اداریہ

دو سال قید و بند میں گزارنے کے بعد سپریم کورٹ نے کیرالا کے صحافی صدیق کپن کی ضمانت منظور کر ہی لی۔ آج سے دو سال قبل اکتوبر 2020 میں صدیق کپن کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اتر پردیش کی پولیس نے ان کو اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ اعلیٰ ذات کے ٹھاکروں کے ہاتھوں ایک دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے دردناک واقعے کی رپورٹنگ کے لیے اتر پردیش کے مقام ہاتھرس جارہے تھے۔ عالمی سطح پر بدنام اس جرم کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پولیس نے مقتولہ کے لواحقین سے اجازت لینا تو دور ان کو اطلاع دیے بغیر ہی اس کی لاش کو رات کے اندھیرے میں نذر آتش کر ڈالا تھا، جبکہ دور دور تک کا میڈیا بھی اس کی گراؤنڈ رپورٹنگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتر پردیش کی پولیس نے صدیق کپن پر انتہائی سخت قوانین کے تحت مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں تشدد بھڑکانے کی سازش کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ ان پر یو اے پی اے کی دفعات 14 اور 17 کے علاوہ قوانین تعزیرات ہند کی دفعات 124 اے (بغاوت) 153 اے (مختلف طبقات میں دشمنی پیداکرنا) 295 اے (مذہبی جذبات بھڑکانا) اور انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کی دفعات 65،72 اور 76 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور پچھلے کم و بیش دو سال سے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے۔ اس دوران وہ جسمانی تشدد اور ذہنی اذیت کا بھی نشانہ بنے۔ اس سے قبل الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ نے ان کی جانب سے داخل کردہ ضمانت کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ کیرالا کے صحافی کا ہاتھرس میں کوئی کام نہیں تھا۔ صدیق کپن نے بالآخر ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تب کہیں جا کر انہیں راحت نصیب ہوئی۔ صدیق کپن کی ضمانت کے مقدمے کی سماعت کے دوران اتر پردیش کے سرکاری وکیل کے دلائل پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ہر فرد کو آزادانہ اظہارِ خیال کا حق حاصل ہے، ممکن ہے کہ وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ مظلوم کو انصاف کی ضرورت ہے اور ان کا مقصد اس مظلوم کے لیے آواز اٹھانا رہا ہو گا۔ کیا یہ قانون کی نظر میں کوئی جرم ہے؟ چیف جسٹس آف انڈیا نے لائیو لا نامی ادارے کے ٹویٹس کے مطابق اتر پردیش حکومت کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل مہیش جیٹھ ملانی کے دلائل پر مختلف سوالات اٹھا کر ان کی دلیلوں کو مسترد کر دیا۔ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں جمہوریت اور آزادی اظہار رائے جیسے بنیادی حقوق اور صحافتی آزادی کے متعلق صورت حال کافی تشویش ناک ہے۔ اتر پردیش حکومت ایک کمزور دلت لڑکی کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ ظلم پر تو کچھ نہیں کر پائی لیکن اس ظلم اور اس کے وابستہ حقائق کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کرنے والے صحافی کی آواز کو بہ جبر دبانے کی ممکنہ حد تک کوشش کر ڈالی۔ گزشتہ ہفتے تیستا سیتلواد کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے بھی سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ عبوری ضمانت اور رہائی کے بعد ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں تیستا سیتلواد نے کہا کہ ‘جبراً کسی کو قیدوبند میں رکھنا اور کسی کو آزادی سے محروم کرنا دراصل اس کے عزت و وقار اور انسانی احترام کو پامال کرنے کے مترادف ہے’۔ ایک جمہوری ملک میں اس طرح کی کیفیت یقیناً باعث شرم ہے۔ تیستا سیتلواد اور صدیق کپن کے کیس میں ایک مماثلت یہ بھی ہے کہ تیستا سیتلواد بھی ایک صحافی ہیں۔ صدیق کپن کی ضمانت کا فیصلہ ملک میں صحافت کی آزادی کے حوالے سے بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ صدیق کپن کی طویل قید پر صحافتی آزادی کے حوالے سے دنیا بھر میں تنقیدیں ہورہی تھیں اور وہ بھارت میں صحافتی آزادی کے گرتے ہوئے معیار کی ایک علامت بن چکے تھے۔ بعض بیماریوں میں مبتلا صدیق کپن کو کورونا سے متاثر ہونے کے باوجود ان کو مکمل علاج سے محروم رکھنے کی چال چلی گئی۔ ان کے حق میں کیرالا ہی سے نہیں دنیا بھر سے آوازیں اٹھتی رہیں۔ چنانچہ کیرالا یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘آزادانہ صحافت پر ہونے والے مسلسل حملوں کے تناظر میں یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے’۔ صحافت کو کسی بھی جمہوری ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ غیر جمہوری و مطلق العنان حکومتوں میں صحافت و ذرائع ابلاغ کا نظام آزاد نہیں بلکہ مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہوتا ہے جسے وہ اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ وہ میڈیا کے ذریعے ملک میں اپنی حمایت کا مصنوعی ماحول فروغ دیتے ہیں۔ عوام کو حقیقی صورت حال سے بے گانہ رکھتے ہیں، کیوں کہ اسی میں ان کے اقتدار کی بقا ہوتی ہے۔ لیکن جمہوری ممالک میں ذرائع ابلاغ کے نظام کا ڈھانچہ، اس پر کنٹرول کا طریقہ اور اس کے ضوابط ملک کے مجموعی مفادات کو سامنے رکھ کر تشکیل دیے جاتے ہیں، حکومت چاہے جس سیاسی جماعت کی ہو لیکن میڈیا و صحافت آزادی کے ساتھ اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ وہ حکومت سے سوال کریں، ان کے غلط اقدامات پر تنقید کریں اور عوام کو ان سے واقف کروائیں، اسی میں ایک جمہوری ریاست کی بقا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے صحافت نے اپنا یہ فرض منصبی فراموش کر دیا ہے، لیکن وقفے وقفے سے بعض فرض شناس صحافی اپنی موجودگی سے اہل ملک اور صاحب اقتدار لوگوں کو یہ یاد دلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ صحافت کا اصل کام کیا ہے۔ اہل ملک کو ایسے صحافیوں اور ایسے افراد کی قدر کرنی چاہیے نہ کہ ان کو اذیتیں دی جائیں؟ کیوں کہ ان ہی کے دم سے جمہوریت میں سوال کرنے کا ماحول باقی ہے۔

 

***


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  11 ستمبر تا 17 ستمبر 2022