’’میرے آئیڈیل ناتھورام گوڈسے‘‘ کے عنوان پر تقریری مقابلہ منعقد کرنے والے گجرات کے ایک سرکاری اہلکار کو معطل کیا گیا

نئی دہلی، فروری 16: گجرات حکومت نے آج ایک پروبیشنری یوتھ ڈیولپمنٹ آفیسر کو ’’میرے آئیڈیل ناتھورام گوڈسے‘‘ کے عنوان پر اسکول کے طلبا کے لیے تقریری مقابلہ منعقد کرنے پر معطل کر دیا۔

گوڈسے نے جنوری 1948 میں مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا تھا اور اگلے سال نومبر میں اسے پھانسی دے دی گئی تھی۔

وزیر داخلہ ہرش سنگھوی کی طرف سے ولساڈ میں پروبیشنری کلاس-2 ڈسٹرکٹ یوتھ ڈیولپمنٹ آفیسر میتا بین گولی کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ولساڈ ضلع کے مقامی اخبارات نے تقریری مقابلے کے نتائج کی اطلاع دی۔ پی ٹی آئی کے مطابق معطلی کا حکم اس کے کچھ گھنٹوں کے اندر ہی جاری کر دیا گیا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پیر کو منعقد ہونے والی تقریب میں اسکول کے طلبا کو تین میں سے ایک موضوع پر بات کرنے کو کہا گیا تھا۔ گوڈسے پر موضوع کے علاوہ باقی دو موضوع یہ تھے: ’’مجھے صرف وہی پرندے پسند ہیں جو آسمان میں اڑتے ہیں‘‘ اور ’’میں سائنس داں بنوں گا لیکن امریکہ نہیں جاؤں گا۔‘‘

حکم نامے میں کہا گیا ’’16 فروری کو اخبارات نے مقابلے کے لیے ایسے متنازعہ موضوع کے انتخاب کے بارے میں خبریں شائع کیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے ایک ذمہ دار سرکاری افسر ہونے کے باوجود مضامین کے انتخاب کے دوران مناسب خیال نہیں رکھا۔ اس لیے عوامی اور انتظامی مفاد میں آپ کو فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے۔‘‘

دی انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق اس تقریب کا انعقاد ضلعی سطح کے ’’بال پرتبھا شودھ سپردھا‘‘ (بچوں کے ٹیلنٹ کی تلاش کے مقابلے) کے ایک حصے کے طور پر ایک پرائیویٹ اسکول کسم ودیالیہ میں کیا گیا تھا۔ یہ ریاستی حکومت کے یوتھ سروس اینڈ کلچرل ایکٹیوٹی ڈیپارٹمنٹ کی پہل کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔

اسکول کے حکام نے کہا کہ انھوں نے صرف اس تقریب کی میزبانی کی تھی اور اس کا اہتمام نہیں کیا تھا۔

کسم ودھیالیہ کی منتظم ارچنا دیسائی نے کہا ’’ہم نے اس مقابلے کے انعقاد کے لیے محکمہ کو صرف اپنے اسکول کا احاطہ فراہم کیا تھا۔ صرف موضوع ہی نہیں، مقابلہ کے لیے ججوں کا انتخاب بھی ولساڈ ضلعی دفتر نے کیا تھا۔‘‘

دریں اثنا گاندھی جی کے پوتے تشار گاندھی نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’نئے ہندوستان میں قاتل ہیرو ہیں‘‘۔ کانگریس لیڈر گورو گوگوئی نے اس معاملے کو ’’حیران کن‘‘ قرار دیا۔

کانگریس کے ایک اور رہنما ارجن مودھواڈیا نے ٹوئٹر پر لکھا کہ گوڈسے کو ہیرو کے طور پر بیان کرنے اور مہاتما گاندھی کے تئیں نفرت پیدا کرنے کی ’’کمزور کوشش‘‘ ’’شرمناک‘‘ تھی۔