یاہو‘‘ اور تیسری ’’جی میل‘‘ یا گوگل میل۔ اِن تینوں میں سے آج صارفین سب سے زیادہ ’’جی میل‘‘ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ ’’جی میل‘‘ اپنے صارفین کو سب سے زیادہ سہولیات فراہم کرتی ہے ۔ گوگل میل یا جی میل کو یکم اپریل 2004ء میں جاری کیا گیا ہے اور یہ وہ زمانہ تھا جب ’’فری میل سروسیز‘‘ اپنے صارفین کو صرف 2MB ٰیعنی دو میگا بائٹ یا اِس سے قدرے زیادہ ’’اسٹوریج‘‘ فراہم کرتی تھیں ۔ گوگل نے اُس وقت اپنے صارفین کو ایک گیگا بائٹ 1GB کا ’’فری ای میل اکاونٹ‘‘ فراہم کرکے تہلکہ مچا دیا تھا ۔ ابتداء میں ’’جی میل‘‘ صرف ایک ’’پرائیویٹ بی ٹا سروس‘‘ تھی ۔ یعنی اس پر اکاونٹ حاصل کرنے کے لئے ضروری تھا کہ کوئی دوسرا شخص جو ’’جی میل‘‘ پر اکاونٹ رکھتا ہو وہ آپ کو ’’جی میل‘‘ استعمال کرنے کی دعوت ارسال کرے ۔ بعد میں 7 فروری 2007ء کو گوگل نے ’’جی میل‘‘ کی سروس ہر خاص وعام کے جاری کردی۔
ہرلمحہ جی میل ڈرائیو اسپیس میں اضافہ
گوگل کی ’’جی میل‘‘ سروس جو جرمنی اور برطانیہ کے لئے ’’گوگل میل‘‘ ہے ۔ ابتداء میں ایک جی بی 1GB کی اسپیس فراہم کرتی تھی ۔ اس کے بعد گوگل نے اپریل 2005 ء میں ’’جی میل‘‘ کی اسپیس بڑھا کر دو جی بی 2GB کردی اور اُس وقت گوگل نے اعلان کیا تھا کہ ’’جی میل ڈرائیو‘‘ کی اسپیس ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ بڑھتی جائے گی اور گوگل تب سے لے کر ابھی تک اپنا وعدہ نبھا رہا ہے ۔ اب ’’جی میل ڈرائیو‘‘ کی اسپیس پندرہ جی بی 15GB سے لیکر پچیس جی بی 25GB تک کی اسپیس فراہم کررہی ہے اور ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ اِس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ 2007ء میں ’’جی میل‘‘ کی اسپیس 0.4 میگا بائٹ MB فی دن اور 145MB میگا بائٹ فی سال کے حساب سے بڑھ رہی تھی اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ یہ رفتار اور بڑھتی جارہی ہے ۔
آن لائن اسٹوریج
’’جی میل‘‘ چونکہ اپنے صارفین کو ایک بڑی مقدار میں مفت اسپیس فراہم کر رہی ہے اِسی لیے اِسے ’’آن لائن اسٹوریج‘‘ کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ یہ آئیڈیا چند سافٹ وئیر کی صورت میں عملی شکل میں موجود ہے اور ایسا ہی ایک سافٹ وئیر ’’جی میل ڈرائیو‘‘ gmail drive ہے ۔ یہ ایک فری سافٹ وئیر ہے جسے Bjarke Viksoe نامی ایک ڈویلپر نے تیار کیا ہے ۔ یہ دراصل ایک ’’شیل نیم اسپیس ایکسٹینشن‘‘ ہے جو ’’ونڈوز ایکسپلور‘‘ میں ایک ’’مجازی ڈرائیو‘‘ بنا دیتی ہے ۔ ایسی ڈرائیو کے ذریعے آپ اپنے ’’جی میل اکاونٹ‘‘ کو بطور ’’اسٹوریج ڈرائیو‘‘ استعمال کرسکتے ہیں ۔ یہ بالکل کسی عام ڈرائیو کی طرح ہے اور جس طرح آپ مختلف ڈرائیوز میں ’’ڈیٹا‘‘ کاپی پیسٹ کرتے ہیں بالکل ویسے ہی اِس ڈرائیو میں بھی کرسکتے ہیں ۔ اِس ڈرائیو میں آپ جو بھی ’’ڈیٹا‘‘ پیسٹ کریں گے وہ آپ کے ’’جی میل اکاونٹ‘‘ میں محفوظ ہوجائے گا اور بعد میں اپنے اِس ڈیٹا کو ’’ڈیلیٹ‘‘ بھی کرسکتے ہیں ۔ اِس کے علاوہ آپ اِس ڈرائیو پر رائٹ کلک کرکے ’’پراپرٹیز‘‘ میں دستیاب اور استعمال شدہ اسپیس بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔
جی میل ڈرائیو کس طرح کام کرتا ہے؟
جیسا کہ آپ کو پہلے ہم بتا چکے ہیں کہ ’’ونڈوز ایکسپلور‘‘ میں ’’جی میل ڈرائیو‘‘ ایک نئی ڈرائیو بنا دیتا ہے ۔ اِس ڈرائیو کا کوئی لیٹر Letter نہیں ہوتا ہے بلکہ اِس کا نام GMail Drive لکھا ہوتا ہے ۔ جب آپ اِس ڈرائیو کو کھولنے کی کوشش کریں گے تو ’’جی میل ڈرائیو‘‘ آپ سے ایک ڈئیلاگ باکس کے ذریعے آپ کے ’’جی میل اکاونٹ‘‘ کی ’’آئی ڈی‘‘ اور ’’پاس ورڈ‘‘ طلب کرے گا ۔ اس آئی ڈی اور پاس ورڈ کے ذریعے ’’جی میل ڈرائیو‘‘ جی میل پر ’’لاگ آن‘‘ ہوجائے گا اور یہ ڈرائیو کھل جائے گی ۔ جب آپ کوئی فائل اپنے کمپیوٹر سے کاپی کرکے ’’جی میل ڈرائیو‘‘ میں پیسٹ کریں گے تو ’’جی میل ڈرائیو‘‘ اُس فائل کو بطور ’’اٹیچ منٹ‘‘ ایک ای میل کے ذریعے آپ کے اکاونٹ پر بھیج دے گا ۔ اگر آپ اپنے جی میل اکاونٹ پر ’’لاگ اِن‘‘ ہوکر دیکھیں گے تو یہ ای میل آپ کو اپنے باکس میں نظر آئے گی ۔ آپ چاہیں تو اِسے ’’اِن باکس‘‘ سے ہٹا سکتے ہیں اور اِس سے فائل کی دستیابی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔اگلی بار جب آپ ‘‘جی میل ڈرائیو‘‘ کھولیں گے تو ’’جی میل ڈرائیو‘‘ جی میل پر لاگ اِن ہوکر ایک ’’سرچ کیوری‘‘ چلائے گا اور تمام ایک میلز حاصل کرے گا ۔ اِن ای میلز کو حاصل کرنے کے بعد وہ اِن سے منسلک اٹیچ منٹس کا جائزہ لے گا پھر آپ کو یہ فائلیں ’’جی میل ڈرائیو‘‘ پر دکھا دے گا ۔
***

 

’’جی میل ڈرائیو‘‘ کی اسپیس پندرہ جی بی 15GB سے لیکر پچیس جی بی 25GB تک کی اسپیس فراہم کررہی ہے اور ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ اِس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ 2007ء میں ’’جی میل‘‘ کی اسپیس 0.4 میگا بائٹ MB فی دن اور 145MB میگا بائٹ فی سال کے حساب سے بڑھ رہی تھی اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ یہ رفتار اور بڑھتی جارہی ہے ۔