نرملا سیتارامن نے امریکی تھنک ٹینک کے سامنے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی باتیں بے بنیاد ہیں

نئی دہلی، اپریل 11: مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن نے پیر کے روز کہا کہ یہ تاثر کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے کیوں کہ آبادی میں کمیونٹی کی تعداد 1947 سے بڑھی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا سامنا ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو زمینی حقائق کا کوئی علم نہیں ہے۔

سیتا رمن نے یہ بیان واشنگٹن ڈی سی میں تھنک ٹینک پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے ساتھ بات چیت کے دوران دیا۔ انسٹی ٹیوٹ کے صدر ایڈم ایس پوسن نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ مانتی ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات ہندوستان میں سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اس کے جواب میں مرکزی وزیر خزانہ نے ممکنہ سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ ’’آئیں اور دیکھیں کہ ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے بجائے اس کے کہ ان لوگوں کے خیالات کو سنیں جو زمین پر نہیں گئے لیکن رپورٹیں لکھ رہے ہیں۔‘‘

سیتا رمن نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ پڑوسی ملک پاکستان میں اقلیتوں کو ’’تباہ‘‘ کیا گیا ہے۔

مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کا حصہ 1951 میں 9.4 فیصد سے بڑھ کر 2011 میں 14.2 فیصد ہو گیا ہے۔ تاہم مئی میں جاری کیے گئے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-5 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران تمام مذہبی برادریوں میں مسلمانوں میں شرح پیدائش میں سب سے زیادہ کمی آئی ہے۔

سیتارمن نے پوچھا ’’اگر اس کی کوئی حقیقت ہے کہ ان کی [مسلمانوں کی] زندگیاں ریاست کی حمایت سے مشکل بنا دی گئی ہیں، جو ان تحریروں میں سے اکثر میں مضمر ہے، تو میں پوچھوں گی کہ مسلمانوں کی آبادی 1947 کے مقابلے میں کیوں بڑھی ہے؟‘‘

سیتا رمن نے مزید کہا کہ ہندوستان میں امن و امان ریاست کا موضوع ہے اور پولیس فورس ریاستوں میں منتخب حکومتیں چلاتی ہیں۔

سیتا رمن کے ان دعوؤں کے باوجود ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اداروں کی طرف سے کئی رپورٹس میں حالیہ برسوں میں مسلمانوں کے خلاف تشدد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اپریل 2022 میں امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمان فرقہ وارانہ تشدد اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، ماورائے عدالت قتل، پولیس اور جیل حکام کی جانب سے توہین آمیز سلوک یا سزا اور سرکاری حکام کی جانب سے من مانی گرفتاریوں اور حراستوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف قوانین کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا حوالہ دیا گیا تھا۔

نومبر میں بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق ریاستہائے متحدہ کے کمیشن نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مذہبی آزادی اور اس سے متعلق انسانی حقوق کو کئی وجوہات کی بنا پر خطرہ لاحق ہے، جن میں اقلیتوں کے تحفظ میں حکومتی پالیسیوں کی ناکامی بھی شامل ہے۔

پینل نے گذشتہ سال اپریل کی اپنی اس سفارش کا اعادہ کیا تھا کہ ریاستہائے متحدہ کی حکومت کو ہندوستان کو ’’خاص تشویش والے ملک‘‘ کے طور پر نامزد کرنا چاہیے۔

جولائی میں بھارتی حکومت نے اپریل میں بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کو جانبدارانہ اور غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