اوقاف کی ترقی وتحفظ سےبہار میں بَہار ممکن

کیا ہےوقف جائدادوں کوترقی دینے کے نتیش کمار کے دعوؤں کی حقیقت ؟جہدکار راجوجوشی اور محمد ٹی کیفی سے بات چیت

افروز عالم ساحل

 

کوویڈ-19 کئی لوگوں کی زندگی میں اہم تبدیلیاں لے آیا ہے۔ جہاں کروڑوں نوجوان بے روزگار ہوئے تو وہیں کچھ نوجوانوں نے اسی ماحول میں اپنے لیے نئے مواقع تلاش کرلیے۔ انہی نوجوانوں میں سے ایک نوجوان راجو وارثی ہیں۔ ممبئی سے جب ’پلائن‘ کا دور شروع ہوا تو بہار واپس لوٹ کر آنے والوں میں 26 سال کے راجو وارثی بھی شامل تھے۔

راجو وارثی بہار کے ضلع ویشالی کے مہوا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ مظفر پور سے بی کام کی ڈگری حاصل کرکے روزگار کی خاطر ممبئی چلے گئے اور وہاں ایک کنسٹرکشن کمپنی میں کام کرنے لگے۔ لیکن جب ملک میں لاک ڈاؤن ہوا اور ممبئی میں رہنا محال تو انہیں بھی واپس اپنے وطن بہار لوٹنا پڑا۔

گھر آنے کے بعد ایک دن ایک دکان پر گئے جس کے سامنے ایک قبرستان موجود ہے جہاں کچھ لوگ قبرستان سے باہر نکل رہے تھے انہیں پانی کی تلاش تھی۔ تبھی اس دوکاندار نے راجو وارثی کو بتایا کہ یہاں قبرستان کے باہر پانی اور بیت الخلا کی سہولت ہونی چاہیے تاکہ تدفین کے لیے آئے ہوئے لوگوں کو پانی یا حوائج ضروریہ کے لیے پریشانی کا سامنا کرنا نہ پڑے۔ پھر اسی بات چیت میں اس دوکاندار نے راجو وارثی کو یہ بھی بتایا کہ جب یہاں وقف کی اتنی جائیدادیں اور دوکانیں موجود ہیں تو پھر روزگار کے لیے ممبئی جانے کی کیا ضرورت ہے آپ کو تو یہیں رہ کر کچھ کام کرنا چاہیے۔ جب ہم دوسرے گاؤں سے آ کر یہاں کما رہے ہیں تو آپ بھی یہاں بزنس کر سکتے ہیں۔

ہفت روزہ دعوت سے خاص بات چیت میں راجو وارثی بتاتے ہیں کہ اس وقت تک مجھے وقف کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ لیکن یہ ضرور سمجھ میں آیا کہ قبرستان کے باہر پانی کا انتظام ضرور ہونا چاہیے۔ گاؤں کے بڑے بزرگوں سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ قبرستان وقف کا ہے اور اس کی اپنی ایک مقامی کمیٹی بھی ہے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں جو 150 دوکانیں ہیں وہ بھی وقف کی ہی ہیں۔ چونکہ میں ’انصاف منچ‘ سے بطور ڈسٹرکٹ انچارج منسلک ہوا ہوں، اس لیے میں نے اس سلسلے میں ’انصاف منچ‘ سے بات کی اور کہا کہ وہ مجھے اپنا لیٹر پیڈ دیں تاکہ میں وقف بورڈ کو اس تعلق سے ایک میمورنڈم بھیج سکوں۔ لیکن ’انصاف منچ‘ نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ پھر میں نے خود ہی ایک تنظیم بنائی جس کا نام ’انٹرنیشنل یوتھ آف انقلاب‘ رکھا اور مقامی وقف کے تمام معاملات کو سمجھنے کی کوشش شروع کر دی۔

