کيا ہےگيان واپی مسجد کی تاريخ؟

ہندوتوعناصر کے شرپسند دعوے مورخين کي رائے اور تاريخي حقائق سے ميل نہيں کھاتے

- الإعلانات -

افروز عالم ساحل

مفتي بنارس اور شاہي جامع مسجد گيان واپي کے امام و خطيب مفتي عبدالباطن نعماني اپني کتاب ’جامع مسجد گيان واپي : تاريخ کے آئينے ميں‘ ميں لکھتے ہيں، ’تاريخي اعتبار سے يقيني طور پر تو يہ نہيں پتہ چلتا کہ اس مسجد کا اصل باني کون ہے اور اس کا سنگ بنياد کب رکھا گيا؟ تاہم اتنا ضرور ہے کہ مغليہ سلطنت کے ايک بادشاہ جلال الدين محمد اکبر جن کا دور حکومت سن 1556 تا 1605 ہے، اس دور ميں بھي يہ جامع مسجد موجود تھي اور اس ميں باضابطہ نمازيں ادا کي جاتي تھيں۔ اس کا ايک تاريخي ثبوت يہ ہے کہ اس دور ميں بنارس کے ايک مشہور بزرگ، ولي کامل، قطب بنارس حضرت مخدوم شاہ طيب بنارسي ؒ (متوفيٰ1633) پابندي سے نماز جمعہ اسي جامع مسجد ميں ادا کرتے تھے۔ گنج ارشدي نامي کتاب ميں اس دور کا ايک واقعہ مذکور ہے۔

وہ لکھتے ہيں گنج ارشدي نامي کتاب آج سے تقريباً ساڑھے چار سو سال قبل کي تاليف ہے۔ يہ کتاب شيخ محمد ارشد نامي بزرگ کے ملفوظات کا فارسي ترجمہ ہے جسے ان کے مريد شيخ شکراللہ نے جمع کيا تھا۔ اس کتاب کا قلمي نسخہ خانقاہ رشيديہ جونپور کے کتب خانے ميں تھا، جسے خاکسار راقم الحروف کے والد ماجد مولانا مفتي عبدالسلام نعماني ؒ (متوفيٰ 1987) نے ديکھا اور اس سے استفادہ بھي کيا ہے۔‘

تازہ شمارہ

مفتي عبدالباطن نعماني اپني کتاب ميں مزيد لکھتے ہيں، ’اس مسجد کي تاسيس سے متعلق ايک بات يہ بھي کہي جاتي ہے کہ سلطان ابراہيم شاہ شرقي (متوفيٰ 1440) جونپور کے صدرالصدور قاضي صدر جہاں اور ان کے ايک متمول شاگرد شيخ سليمان محدث نے نويں صدي ہجري ميں عالمگير بادشاہ (متوفيٰ 1707) کے جدامجد ہمايوں بادشاہ (متوفيٰ 1556) کے عالم وجود ميں آنے کے بہت پہلے بنوائي ہے۔۔۔‘ يہ بات انھوں نے کتاب ’تذکرۃ المتقين‘ کے حوالے سے لکھي ہے۔

مفتي نعماني اپني کتاب ميں ايک جگہ لکھتے ہيں، ’اکبر کے بيٹے جہانگير (متوفيٰ 1627) ميں بھي يہ مسجد اسي طرز پر قائم رہي اور اس ميں کسي طرح کي ترميم و تنسيخ نہيں ہوئي، البتہ جہانگير کے بيٹے شاہجہاں (متوفيٰ 1657) نے اپنے دور حکومت 1048ھ يعني سن 1638 ميں جامع مسجد کي پشت پر واقع کھنڈر کي زمين پر ’ايوان شريعت‘ نامي ايک مدرسہ قائم کيا تھا جس ميں علوم دينيہ کي تعليم دي جاتي تھي۔ جس عمارت ميں مدرسہ چلتا تھا وہ بہت پہلے منہدم ہو کر کھنڈر کي شکل اختيار کر گئي۔ ليکن اب سے چاليس سال قبل تک مسجد کے دالان ميں مدرسہ چلتا تھا۔ اب اس مدرسہ کا نام و نشان بھي باقي نہيں ہے۔ مدرسہ مذکور کے قيام کا ايک ثبوت يہ بھي ہے کہ سال 1922 ميں انہي کھنڈرات ميں سے ايک سہ رخا پتھر دستياب ہوا جس پر ’ايوان شريعت‘ کندہ تھا، ساتھ ہي 1048ھ بھي لکھا تھا۔ تقريباً چاليس سال قبل تک يہ پتھر انجمن انتظاميہ مساجد کے دفتر ميں موجود تھا، ليکن کچھ نامساعد و افسوس ناک حالات کا شکار ہو کر يہ پتھر بھي ضائع ہو چکا ہے۔‘

