ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
تاریخ میں پہلی بار دنیا کے تین ارب انسان گھروں میں محصور
اس خبر کو شائع کر کے صحافتی ضابطوں کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔خبر لکھتے وقت صحافی کو پولیس کے موقف کو پولیس کے حوالے سے لکھنا چاہیے تھااور ساتھ ہی ملزم کےموقف کو بھی شامل کرنا چاہیے تھا۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ صحافیوں کو اس سے کچھ مطلب نہیں کہ تبلیغی جماعت کا موقف کیا ہے۔
کورونا ایک مہلک اور خطرناک مرض ہے۔ جو لوگ اس میں مبتلا ہو گئے ہیں وہ نفرت کے نہیں ،بلکہ ہم دردی کے مستحق ہیں۔ یہ الزام تراشی کا موقع نہیں کہ کس نے اس مرض کو پھیلایا ؟اور کون قصور وار ہے؟بلکہ سب کو مل کر اسے قابو میں کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جن لوگوں کے بارے میں اندیشہ ہو کہ کسی پروگرام میں شرکت کے نتیجے میں ان میں یہ وائرس پایا جا سکتا ہے انہیں خود آگے بڑھ کر اپنا چیک اپ کروانا چاہیے اور ضرورت ہو تو متعینہ مدت تک قرنطینہ میں رہنا چاہیے۔ اسے چھپانا دینی اعتبار سے بھی درست نہیں ہے اور ملکی قانون
جس طرح یہ گورنمنٹ مسلمانوں کی دوسری جماعتوں اور اداروں کے بارے میں صحیح معلومات نہیں رکھتی اُسی طرح تبلیغی جماعت کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتی حالانکہ وہ کھلی کتاب ہے۔تبلیغی جماعت صرف مسلمانوں میں دین کا کام کرتی ہے ان تک اسلامی احکام پہنچاتی ہے ان کی اصلاح اور ان کی نمازیں درست کرکے انہیں اِسی کام پر لگاتی ہے۔ ایک طرح سے یہ ملک اور دنیا کی سب سے بڑی این جی او ہے۔ مگر نادانوں کی حکومت نے اُسی پر اپنا ناپاک سایہ ڈال دیا۔ اس کے امیر اور کچھ دیگر ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ تب
ان تماشوں کو سیدھے تہذیبی قوم پرستی سےجوڑ کر دیکھا جائے تو بات زیادہ آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے، جب تہذیبی قوم پرستی سرکاری ایجنڈے کا حصہ بن جاتی ہے تو اسے جنگ اور امن تمام حالتوں میں ملک کے سبھی مذہبی اقوام پر قصدا مسلط کیا جانے لگتا ہے۔
اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کی بعض بڑی جماعتیں عدالت پہنچی ہیں، اس عمل کو مزید وسعت دینے اور منظم طریقے پر انجام دینے کی ضرورت ہے۔ اروناچل پردیش اور اتر پردیش کے حوالے سے جعلی خبروں کو نشر کرنے والوں کی معذرت ’’نفرت کے خلاف جنگ‘‘ کو کمزور کرنے کا سبب نہیں بن سکتی۔ ان کے خلاف مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اور اس ذہنیت پرضربِ کاری لگانا ضروری ہو گیا ہے۔
ٹرمپ کی تنبیہ کا اثر یہ ہوا کہ ہندوستان نے کلوروکوین کے ساتھ تقریباً 25 ادویات پر لگی برآمدات کی پابندی اٹھالی۔ مرکزی کامرس اینڈ انڈسٹری کی وزارت نے مدافعتی مزاحمت میں اضافہ کرنے اور درد کَش ادویات کے علاوہ وٹامن کی برآمدات کا راستہ بھی صاف کر دیا
پیدل سینکڑوں میل کا سفرطئے کرکے اپنےآبائی وطن کے قریب پہنچنے ہی والے تھےکہ انہیں قیدوبند کی مشقتیں دی گئیں اورریاستی حکومت کےپاس کوئی حکمت عملی بھی نہیں تھی، گویا آگے کھائی اورپیچھےکنواں ہو،اب انسان کرےتوکیاکرے،ساری امنگیں ٹوٹ گئیں، سارے جذبے بکھر گیے اورساری توانائی ختم ہوگئی، بس روناتھا، بلکنا تھا اورگڑگڑاناتھا۔