واضح رہے کہ راجو وارثی یہاں نوجوانوں کے درمیان ہمیشہ سے سرگرم رہے ہیں۔ وہ طالب علمی کے زمانے سے ہی ’آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن‘ سے وابستہ ہیں اور یہ وابستگی اب بھی برقرار ہے۔ راجو وارثی کہتے ہیں کہ اس دوران وہ وقف سے متعلق کئی حیران کن حقائق سے آشنا ہوے۔ انہیں معلوم ہوا کہ اس مارکیٹ میں جو 150 دوکانیں ہیں، ان کا کرایہ وقف بورڈ کی طرف سے صرف 200 روپے طے کیا گیا ہے، جبکہ کچھ لوگ انہی دوکانوں کو دوسروں کو دے کر ان سے 2000 روپے کرایہ وصول کر رہے ہیں۔ اس سچ کو جاننے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ تو وقف بورڈ کے ساتھ سراسر دھوکہ ہے۔ اگر وقف بورڈ کے مقامی نمائندے تمام دوکانوں کا کرایہ 2000 روپے ہی وصول کرتے تو اس سے اسٹیٹ وقف بورڈ کو بھی فائدہ ہوتا۔ کیونکہ مقامی وقف بورڈ کو اپنی آمدنی کا 7 فیصد حصہ اسٹیٹ وقف بورڈ کو دینا ہوتا ہے اور پھر یہاں کی مسجد اور قبرستان دونوں کی حالت اتنی بری نہیں ہوتی۔

دراصل یہ پوری کہانی بہار کے ضلع ویشالی کے مہوا کے کنیزالنساء وقف اسٹیٹ کی ہے۔ راجو وارثی کے مطابق اس جائیداد کو 1949 میں وقف کیا گیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ 1960 میں جب سروے ہوا تو کچھ زمین کمیٹی میں شامل لوگوں نے اپنے نام پر لکھوا لی لیکن وقف بورڈ کو اس کی اطلاع نہیں دی۔ 1968 میں پھر سے بہار میں وقف رجسٹریشن کا کام شروع ہوا تب اس زمین کی پیمائش 7 بیگھا اور 8 کٹھا بتائی گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ پیمائش اصل پیمائش سے کافی کم تھی۔ لیکن جب ہفت روزہ دعوت نے وقف بورڈ کی wamsi ویب سائٹ کی چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ یہ وقف اسٹیٹ 1968 میں رجسٹرڈ ہوا ہے۔

راجو وارثی کے مطابق اس وقف اسٹیٹ کی زمین پر ابھی 150 دوکانیں بنی ہوئی ہیں جبکہ اس کے کچھ پلاٹس اب بھی خالی ہیں۔ خالی پلاٹس کافی بری حالت میں ہیں۔ یہاں ہمیشہ پانی بہتا رہتا ہے جبکہ یہ زمین قلب شہر میں واقع ہے۔ یہاں زمین کی قیمت فی کٹھا 1.5 کروڑ روپے ہے۔ اگر اس زمین پر مارکیٹ بنائی جائے تو کم از کم پانچ سو سے زائد دوکانیں بنیں گی اور آسانی سے سب کرایہ پر لگ جائیں گی۔

راجو وارثی کہتے ہیں کہ ہم نے 17 جولائی کو مقامی وقف بورڈ کو ایک میمورنڈم دیا ہے جس میں ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ قبرستان پر لائٹنگ، پانی کا انتظام، کربلا کی زمین کی گھیرابندی، مسجد اور مزار کے رکھ رکھاؤ اور اس کے ترقی کے بارے میں کچھ انتظام کیا جائے۔ ساتھ ہی ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ وقف مارکیٹ میں نئی ملگیات تعمیر کرائی جائیں اور انہیں 80 فیصد اقلیتی نوجوانوں کو کرایہ پر دیا جائے تاکہ وہ بے روزگاری کے اس دور میں تجارت کر سکیں۔ اسی طرح 10 فیصد ملگیاں خواتین کے لیے مختص کی جائیں اور مابقی دیگر طبقات کے لوگوں کو دی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے اس زمین پر مسافر خانہ، شفا خانہ، کتب خانہ، شادی خانہ اور اقلیتی طلبہ کے لیے ہاسٹل بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اور ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ وقف بورڈ کی اس زمین پر جو ناجائز قبضے ہوئے ہیں اسے حاصل کرنے کے لیے ایک لیگل ٹیم تیار کر کے ناجائز قابضین کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے ذریعے وقف نمبر 1332 کی زمین کی پیمائش اور دیگر گھوٹالوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائی جائیں۔