وہ يہ بھي لکھتے ہيں، ’بہت سارے لوگوں کو ايک غلط فہمي يہ ہے کہ اس مسجد کا سنگ بنياد اورنگ زيب عالمگيرؒ (متوفيٰ 1707) کے عہد حکومت ميں رکھا گيا اور اس کے اصل باني بھي وہي ہيں جب کہ اس مسجد کا مختلف حوالہ سے اکبر کے دور حکومت ميں بھي موجود ہونا ثابت کيا جا چکا ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ شہنشاہ اورنگ زيب عالمگيرؒ نے 1658 ميں اس کي تعمير نو کرائي ليکن درحقيقت يہ تعمير اصل تعمير نہيں ہے بلکہ پراني بنياد پر از سر نو تعمير تھي۔ اسي طرح مسجد سے برآمد ايک سنگي کتبے سے بھي کچھ لوگوں کو غلط فہمي ہوئي ہے کہ يہ مسجد عہد عالمگير ميں تعمير ہوئي۔ کتبہ کي عبارت اس طرح ہے : ’’ اول بحکم والا در 2 ازجلوس حضرت عالمگير خلد مکاں ايں جامع مسجد تعمير شدہ بعدہ در 1207 ھ سيد ميراث علي متولي موروثي مسجد موصوفہ مرمت صحن وغيرہ نمود‘‘ اس کتبے کي عبارت سے ظاہر ہے کہ يہ 1207 ھ نصب کيا گيا ہے اور اس ميں لاعلمي يا کسي اور سبب سے يہ لکھ ديا گيا کہ يہ مسجد اورنگ زيب عالمگير ؒ کے تخت سلطنت پر بيٹھنے کے بعد تعمير ہوئي ليکن تاريخي اعتبار سے اس کي تصديق نہيں ہوتي۔ واضح ہو کہ سيد ميراث علي انگريزي دور حکومت ميں جامع مسجد گيان واپي کے متولي تھے۔ يہ کتبہ 1207 ھ ميں انھوں نے ہي نصب کرايا تھا، کچھ عرصہ قبل تک يہ کتبہ جامع مسجد کے منبر پر رکھا ہوا تھا ليکن افسوس کہ اب وہاں سے غائب کر ديا گيا ہے، جس کي وجہ باوجود تحقيق کے معلوم نہ ہو سکي۔‘

مفتي نعماني اپني کتاب ميں ايک جگہ لکھتے ہيں، ’جو لوگ جامع مسجد گيان واپي کو مندر توڑ کر بنائے جانے کا دعويٰ کرتے ہيں اور اپنے دعوے کي ايک دليل يہ بھي پيش کرتے ہيں کہ جامع مسجد کے مغربي جانب جو محرابي نشان ہے وہ اسي مسمار شدہ مندر کا حصہ ہے، جب کہ حقيقت يہ ہے کہ اس مقام کے متعلق مختلف بيانات ہيں اور خود ہندو بھي اس اختلاف ميں شامل ہيں۔ اس کے علاوہ اس نشان سے خود اس بيان کي ترديد ہوتي ہے کہ اگر مندر کے مقام پر يہ مسجد ہوتي تو يہ نشان کيوں باقي رہ جاتا؟ اس کو بھي مسمار کر ديا گيا ہوتا۔۔۔‘

کيا کہتے ہيں مورخ و ديگر مصنف؟

اورنگ زيب کے دور حکومت ميں فرانس کے ڈاکٹر فرانسس برنيئر نے ہندوستان کا سفر کيا اور فرانسيسي زبان ميں اپنا سفر نامہ لکھا، ان کا يہ سفر نامہ سال 1670 ميں شائع ہوا۔ 1826 ميں ارونگ بروک نے اس کتاب کا انگريزي ميں ترجمہ کيا۔ يہ کتاب دو جلدوں ميں دستياب ہے۔ يہ کتاب اردو ميں بھي موجود ہے۔ اس سفر نامہ کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ فرانسس برنيئر نے بنارس کا بھي دورہ کيا تھا اور وہاں کے سب سے بڑے پنڈت سے ملاقات بھي کي تھي۔ اس ملاقات کا تفصيلي ذکر اس کتاب ميں موجود ہے، ليکن کہيں اس ميں مندر توڑے جانے کا ذکر نہيں ملتا۔

