ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
شمارہ 4 تا 10 اکتوبر 2020 - ہفت روزہ دعوت
ہفت روزہ دعوتعدالتوں کے فیصلے آتے رہیں گے اور عدالت کی کرسی پر بیٹھے افراد بھی آتے اور جاتے رہیں گے اس لیے مایوس کن ماحول میں بھی مایوس ہونا خدائے واحد پر یقین رکھنے والی ایک موحد قوم کو کسی طرح زیب نہیں دیتا۔ قومیں ایسے ہی حالات میں نکھرتی اور آزمائش کی بھٹیوں میں تپ کر کھری ہوتی ہیں۔ اگر یہاں کے مسلمان اپنے مشن کے ساتھ زندہ رہنے پر ڈٹ جائیں تو نہ تو کوئی حکومت ان کا وجود مٹا سکتی ہے اور نہ کسی عدالت کا کوئی فیصلہ انھیں حرف غلط کی طرح ختم کر سکتا ہے۔
ہفت روزہ دعوتاگر مندر تحریک کی مدد سے ہندتوا طاقتوں نےلوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا ہوتا تو بھگوا سیاسی جماعت شاید دلی کےاقتدارتک نہیں پہنچ پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ بھگوا طاقتیں مندر مسجد کے مسئلےکو حل کرنے سےزیادہ سیاست کرنا چاہتی تھیں۔ \nان کا بابری مسجد کا تجربہ اب بنارس اور متھرا میں دہرایا جا سکتا ہے۔
ہفت روزہ دعوتاقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی پر دباؤ ڈالے کہ وہ یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو برطرف کر دیں۔حالانکہ وزیر اعلیٰ فی الحال تو اپنے موقف سے ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں الٹے ملک اور ریاست میں بدامنی پھیلانے کی سازش رچنے کا الزام حزبِ اختلاف کے سر تھوپ رہے ہیں۔ بقول ان کے اپوزیشن کو ان کا وکاس وترقی ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ حد تو یہ کہ ہاتھرس کی آڑ میں ذات و طبقات کے تصادم کی بین الاقوامی سازش کے الزام میں ایک شکایت یوپی پولیس نے درج کر دی ہے۔ درآنحالیکہ ہاتھرس کی بدنامی کا جہا
ہفت روزہ دعوتکیریئر گائڈنس: آج ہمارے لیے سِول سروسز کیوں ضروری ہیں؟
ہفت روزہ دعوتیہ بھی ضروری ہے کہ اس ’’خیر‘‘اور” معروف‘‘ کی طرف دوسروں کو بھی بلایا جائے جس کو خود قبول کیا گیا ہے، اور اس”منکر” کو اپنے مقدور بھرمٹا ڈالنے کی مسلسل کوشش جاری رکھی جائے جس کو خود ترک کیا گیا ہے۔
ہفت روزہ دعوتآج فرد کی سطح پر ہر انسان سکون کی تلاش میں ہے جسے وہ اسلام کے سچے عقیدے ہی میں پا سکتا ہے۔ آج ملک جن اجتماعی مصائب کا شکار ہے اس سے چھٹکارے کے لیے اسلام ہی مکمل حل پیش کرتا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دنیا کے سامنے ان کے ایک ایک مسئلے کا اسلامی حل پیش کریں
ہفت روزہ دعوت
ہفت روزہ دعوتحکومت کا یہ کہنا غلط ہے کہ اس بل کے ذریعہ سے کسان اپنی پیداوار کسی کو بھی فرخت کر سکتے ہیں اور اسے ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ انہیں یہ حق اس بل سے پہلے بھی حاصل تھا بلکہ اس کے برعکس اس بل سے کارپوریٹس کو اور سرمایہ داروں کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ لا محدود مقدار میں کسی روک ٹوک کے بغیر ذخیرہ اندوزی کر سکتے ہیں۔
ہفت روزہ دعوتخود کو عقلِ کُل سمجھنے والے صدر ٹرمپ ان باتوں پر کان نہیں دھرتے۔ 31 جولائی کو امریکی صدر نے بائٹ ڈانس کو متنبہ کیا کہ اگر اس نے اپنے ذیلی ادارے ٹک ٹاک کی امریکی شاخ مقامی سرمایہ کاروں کے ہاتھ فروخت نہ کی تو اس پر صدراتی حکم کے ذریعے پابندی لگا دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کی یہ دھمکی آزادی اظہار رائے پر حملے کے ساتھ آزادانہ تجارت کے اصولوں کے بھی خلاف تھی۔ آزاد تجارت سرمایہ دارانہ معیشت کی روح ہے اور امریکہ کے قدامت پسند بہت فخر سے کہتے پھرتے ہیں کہ حکومت تو بس دیانتدار ریفری ہے اور کاروبار تاجروں کا