ان مطالبات کے ساتھ مہوا کے مقامی لوگوں نے گزشتہ 20 ستمبر کو دھرنا دیا اور کہا کہ وقف کی زمین اللہ کی امانت ہے، اس لیے وقف کی زمین پر بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ساتھ ہی مقامی لوگوں نے اس بات کی دھمکی بھی دی کہ اگر ان کے تمام مطالبات کو نہیں مانا گیا تو آگے بہار الیکشن کے بعد یہاں عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔

راجو وارثی بتاتے ہیں ان کے میمورنڈم دینے کے بعد کنیزالنساء وقف اسٹیٹ کی دیکھ بھال کر رہے ’مسلم ٹرسٹ مہوا‘ کے لیٹر ہیڈ پر اس کے متولی نے ہمیں جواب دیا ہے۔ ساتھ ہی 14 ستمبر 2020 کو بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے چیئرمین کو اس تعلق سے خط بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے خود ہی خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ پرانی دوکانوں کو توڑ کر نئے سرے سے مال بنانا چاہتے ہیں۔

اس سلسلے میں ہفت روزہ دعوت نے اس وقف کے متولی محمد ٹی کیفی سے بھی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوجوان کو اپنا میمورنڈم وقف بورڈ کو بھیجنا چاہیے تھا اپنے تمام مطالبات وقف بورڈ سے کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے مجھے بھیجا اور میں نے ہی ان کے میمورنڈم کو ایک خط لکھتے ہوئے وقف بورڈ کو بھیج دیا ہے۔
اوقاف کے تحفظ کی تحریک کے بارے میں سوال کرنے پر وہ کہتے ہیں، کیسی تحریک؟ جو لوگ 200 روپے کا کرایہ نہیں دے پا رہے ہیں وہ وقف کی بہتری کی کس منھ سے تحریک چلا رہے ہیں۔ اس بارے میں وہ مزید بتاتے ہیں کہ جس مارکیٹ میں وقف کی 150 دوکانیں ہیں وہاں دیگر دوکانوں کا کرایہ 1500 سے 2500 روپیوں تک ہے لیکن وقف کی دوکانوں کا 200 روپے کرایہ بھی دینے میں مسلمانوں کو آفت آجاتی ہے۔ برسہا برس سے یہ لوگ کرایہ نہیں دیتے صرف اس لیے کہ یہ وقف کی دوکانیں ہیں اور اس کا فائدہ یہاں کے مسلمانوں کو ہونا ہے۔ یہاں کی مسجد و درگاہ کو ہونا ہے۔ ہم نےدوکان کا کرایہ دہائیوں بعد 200 سے بڑھا کر 400 روپے کر دیا تو 27 لوگ کورٹ چلے گئے۔

محمد کیفی سوالیہ انداز میں کہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس زمین ہے تو کون نہیں چاہے گا کہ اس پر ترقیاتی کام ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس ترقیاتی کام کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ یہاں کے مقامی حضرات جو 500 روپے بھی کرایہ دینے کو تیار نہیں ہیں کیا وہ 5 ہزار روپے کا چندہ دینے کو تیار ہوں گے؟