پٹنہ يونيورسٹي ميں شعبہ تاريخ ميں پروفيسر رہ چکے ڈاکٹر اوم پرکاش پرساد اپني ريسرچ پر مبني کتاب ’اورنگ زيب: ايک نئي درشٹي‘ ميں لکھتے ہيں کہ ’بنارس کے کاشي وشوناتھ کے مندر کو توڑنے اور اس پر مسجد بنانے کا الزام اورنگ زيب پر لگايا جاتا ہے، جس کا کوئي ٹھوس ثبوت موجود نہيں ہے۔‘ ڈاکٹر اوم پرکاش پرساد کي يہ کتاب ہندي زبان ميں سال 1987 ميں خدا بخش اورينٹل پبلک لائبريري پٹنہ نے شائع کي ہے۔ وہ مزيد لکھتے ہيں کہ ’اورنگ زيب کو بنارس ميں کاشي وشوناتھ کے مندر کو توڑنے کا ذمہ دار بتايا گيا، جب کہ ايک بھي ثبوت ايسا نہيں ملا جس سے يہ ثابت ہو سکے کہ اس مندر کو اورنگ زيب نے تباہ کيا تھا۔ کئي مندر ہندو حکم رانوں نے خود تباہ کيے، ليکن ان پر کوئي خاص تنقيد نہيں کي گئي۔ يہاں ايک سيدھا سا سوال اٹھايا جا سکتا ہے کہ صرف بنارس اور متھرا ميں ہي مندروں کي تباہي کيوں؟ کيا ہندوستان کے دوسرے حصوں ميں بڑے بڑے مندر نہيں تھے؟ جنوبي ہندوستان اب بھي بڑے مندروں کے ليے دنيا ميں مشہور ہے۔ دوسرا سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ اگر اورنگ زيب ايک کٹر مسلمان تھا اور اسلامي شريعت کے مطابق مذہبي اور سماجي کام کرنے والا تھا تو کيا شريعت مندر کو گرانے اور اس پر مسجد بنانے کي اجازت ديتي ہے؟ شريعت ميں واضح طور پر کہا گيا ہے کہ کسي دوسرے کي زمين يا مذہبي مقام چھين کر يا ناجائز قبضے ميں لے کر مسجد بنانا غير شرعي ہے۔ کيا مغل حکم رانوں کے پاس زمين اتني کم تھي کہ انھوں نے مندروں کو گرانا ضروري سمجھا؟ اورنگ زيب کے ماتحت تو ملک کا سب سے بڑا علاقہ تھا۔ اسے کہيں بھي مسجد کي تعمير ميں سہولت ہو سکتي تھي۔ ہميں يہ بھي معلوم ہونا چاہيے کہ اورنگ زيب کو مساجد بنانے کا خاص شوق نہيں تھا۔ اس کے دور ميں اکثر مساجد کي مرمت کي گئي۔‘

اپني کتاب ميں وہ ايک جگہ لکھتے ہيں، ’مسلمانوں سے زيادہ مندروں کو لوٹنے کا کام ہندو حکم رانوں نے کيا ہے۔ کسي مسلمان حکم ران کے دور ميں مندروں کو لوٹنے کا کوئي محکمہ تھا۔ جب کہ بارہويں صدي ميں کشمير کے ہرشا نامي حکم ران نے مندروں کي لوٹ مار کا ايک الگ محکمہ بنايا تھا جس کا کام ہي مندروں کو لوٹنا تھا۔‘

ڈاکٹر اوم پرکاش پرساد مزيد لکھتے ہيں، ’اورنگ زيب نے اپني حکومت کے آغاز ميں ہي شريعت کے مطابق ہندو مندروں، يہودي عبادت گاہوں اور گرجا گھروں کي حمايت کي۔ اس نے ايک اصول بنايا کہ کوئي پرانا مندر نہيں گرايا جائے البتہ نئے مندروں کي تعمير پر روک لگائي، ليکن پرانے مندروں کي مرمت کي اجازت دي اور چندہ بھي ديا۔‘ ڈاکٹر بي اين پانڈے نے بھي اپني کتاب ميں بتايا ہے کہ بادشاہ اورنگ زيب نے ہندو مندروں اور مٹھوں کو گرانٹ بھي ديا ہے۔

