ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے، بہت غلط ہورہا ہے۔ حکومت ہند اپنے پاور کا غلط استعمال کررہی ہے۔ گجرات میں ان کی ایک پرانی تاریخ رہی ہے۔ وہاں انہوں نے دن کو رات اور رات کو دن کردیا تھا۔ گجرات فسادات کے سارے ملزمین باہر کردیے۔ جن لوگوں نے لوگوں کو زندہ جلایا تھا وہ سب لوگ جیلوں کے باہر ہیں۔ \r\nظفر الاسلام
ان کو اطمینان ہے کہ زہر افشانی سے اگر ملک میں آگ بھی لگ جائے تو حکومت ان کی حفاظت وائی سے بڑھا کر زیڈپلس کردے گی۔ عام صحافی کورونا وائرس کا شکار ہوتے رہیں گے جیسا کہ ممبئی میں پچاس اس سے متاثر پائے گئے ہیں لیکن ان بدمعاشوں کا بال بیکا نہیں ہوگا ۔ عدالت ان کو پیشگی ضمانت سے نواز دے گی اور حکومت اشتہار کی شکل میں پیشگی دولت نچھاور کرتی رہے گی
احتیاطی تدابیر سے انکار نہیں۔ حکومت نے جو کچھ کیا ضروری تھا۔ دوسرے ممالک بھی یہی کررہے ہیں۔ مگر ہمارے یہاں زیادہ زور سماجی دوری پر دیا گیا ٹیسٹنگ اور دواوں پر توجہ نہیں دی گئی۔ جو سماجی مسائل پیدا ہوگئے ہیں ان کا ذکر محض رسماً کیا گیا عملاً ان پر توجہ نہیں دی گئی۔ شہروں میں موجود دیہات اور قصبات کی آبادیوں کی منتقلی کا تو نام بھی نہیں لیا گیا۔ ان کی بے روزگاری اور اس سے پیدا ہونے والی بھوک پیاس، گاوں میں ان کے متعلقین کے مصائب کا نہ تو مرکزی حکومت کو احساس ہے نہ ریاستی حکومتوں کو۔
بعد از لاک ڈاؤن ہر شعبے میں بحران کا امکان ہے۔ چاہے زراعت ہو یا صنعت وحرفت، تجارت ہو یا آئی ٹی کوئی شعبہ بحران کے خدشے سے عاری نہیں ہے۔ عام شہریوں پر ہونے والے اس کے مضر اثرات کا پتہ چلنے کے بعد، اس بحران کے مہلک اثرات اور اس کی حقیقت کے علم میں آنے کے بعد ارباب مجاز اس سلسلہ میں درکار خاطر خواہ منصوبہ بندی کریں اور نجی ادارے وغیرہ اس ضمن میں بھرپور تعاون کریں۔
یہ ایک انتہائی بد دیانتی کی بات ہے کہ ایک مقصد کے لیے حاصل کیا ہوا ڈیٹا کئی دوسری ضروریات کے لیے باشندوں کی اجازت اور اطلاع کے بغیر استعمال میں لایا جا رہا ہے۔
ہم بھی آج کل گھر کی تنہائیوں میں وقت گزار رہے ہیں۔ یہ ایام قرآن کو سمجھنے اور اس کا مطالعہ کرنے میں بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں
جماعت اسلامی ہند کے دستور میں یہ بات وضاحت کے ساتھ درج ہے کہ قرآن وسنت ہی جماعت کی اساسِ کار ہوں گے۔ اسی لیے جماعت اسلامی لوگوں کو قرآن وسنت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ وہ زندگی کے تمام معاملات کی طرح تربیت کے معاملے میں بھی انہی دو سر چشموں سے استفادہ کریں اور اسی سے رہنمائی حاصل کریں۔ جماعت اپنے رفیقوں، کارکنوں، ہمدردوں اور وابستگان کو یہ تاکید کرتی ہے کہ وہ قرآن وسنت سے براہ راست رہنمائی حاصل کریں۔
سی آئی آئی نے کہا ہے کہ موجودہ چیلنجنگ اور مشکل حالت میں صنعتی تگ و دو کو مرکزی حکومت ریاستی حکومت، مقامی انتظامیہ اور صنعت کاروں کے درمیان تال میل بناکر شروع کیا جاسکتا ہے۔ سی آئی آئی نے تمام صنعتوں کو تین شعبوں میں تقسیم کیا ہے اور انہیں ترجیحی بنیاد پرکھولنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ تکلیف دہ معاشی سستی آنے سے قبل کل کارخانوں کو احتیاط کے ساتھ شروع کیا جائے اور بیروزگاروں کو روزگار فراہم ہوسکے۔