وہ مزید بتاتے ہیں کہ میں نے اس تعلق سے وقف بورڈ کو لکھا ہے کہ تمام پرانی دوکانوں کو توڑ کر نئے سرے سے دکانیں بنوائی جائیں۔ اس کام کے لیے اسٹیٹ وقف بورڈ کچھ مالی تعاون کرے کیونکہ جب دوکانیں زیادہ ہوں گی تو آمدنی بھی زیادہ ہوگی اور اس کا فائدہ وقف بورڈ کو بھی ہوگا۔ میں نے اس تعلق سے بات کرنے کے لیے وقف بورڈ سے ملنے کا وقت بھی مانگا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ وقف بورڈ اس پر کیا کرتا ہے۔ تحریک چلانے والوں کو بھی وقف بورڈ سے ہی رابطہ قائم کرنا چاہیے۔

اس کہانی کی خاص بات یہ ہے اس میں دونوں کی باتوں سے وقف کی حقیقت کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ملک میں وقف کی لڑائیاں چلتی آ رہی ہیں۔ زیادہ تر لڑائیاں وقف جائیدادوں کے ناجائز قبضوں کو لے کر ہیں لیکن بہار کی مہوا کی یہ لڑائی تھوڑی الگ ہے۔ یہ لڑائی وقف کی خالی پڑی ہوئی زمین کے بارے میں ہے کہ ان خالی زمینوں پر ڈیولپمنٹ کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کو اس سے روزگار ملے اور وقف کا جو اصل مقصد ہے وہ حاصل ہو۔

بدل سکتی ہے بہار کے لوگوں کی قسمت

راجو وارثی کا کہنا ہے کہ اگر بہار میں وقف کا صحیح طور پر استعمال ہونے لگے تو یہاں کے مسلمانوں کی قسمت بدل سکتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح مٹھ اور مندر کی جائیدادوں کا بھی اگر صحیح استعمال ہو جائے تو بہار میں بہت کچھ تبدیلی آ سکتی ہے اور سماج کی فلاح و بہبود کے تمام کام ہو سکتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ابھی بھی ملک میں بچی ہوئی وقف جائیدادوں کا صحیح اور ایماندارانہ استعمال شروع ہو جائے تو اس کے ریوینو سے ہر مسلمان کے کھاتے میں تین لاکھ روپے آسکتے ہیں۔ وہیں حکومت اگر ان جائیدادوں پر ترقیاتی کام کروانے لگے تو اس کو اس سے کافی فائدہ ہوگا۔ اور ہاں! پی ایم مودی کا جو ’آتم نربھر بھارت‘ کا خواب ہے وہ بھی پورا ہوگا۔

وہ مزید کہتے ہیں، وقف کی یہ لڑائی اکیلے نہ لڑیں بلکہ پورے منصوبے کے ساتھ منظم انداز میں لڑیں اور اسے سماج کے ہر طبقے کی لڑائی بنائیں۔ یاد رہے کہ ہمارے بزرگوں نے یہ جائیدادیں اس لیے وقف کی تھیں کہ یہ غریبوں و یتمیوں کے کام آئیں گی، ان کی ترقی ہو گی اور وہ سماج میں سب کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں گے۔

ویشالی کے لوگ اب وقف کا مطلب سمجھنے لگے ہیں

راجو وارثی کہتے ہیں کہ اب پورے علاقے میں ہر جگہ لوگ وقف کی بات کر رہے ہیں۔ وقف کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے آس پاس کے لوگوں میں بھی ایک امید جاگی ہے اور وہ بھی وقف کے اصل مقصد سے واقف ہو گئے ہیں اسی لیے اس لڑائی کے درمیان مزید کئی وقف جائیدادوں کی جانکاری ملی۔ مہوا کے قریب ہی 5 بیگھا وقف کی زمین ہے۔ اس وقف جائیداد کی ایک بیگھا زمین پر ابھی بھی قبضہ ہے۔ جلد ہی اس جائیداد پر بھی اسی طرح کی مہم شروع ہوگی۔ وہیں اس بات کی بھی اطلاع ملی ہے کہ اسی مہوا میں 15 بیگھ کا ایک پلاٹ غائب ہے، اس کی چھان بین میں بھی ہم لوگ لگے ہوئے ہیں۔ میرا سوال ہے کہ جب میرے گاؤں میں کم پڑھے لوگ بھی وقف کی اہمیت سمجھنے لگے ہیں تو پڑھے لکھے لوگ اس کی اہمیت کو کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں؟
واضح رہے کہ ضلع ویشالی کے صرف مہوا علاقے میں 17.55 ایکڑ زمین وقف کی ہے۔ اگر ان زمینوں کا صحیح استعمال ہو جائے تو کم از کم مہوا کے مسلمانوں کا بھلا تو ہو ہی سکتا ہے۔