ڈاکٹر پرساد لکھتے ہيں، ’بنارس فرمان کے نام سے مشہور فرمان کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ يہ بنارس کے گوري محلہ ميں مقيم ايک برہمن خاندان کو جاري کيا گيا تھا جس کي مکمل تفصيلات پہلي بار 1911 ميں جرنل آف رائل ايشياٹک سوسائٹي آف بنگال ميں شائع ہوئي تھيں۔ 10 مارچ 1659 کو اورنگ زيب کے اس حکم نامے کے مطابق ايک مسلمان ہندو مندر کو گرا کر اسے عوامي جگہ بنانا چاہتا تھا ليکن اورنگ زيب نے اسے روک ديا۔ کچھ دوسرے فرمانوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اورنگ زيب چاہتے تھے کہ بنارس کے ہندو پرامن زندگي گزاريں۔ ايک خاص موقع پر جب دھيرج راجہ رام سنگھ نے اورنگ زيب کو درخواست بھيجي کہ بھگوت گوسائين نامي مذہبي پجاري کے ليے دريائے گنگا کے کنارے بادشاہ کے والد کے زمانے سے ہي ايک مکان بنوايا گيا تھا ليکن اب کچھ مسلمان گوسائيں کو پريشان کر رہے تھے تو اورنگ زيب نے ماتحت افسروں کو حکم ديا کہ ہندو مت اور ہندوؤں کے درميان امن کي فضا پيدا کرنے ميں تمام مسلمان تعاون کريں۔ 1934 کے الٰہ آباد ہائي کورٹ کيس کے ايک دستاويز کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اورنگ زيب مسلمانوں کے ناجائز قبضے کے خلاف تھے۔ بنارس کے رہنے والے جگمل اور ارجنمل نے اورنگ زيب کو درخواست دي کہ ان کے پانچ مکانات پر بنارس کے ايک مسلمان نذير بيگ نے زبردستي قبضہ کر ليا ہے۔ اس سلسلے ميں اورنگ زيب نے 1672 ميں حکم جاري کيا کہ اگر جگمل اور ارجنمل کي بات درست ہے تو نذير بيگ کو کبھي بھي ان گھروں ميں داخل بھي نہ ہونے ديا جائے۔‘

وہيں ڈاکٹر بشمبھر ناتھ پانڈے (بي اين پانڈے) جو ايک تاريخ دان، رکن پارليمنٹ، اسکالر اور اڈيشہ کے گورنر رہ چکے ہيں، اور مولانا مفتي عطاء الرحمٰن قاسمي اپني مشترکہ کتاب ’ہندو مندر اور اورنگزيب کے فرامين‘ ميں لکھتے ہيں ’وشوناتھ مندر کا قصہ يوں ہے کہ بنگال جاتے ہوئے اورنگ زيب جب بنارس کے قريب سے گزرا تو ہندو راجاؤں نے جو اس کے خدم و حشم ميں سے تھے اورنگ زيب سے وہاں ايک روز قيام کي درخواست کي تاکہ ان کي رانياں بنارس ميں گنگا اشنان اور وشوناتھ ديوتا کي پوچا کر سکيں۔ اورنگ زيب فوراً راضي ہو گيا اور ان کي حفاظت کے ليے بنارس تک کے پانچ ميل کے راستے پر فوج کي ٹکريوں کو تعينات کر ديا۔ رانياں پالکيوں ميں سوار تھيں۔ گنگا اشنان سے فارغ ہو کر وہ پوجا کے ليے وشوناتھ مندر روانہ ہوئيں۔ پوجا کے بعد سوائے، ايک مہاراني کے تمام رانياں واپس آگئيں۔ مہاراني کي تلاش ميں مندر کے پورے حدود چھان ڈالے گئے، ليکن اس کا پتہ نہ چل سکا۔ اورنگ زيب کو اس واقعہ کي اطلاع ملي تو وہ سخت ناراض ہوا اور اس نے اپنے اعليٰ عہديداروں کو راني کي تلاش ميں بھيجا۔ بالآخر وہ گنيش کي مورتي کے پاس پہنچے جو ديوار ميں نصب تھي اور جو اپني جگہ سے ہلائي جا سکتي تھي۔ اس کو حرکت دينے پر انہيں سيڑھياں نظر آئيں جو کسي تہہ خانے ميں جاتي تھيں، وہاں انھوں نے ايک دہشت ناک منظر ديکھا۔ راني کي عزت لوٹي جا چکي تھي اور وہ زار و قطار رو رہي تھي۔ يہ تہہ خانہ وشوناتھ ديوتا کي نشست کے عين نيچے واقع تھا۔ اس پر تمام راجاؤں نے غضبناک ہو کر سخت احتجاج کيا، چوں کہ جرم نہايت قبيح تھا، اس ليے راجاؤں نے مجرم کو عبرت ناک سزا دينے کا مطالبہ کيا۔ اورنگ زيب نے حکم ديا کہ چوں کہ وہ جگہ ناپاک ہو چکي ہے اس ليے وشوناتھ کے بت کو وہاں سے کسي اور جگہ منتقل کر ديا جائے، مزيد يہ کہ مندر کو زمين بوس کرديا جائے اور مہنت کو گرفتار کرکے سزا دي جائے۔‘ انھوں نے اس واقعے کا حوالہ ديتے ہوئے لکھا ہے، ’ڈاکٹر پي ايل گپتا کے دستاويزي ثبوت کي بنا پر ڈاکٹر پٹابھي سيتاراميا کو جو پٹنہ ميوزيم کے سابق مہتمم ہيں اس کا ذکر اپني مشہور تصنيف ’فيدرس اينڈ اسٹونس‘ ميں کرتے ہوئے اس واقعے کي توثيق کي ہے۔