بہار کے دیگر گاؤں میں بھی لوگ ہو رہے ہیں بیدار

وقف جائیدادوں کے بارے میں بہار میں اب آہستہ آہستہ بیداری آرہی ہے۔ گزشتہ ایک مہینے سے میڈیا میں ایسی کئی خبریں آئی ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ ضلع ویشالی کے مہوا کی طرح بہار کے دیگر اضلاع کے دیہاتوں میں بھی لوگ وقف کے مسئلے پر بیدار و حساس ہو رہے ہیں۔

مظفر پور کے نگر تھانہ پولیس اسٹیشن کے کمرہ محلہ میں واقع نواب تقی خان وقف اسٹیٹ کے متولی نے گزشتہ دنوں ضلع کے ڈی ایم اور ایس ایس پی کو ایک خط لکھ کر یہ الزام لگایا ہے کہ اس وقف اسٹیٹ کی زمین پر پچھلے سات سالوں سے کچھ لوگوں نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے تو کچھ لوگ اس زمین کی دیکھ بھال کے نام پر اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ متولی نے انتظامیہ سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس زمین کو تجاوزات سے پاک بنانے کی گزارش کی ہے۔

مظفر پور میں ہی سید محمد کاظم شبیب گزشتہ 7 سالوں سے وقف جائیدادوں کو بچانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ مظفر پور سمیت بہار میں ہزاروں ایکڑ اراضی شیعہ وقف بورڈ کے پاس تھی لیکن رفتہ رفتہ ان قیمتی زمینوں کا رقبہ وقف بورڈ کے عہدیداروں اور لینڈ مافیا کی وجہ سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ وقف کے نگراں یعنی متولی خود لینڈ مافیاؤں کے ساتھ مل کر وقف کی زمین بیچ رہے ہیں۔ اس کے لیے سرکاری ریکارڈوں سے دستاویزوں کو غائب کیا جا رہا ہے۔ اب یہاں شیعہ برادری بھی وقف شدہ جائیدادوں کو بچانے کے لیے پُر عزم ہے۔

کشن گنج کے چھترگاچھ میں واقع وقف زمین کے کچھ حصے پر غیر قانونی قبضہ کرکے ان پر تجاوزات کیے گئے ہیں۔ اس وقف کے متولی نے ان تجاوزات کے بارے میں انتظامیہ سے درجنوں بار شکایت کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کر رہا ہے جبکہ اس معاملے میں پٹنہ ہائی کورٹ کے ذریعے بھی تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا جا چکا ہے۔اس دوران بہار کے سیوان سے یہ خبر آئی ہے کہ یہاں کے دروندہ بلاک کے ابھوئی گاؤں میں مقامی افراد کی کئی برس کی طویل جدو جہد کے بعد جس قبرستان کی چہار دیواری 4 سال میں مکمل ہوئی تھی ایک بار پھر سے وہ ٹوٹ چکی ہے جس کی وجہ سے یہ قبرستان اب شرپسندوں کے نشانے پر ہے۔