مولانا وحيدالدين خان نے اپني کتاب ’انڈين ملسمس : دي نيڈ فار اے پوزيٹيو آؤٹ لک‘ ميں لکھتے ہيں، ’ليڈروں کا کہنا ہے کہ گيان واپي کے نام سے جو مسجد ہے اس کو اورنگ زيب نے ايک مندر کو توڑ کر بنايا تھا۔ اس ليے ہم اس کو ختم کريں گے اور اس کي جگہ پر دوبارہ ايک مندر کي تعمير کريں گے۔ اپنے اس منصوبہ کو وہ لوگ ’’تاريخ کي تصحيح‘‘ کا نام ديتے ہيں۔ اس سے قطع نظر کہ بنارس کي مذکورہ مسجد کے بارے ميں يہ دعويٰ صحيح ہے يا غلط، تاريخ کي تصحيح کا يہ نظريہ آج عالمي سطح پر رد کيا جا چکا ہے۔ اس قسم کا نظريہ اختيار کرنا درحقيقت مذہبي تعذيب (Religious Persecution) کے دور کو نئے نام کے ساتھ واپس لانا ہے جس کو موجودہ زمانہ ميں صرف دور وحشت کي چيز سمجھا جاتا ہے۔ يہ نظريہ اپني حقيقت کے اعتبار سے فناٹسزم ہے نہ کہ في الواقع تاريخ کي تصحيح۔۔۔‘

وہ اپني کتاب ميں ايک جگہ لکھتے ہيں، ’قديم زمانہ ميں مذکورہ قسم کے واقعات ہر جگہ پيش آئے ہيں۔ اس ليے اگر تصحيح تاريخ کے اس اصول کو اختيار کيا جائے تو وہ کسي ايک گروہ پر نہيں رکے گا بلکہ وہ ہر گروہ تک جا پہنچے گا۔ اور پھر اس کے نتيجے ميں جو چيز حاصل ہوگي وہ تاريخ کي تصحيح نہيں ہوگي بلکہ صرف تاريخ کي تخريب ہوگي۔ يہ ماضي کو لينے کے نام پر حال کو کھو دينا ہوگا۔ حقيقت يہ ہے کہ اس تحريک کے علم برداروں کے ليے يہاں انتخاب دوبارہ مسجد اور تصحيح تاريخ ميں نہيں ہے، بلکہ مسجد اور مکمل تباہي ميں ہے۔‘