روزنامہ انقلاب کے صحافی جاوید اختر بتاتے ہیں کہ شیعہ وقف بورڈ میں رجسٹرڈ 7 کٹھا پر محیط اس قبرستان کی چہار دیواری کے لیے سال 2011 میں 9 لاکھ 12 ہزار روپے کی رقم مختص کی گئی تھی۔ چہار دیواری کا کام 2 قسطوں میں 2 ایجنسیوں کے ذریعہ انجام دیا گیا تھا مگر تعمیر کا کام مکمل ہونے کے چند مہینے کے بعد ہی قبرستان کی دیوار کا ایک بڑا حصہ زمیں بوس ہوگیا۔ شیعہ وقف بورڈ نے 3 اگست 2017 کو اس معاملے کی جانچ اور کارروائی کے لیے درخواست دی اور اس کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کیا۔ جب کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو شیعہ وقف بورڈ نے 21 اگست کو محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود سے رجوع کیا اور کارروائی کے لیے تحریری شکایت بھی درج کروائی لیکن محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود کی تحریری شکایت پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ مقامی افراد کی دوڑ دھوپ کے باوجود ضلع انتظامیہ کی سرد مہری اور عدم دلچسپی کی وجہ سے اب تک اس کی دوبارہ تعمیر نہیں کرائی گئی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق چہار دیواری ٹوٹ جانے سے قبرستان کی حرمت پامال ہونے اور حالات کشیدہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خاص بات چیت میں روزنامہ انقلاب کے سینئر صحافی جاوید اختر نے بتایا کہ بہار میں وقف جائیدادوں میں خرد برد کرنے میں اہم رول یہاں کا وقف بورڈ ہی ادا کر رہا ہے ۔ پچھلے پانچ سالوں میں میری رپورٹنگ کے درمیان کئی ایسے معاملے سامنے آئے کہ وقف جائیداد کے معاملے میں سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد بھی یہاں کے سنی وقف بورڈ نے ناجائز قبضہ ہٹوانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ وہیں شیعہ وقف بورڈ نے قبضہ تو ہٹوایا لیکن پھر انہی قبضہ کرنے والوں کو وہی زمین لیز پر دے دی۔ ایسے میں بہار حکومت وقف جائیدادوں کے معاملے میں کتنی سنجیدہ ہے، اس کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔

وقف بورڈ کے چیئرمین پر گھوٹالے کا الزام

شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین ارشاد علی آزاد کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ ان کے نام کے آگے سابق چیئرمین لگتے ہی ان پر وقف جائیدادوں کو خرد برد اور وقف ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے کا سنگین الزام لگا ہے۔ اور یہ الزام کسی فرد واحد یا کسی تنظیم نے نہیں بلکہ خود شیعہ وقف بورڈ نے ہی لگایا ہے۔ وقف بورڈ کے سی ای او کی جانب سے 9 ستمبر 2020 کو جاری ایک مکتوب میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 3 ستمبر کو 5 سالہ مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل چیئرمین ارشاد علی آزاد نے لیٹر نمبر 1434, 1436, 1440, 1442 اور 1443 مورخہ 2 ستمبر 2020 کے ذریعے وقف اسٹیٹ نمبر 35، وقف اسٹیٹ نمبر 7، وقف اسٹیٹ نمبر 35، وقف اسٹیٹ نمبر 5 (اے)، پٹنہ میں تعمیر شدہ دکانوں اور مکانوں کو تین سال کے لیے لیز ایگریمنٹ کا حکم دیا گیا ہے۔ مذکورہ حکم ناموں میں کرایہ بھی طے کر دیا گیا ہے اور پیشگی رقم لیے جانے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ جس کا بورڈ کے دفتر میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ضابطے کی کارروائی کیے بغیر کرایہ طے کیا جانا غیر قانونی ہے۔

سی ای او زین الدین انصاری کے دستخط سے جاری کردہ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم نامے براہ راست چیئرمین کے دستخط سے جاری کیے گئے ہیں جبکہ وقف بورڈ میں ایسا کوئی دستور نہیں ہے۔ حکم نامے سی ای او اور مجاز افسران کے دستخط سے جاری ہوتے ہیں۔ اس لیے متذکرہ بالا تمام حکم ناموں پر فوری اثر سے روک لگائی جاتی ہے۔