مولانا وحيدالدين خان نے اپني کتاب ميں ہفت روزہ فرنٹ لائن کے رپورٹر وينکٹيش راما کرشنن کي ايک رپورٹ جو 29 جنوري 1993 کو فرنٹ لائن کے شمارے ميں شائع ہوئي تھي، کا حوالہ ديتے ہوئے لکھا ہے کہ ’وينکٹيش راما کرشنن نے بنارس جاکر اس معاملہ کي تحقيق کي ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اجودھيا کي طرح متھرا اور بنارس ميں بھي جھگڑے کي بنياد حقيقت پر مبني نہيں ہے، وہ صرف افسانہ پر مبني ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ہندتوا کے علم بردار يہ کہتے ہيں کہ گيان واپي مسجد جو کہ کاشي وشوناتھ مندر کے پاس ہے، اس کو ايک مندر کو توڑ کر بنايا گيا تھا۔ مگر اس دعوے کے حق ميں ان کے پاس کوئي واضح ثبوت موجود نہيں۔ حتي کہ اس سلسلے ميں مہنتوں کے بيانات بھي يکساں نہيں۔ مختلف مہنت مختلف باتيں کہتے ہيں۔ مثلاً پنڈت رام شنکر ترپاٹھي کہتے ہيں کہ اصل مندر رضيہ بيگم کي مسجد کي جگہ تھا، جو کہ گيان واپي مسجد سے دو کلوميٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ پنڈت کيلاش پتي تيواري گيان واپي مسجد ہي کو قديم مندر کا اصل مقام بتاتے ہيں، مگر ان کے پاس اس کا کوئي تاريخي ريکارڈ نہيں۔ کچھ اور مہنت يہ کہتے ہيں کہ اصل وشوناتھ مندر وشيشور گنج ميں تھا۔ يہ مقام بھي گيان واپي مسجد سے دو کلو ميٹر دور ہے۔ اس کے علاوہ اور بھي کئي رائيں ہيں۔ مگر تاريخي دستاويزات کسي کے پاس بھي نہيں۔۔۔ تاريخ بتاتي ہے کہ بنارس کے سنتوں اور پنڈتوں سے مغل بادشاہ اورنگ زيب سے اچھے تعلقات تھے ايسے ميں اس نے مندر کو کيوں ڈھايا؟ يہ بات سمجھ ميں نہيں آتي۔ مزيد يہ کہ موجودہ وشوناتھ مندر کو اندور کي مہاراني اہليا بائي ہولکر نے 1777 ميں بنوايا تھا۔ اس وقت ايک تجويز تھي کہ گيان واپي مسجد کو ڈھا ديا جائے۔ مہاراني نے بنارس کے پنڈتوں سے رائے لي۔ لوک پتي ترپاٹھي کے بيان کے مطابق، پنڈتوں نے اس کي مخالفت کي، کيونکہ ان کے نزديک کسي دوسرے فرقہ کي عبادت گاہ کو ڈھا کر وہاں مندر نہيں بنايا جا سکتا۔ چناں چہ يہ تجويز ختم ہو گئي۔‘

گيان واپي مسجد کا نہيں بلکہ محلے کا نام ہے!

بنارس کي اس مسجد کا نام ’گيان واپي‘ نہيں، بلکہ ’جامع مسجد‘ ہے۔ اس بارے ميں مفتي نعماني اپني کتاب ميں لکھتے ہيں، ’عام تاثر يہ ہے کہ ’گيان واپي‘ مسجد ہي کا نام ہے، حالاں کہ يہ تاثر غلط ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ يہ مسجد جہاں واقع ہے اس محلے کا نام گيان واپي ہے، اور اسي مناسبت سے يہ گيان واپي مسجد کے نام سے مشہور ہے۔‘

مسجد، يو پي سني وقف بورڈ کے تحت ہے

جامع مسجد گيان واپي کے امام و خطيب مفتي عبدالباطن نعماني اپني کتاب ’جامع مسجد گيان واپي : تاريخ کے آئينے ميں‘ ميں لکھتے ہيں، ’1936 ميں جامع مسجد کے متولي دين محمد صاحب نے جامع مسجد کي ملکيت وغيرہ کے تعلق سے بنارس کي عدالت ميں مقدمہ دائر کيا تھا جس کا 1937 ميں جج نے فيصلہ ديا کہ مسجد اوپر سے نيچے تک سني مسلم وقف ہے۔‘ غور طلب بات ہے کہ سال 1936 ميں اس مسجد کے معاملے ميں ايک درخواست عدالت ميں دائر کي گئي تھي، اس معاملے کا فيصلہ اگلے سال 1937 ميں آيا اور عدالت نے اسے مسجد کے طور پر قبول کيا تھا۔

سال 2020 ميں گيان واپي مسجد احاطہ کا محکمہ آثار قديمہ کے ذريعہ سروے کرانے کي اپيل پر سني سنٹرل وقف بورڈ کي جانب سے سماعت کرنے والے کورٹ کے دائرۂ اختيار کو چيلنج کيا گيا۔ سني وقف بورڈ کے وکيل کا کہنا ہے ’’وقف ايکٹ کے مطابق وقف املاک سے متعلق معاملوں کي سماعت سول کورٹ نہيں کر سکتا، وقف ٹريبونل ہي کو سماعت کا حق ہے۔‘‘ ليکن ميڈيا ميں شائع ہونے والي رپورٹوں کے مطابق، فريقين کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے يہ کہتے ہوئے کہ وقف ٹريبونل کو وقف املاک سے متعلق غير مسلم کي جانب سے داخل کيے گئے مقدمہ کي سماعت کا حق نہيں ہے، سروے کرائے جانے کي تاريخ مقرر کردي گئي۔

اب ايک ہندوتوا تنظيم کي جانب سے وارانسي کے ايک سول جج کے سامنے ايک عرضي دائر کي گئي ہے جس ميں مسلمانوں کے گيانواپي مسجد کے احاطے ميں داخلے پر پابندي لگانے کا مطالبہ کيا گيا ہے۔ اس تنظيم نے يہ بھي مطالبہ کيا ہے کہ ہندوؤں کو اس شيولنگ کي پوجا کرنے کي اجازت دي جائے جس کا ايک ويڈيو سروے کے دوران مسجد کے وضو خانے ميں پائے جانے کا دعويٰ کيا گيا ہے۔ واضح ہو کہ 20 مئي کو گيانواپي مسجد کي مغربي ديوار کے پيچھے پوجا کرنے کے ليے ہندو مدعيان کي طرف سے دائر کيے گئے ايک مقدمے کو سپريم کورٹ نے معاملے کي پيچيدگي کا حوالہ ديتے ہوئے دواکر کي عدالت سے وارانسي کي ضلعي عدالت کو منتقل کر ديا تھا۔ مدعيان نے دعويٰ کيا ہے کہ اس مقام پر ہندو ديوتا شرنگر گوري کي تصوير موجود ہے۔ سپريم کورٹ نے ضلع جج کو يہ بھي ہدايت دي تھي کہ وہ گيانواپي مسجد کميٹي کي طرف سے ہندو درخواست گزاروں کے دائر کردہ مقدمے کي برقراري کے بارے ميں دائر درخواست پر ترجيحي بنيادوں پر فيصلہ کريں۔

***

 

***

 ’’اجودھیا کی طرح متھرا اور بنارس میں بھی جھگڑے کی بنیاد حقیقت پر مبنی نہیں ہے، وہ صرف افسانہ پر مبنی ہے۔ ہندتوا کے علم بردار یہ کہتے ہیں کہ گیان واپی مسجد جو کہ کاشی وشوناتھ مندر کے پاس ہے، اس کو ایک مندر کو توڑ کر بنایا گیا تھا۔ مگر اس دعوے کے حق میں ان کے پاس کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔ حتی کہ اس سلسلے میں مہنتوں کے بیانات بھی یکساں نہیں۔ مختلف مہنت مختلف باتیں کہتے ہیں۔ مثلاً پنڈت رام شنکر ترپاٹھی کہتے ہیں کہ اصل مندر رضیہ بیگم کی مسجد کی جگہ تھا، جو کہ گیان واپی مسجد سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ پنڈت کیلاش پتی تیواری گیان واپی مسجد ہی کو قدیم مندر کا اصل مقام بتاتے ہیں، مگر ان کے پاس اس کا کوئی تاریخی ریکارڈ نہیں۔ کچھ اور مہنت یہ کہتے ہیں کہ اصل وشوناتھ مندر وشیشور گنج میں تھا۔ یہ مقام بھی گیان واپی مسجد سے دو کلو میٹر دور ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی رائیں ہیں۔‘‘
( وینکٹیش راما کرشنن کی ایک رپورٹ جو 29 جنوری 1993 کو فرنٹ لائن میں شائع ہوئی)


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  05 جون تا 11 جون  2022