واضح ہو کہ وقف ایکٹ 1995 (ترمیم 2013) کی دفعہ 27 اور 32(2)(J) کے تحت چیئرمین کو وقف جائیداد کو اس طرح لیز پر دینے کا حق نہیں ہے۔

وقف کے سہارے الیکشن جیتنا چاہتے ہیں نتیش کمار

بہار میں وقف کی جو بھی حالت ہو۔ لیکن حکومت ہر طرح سےاس وقف کا فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ایسے میں بہار الیکشن میں حکومت یہ موقع کیسے گنوا سکتی ہے۔ سی ایم نتیش کمار اور ان کے مسلم نیتا لگاتار وقف کی بات کر رہے ہیں۔ 7 ستمبر کو اپنے ایک ورچوئل ریلی میں نتیش کمار اپنی حکومت کی کامیابیوں کو گنا رہے تھے۔ اس میں بھی وہ مسلم ووٹوں اپنی طرف کرنے کے لیے وقف کا ذکر کرنا نہیں بھولے۔

انہوں نے کہا کہ بہار میں وقف جائیدادوں کو ترقی دی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال ماہ ستمبر میں ہی نتیش کمار نے بہار کے ہر ضلع میں وقف بورڈ کی عمارت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن وقف کی یہ عمارت کہیں بھی تعمیر ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ نتیش کمار کے رحم وکرم پر پل رہے مسلم لیڈر دن رات بہار کے 17 فیصدی مسلم ووٹروں کو رجھانے کے لیے اپنی حکومت کی ’کامیابیاں‘ گنانا نہیں بھول رہے ہیں۔ کامیابیوں کو گنواتے ہوئے وہ وقف کی ترقی کے بارے میں بات کرنا نہیں بھولتے۔ جے ڈی یو کے ان مسلم قائدین کا دعویٰ ہے کہ جے ڈی یو کا بھلے ہی بی جے پی سے اتحاد ہے لیکن نتیش کمار نے اقلیتوں کی فلاح کے تعلق سے کافی کام کیا ہے۔

ایک خبر کے مطابق بہار سنی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین اور جے ڈی یو کے سنیئر لیڈر محمد ارشاد اللہ کی قیادت میں ایک ٹیم بہار کے مختلف اضلاع کا دورہ کر کے نتیش کمار کی جانب سے اقلیتوں کے لیے کیے گئے کاموں کو بتا رہی ہے۔ ان کاموں میں خاص طور پر وقف کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ 14 اگست 2020 کو بہار مائناریٹی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر عامر آفاق احمد فیضی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میڈیا سے بات چیت کی۔ اس بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ اور بہار اسٹیٹ شیعہ وقف بورڈ کے تحت رجسٹرڈ وقف کی جائیداد کی ترقی کے لیے ’بہار اسٹیٹ وقف ترقیاتی اسکیم‘ شروع کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت وقف بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ اوقاف کی ترقی کے لیے کثیر مقصدی عمارت، مسافر خانہ، میرج ہال، وقف آفس، مارکیٹ کمپلیکس کی تعمیر و دیکھ بھال سے متعلق کام انجام دیے جائیں گے۔

سچ تو یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ملک میں وقف کی لڑائیاں چلتی آ رہی ہیں۔ زیادہ تر لڑائیاں وقف جائیدادوں کے ناجائز قبضوں کو لے کر ہیں لیکن بہار کی مہوا کی یہ لڑائی تھوڑی الگ ہے۔ یہ لڑائی وقف کی خالی پڑی ہوئی زمین کے بارے میں ہے کہ ان خالی زمینوں پر ڈیولپمنٹ کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کو اس سے روزگار ملے اور وقف کا جو اصل مقصد ہے وہ حاصل ہو۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 18-24 اکتوبر، 2020